پروفیسر شہپر رسول بنے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کے نئے صدر

نئی دہلی،۱۵؍فروری
ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول نے آج بطور صدرشعبۂ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنی ذمہ داری سنبھال لی۔ واضح ہو کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے پروفیسر شہپر رسول کو تین سال کے لیے شعبۂ اردو کے صدر shehparکے منصب پر نامزد کیا ہے۔ پروفیسر شہپر رسول گذشتہ چالیس برسوں سے ادبی، شعری اور تنقیدی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۷؍اکتوبر ۱۹۵۶ء کو بچھراؤں، ضلع امروہہ، اتر پردیش میں ہوئی ۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ ’’اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد‘‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں مکمل کیا۔ ان کی تخلیقی و تنقیدی کاوشیں ’’صدف سمندر‘‘(۱۹۸۸)، ’’پیمانۂ صفات (۱۹۹۵) ،’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘(۱۹۹۹)، ’’چشم دروں‘‘(۲۰۰۰)، ’’سخن سراب‘‘(۲۰۰۲)، ’’نقش و رنگ‘‘(۲۰۰۷)، ’’کارنامۂ شوق‘‘(۲۰۰۹) شائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونی ملکوں میں بھی متعدد مشاعروں اور سمیناروں میں شرکت کی ہے۔ ان کی شعری و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات و انعامات سے بھی نوازا گیا جن میں رسالہ ’’نیا سفر‘‘ دہلی کی جانب سے ’’جوش ملیح آبادی ایوارڈ‘‘ اورچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کی جانب سے ’’سر سید ایوارڈ‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کی کتابوں پر دہلی اردو اکاڈمی، مغربی بنگال اردو اکاڈمی اور اتر پردیش اردواکاڈمی نے انعامات بھی دیے ہیں۔شعبۂ اردو کا صدر بنائے جانے پر پروفیسر شہپر رسول کو مختلف شعبوں کے اساتذہ، ریسرچ اسکالروں اور طلبا و طالبات نے مبارکباددی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *