پروفیسر آفاق احمد اپنی ذات میں انجمن تھے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

قومی اردو کونسل میں پروفیسر آفاق احمد کے انتقال پر تعزیتی نشست

Irteza Karimنئی دہلی: اردو کے معروف ادیب، ناقد اور محقق پروفیسر آفاق احمد کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر آفاق احمد وضع دار، مخلص اور ملنسار شخص تھے۔بھوپال ہی نہیں بلکہ پوری اردو دنیا میں وہ اپنے علمی قد و قامت کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ تحقیق و تنقید، خاص طور پر اقبال شناسی کے باب میں ان کا کام قابل قدر ہے۔ ان کی کتابیں اقبال آئینہ خانے میں اور مجلس اقبال سیریز بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کی کتابوں میں پریم چند شناسی، مدھیہ پردیش میں اردو زبان و ادب، مجلس ممنون، نگارشات (حکیم قمرالحسن کی تحریروں کا مجموعہ)، اور ملا رموزی کی غیرمطبوعہ تحریروں کا انتخاب اہم ہیں۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کی شخصیت بڑی متنوع تھی۔ انھوں نے افسانے بھی لکھے،غزلیں اور نظمیں بھی کہیں۔ ان کے افسانوں کے ترجمے انگریزی، ہندی، سندھی اور پنجابی میں بھی ہوئے ہیں۔ تدریس کے علاوہ ان کے اندر بے پناہ تنظیمی صلاحیت تھی۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی، آل انڈیا علامہ اقبال ادبی مرکز بھوپال اور گورنمنٹ سندھی ساہتیہ اکادمی کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض بخوبی انجام دیے۔ انھیں ملکی اور غیرملکی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کی شخصیت بڑی متحرک اور فعال تھی۔ وہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں دلجمعی سے حصہ لیتے تھے۔ ان کی ذات ایک انجمن تھی۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر نے کہا کہ پروفیسر آفاق احمد کی رحلت سے اردو دنیا ایک مرنجاں مرنج اور باغ و بہار شخصیت سے محروم ہوگئی۔
قومی اردو کونسل کی اس تعزیتی میٹنگ میں وائس چیئرمین پدم شری مظفر حسین، پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، انجم عثمانی، ایم جے خالد، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسرشاہنواز خرم، ڈاکٹر عبدالرشید اعظمی کے علاوہ کونسل کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *