ترقی پسند تحریک اور اردو ناول

Md. Khushtarمحمد خوشتر

 

اردو ادب خاص طور سے اردو نثر علی گڑھ تحریک کے بعد ترقی پسند تحریک کے احسان سے بے حد گراں بار ہے۔ ترقی پسند تحریک نے جوادب کی خدمات انجام دی، وہ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ ترقی پسند تحریک نے محنت کش انسانوں کو ادب کا ہیرو بنایا اور شہزادے کے سر سے تاج اتار کر مزدور کے سر پر سجاد یا۔ اس تحریک کے ذریعہ ہمارے ادب میں کھیتوں اور کھلیانوں کی سوندھی خوشبو بس گئی اور کسان ومزدور کا پسینہ اس کی طراوت کا سامان بن گیا۔ یہاں اس تحریک کو تاریخ عالم کے پس منظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ کارلؔ مارکس مشہور جرمن مفکر تھا۔ اس نے محنت اورسرمایہ کے مسائل پر غور کیا اور اپنے افکار اپنی معرکہ آرا تصنیف’’سرمایہ‘‘ میں پیش کیا۔اس نے سرمایہ دار کو ظالم اور مزدور کو مظلوم قرار دیا، کیونکہ محنت کش یعنی مزدور کو سرمایہ دار پیداوار میں اس کا حصہ نہیں دیتا حالانکہ پیداوار میں اس کی محنت کو سرمایہ سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ کارل مارکس کے نزدیک دولت کی یہ غیر مساوی یعنی نابرابر تقسیم ہی دنیاکی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ لینن ایک بلند حوصلہ بیباک روسی رہنما تھا۔ اس نے محنت کشوں کی رہنمائی کا حق ادا کیا۔ اس زمانے میں روسی بادشاہ زار کی زیادتیاں انتہاء کو پہنچ کی تھیں۔ اس لیے وہاں کارل مارکس کے افکار کا گہرا اثر ہوا۔ لینن اور پلیخوف خاص طور پر مارکس سے متاثر ہوئے۔ آخر کار محنت کشوں نے متحدہو کر ۱۹۱۷ء میں زار روسی کی قوت کو شکست دے دی اورحکومت کی باگ ڈور خود سنبھال لی۔ حکمراں جماعت کا نیانام’’روسی کمیونسٹ پارٹی‘‘ قرار پایا۔ اس انقلاب نے ساری دنیا پر یہ حقیقت روشن کر دی کہ مشقت کرنے والے فولادی ہاتھ اگرایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوں تو ظالموں کی مضبوط سے مضبوط حکومت بھی ان آگے ٹھہر نہیں سکتی۔۱۹۳۳ء میں ہٹلر کے آمرانہ رویہ نے دنیا بھر کے دانشوروں اور ادیبوں کو جو عام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ حساس اور نبض شناس ہوتے ہیں ،یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب مظلوموں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے۔

اس زمانے میں کچھ دردمند محب وطن ہندوستانی نوجوان لندن میں زیر تعلیم تھے۔ ان میں چنداہم حضرات کے نام ہیں: سجاد ظہیر، ملک راج آنند، جیوتی گھوش، پرمودسین گپتا اور محمد دین تاثیر۔ انہوں نے آپس میں مل کر باربار غور و فکر کیا کہ ان حالات میں ہندوستان کے ادیب اور دانشو رکس طرح اپنا فرض پورا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے لندن میں ہم خیال دوستوں کو متحد کیا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے نام سے لندن میں ایک انجمن قائم ہوئی۔ اس کی طرف سے ایک اعلان نامہ بھی شائع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اب پرانے خیالات کی جڑیں ہل رہی ہیں اور ایک نیا سماج جنم لے رہا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی ادیبوں کا فرض ہے کہ اس تبدیلی کو اپنی تحریروں کے ذریعہ اجاگر کریں اور ملک کو ترقی کے راستے پر لانے میں مدد دیں۔ ادب کو عوام کے نزدیک لائیں، اس میں حقیقت کا رنگ بھریں، اسی کو ہم ترقی پسند کہتے ہیں۔ یہ اعلان نامہ ہندوستان کے بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھیجا گیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ اسے ملک میں عام کریں۔ اسی سال سجاد ظہیر بھی تعلیم مکمل کرکے ہندوستان لوٹ آئے جس سے انجمن کی سرگرمیاں اور بھی تیزہوگئیں۔ الہ آباد یونیورسٹی میں احمد علی انگریزی کے لکچرر تھے ۔ان کا گھر انجمن کادفتر بن گیا۔ ادھر حیدرآباد میں سبط حسن اور بنگال میں ہیرن مکھرجی نے ادب کی اس ترقی پسند تحریک کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر راجندر نے ہندوستان اکادمی الہ آباد کی طرف سے اردو ہندی کے ادیبوں کی ایک کانفرنس بلائی جس میں ترقی پسند مصنفوں کی انجمن کا تعارف کرایا گیا۔ اس کانفرنس میں پریم چند، مولوی عبدالحق، جوش ملیح آبادی اور دوسرے بلند پایہ ادیب اور شاعر موجود تھے۔ مناسب سمجھا گیا کہ انجمن کے اعلان نامہ پر مختلف زبانوں کے عالموں اور ادیبوں کے دستخط کرائے جائیں۔ لوگوں نے بخوشی اس پر دستخط کردیے جس سے انجمن کو تقویت حاصل ہوئی۔۱۹۳۶ء میں لکھنؤ میں انجمن کی ایک کل ہند کانفرنس ہوئی۔ پریم چند نے خطبۂ صدارت پیش کیا۔ مولانا حسرت موہانی، کملادیوی چٹوپادھیائے اور دیگر اہل علم نے تقریریں کیں۔ سجاد ظہیر انجمن کے سکریٹری مقرر ہوئے۔ اس کانفرنس میں انجمن کے دستور اساسی کو منظوری دی گئی۔ اس کے بعد ملک میں جابجا انجمن کے جلسے اور کانفرنسیں ہوتی رہیں اور ترقی پسندوں کا یہ کارواں قدم سے قدم ملا کر اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔ کرشن چندر،سعادت حسن منٹو، راجندرسنگھ بیدی، عصمت چغتائی، حیات اللہ انصاری ، اوپندرناتھ اشک ،بلونت سنگھ وغیرہ اس تحریک کے زیر اثر افسانے اور ناول وغیرہ لکھتے رہے۔اسرارالحق مجاز، معین احسن جذبی ، فیض احمد فیض، اخترانصاری، فراق گورکھپوری، مخدوم محی الدین، علی سردار جعفری ، مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی، احمد ندیم قاسمی، اخترالایمان ،ساحرلدھیانوی اور پرویز مشاہدی وغیرہ انجمن ترقی پسند تحریک کے پرچم تلے شاعری کر رہے تھے۔ سجاد ظہیر ، اخترحسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری، ڈاکٹر عبدالعلیم، آل احمد سرور، احتشام حسین، عزیز احمد ، ممتاز حسین، جیسے نقادوں نے تنقیدی مضامین کے ذریعہ تحریک کے خدوخال نمایاں کرنے کی اہم ذمہ داری قبول کی۔ احمد ندیم قاسمی ،سردار جعفری، فراق اور فیض تخلیق کار تھے مگر انہوں نے بھی تنقیدنگاری کی طرف توجہ کی۔
اردو ناول اردو داستان کی ایک ارتقائی شکل ہے اور اسی کی کوکھ سے اس نے جنم لیا ہے مگر ہمارے ادب پر مغرب کا بھی احسان ہے کہ ہمارے بزرگ ادیبوں کی نگاہیں ادھر اٹھیں اور انہوں نے مغربی ادب سے کسب فیض کیا۔
پریم چند کے زمانے میں ہی ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوگیا تھا۔ اس تحریک نے محنت کشوں کے مسائل کو ادب میں داخل کیااور زندگی سے ادب کا رشتہ مستحکم کیا۔ اس تحریک کے زیر اثر جو ناول لکھے گئے ان میں سجاد ظہیر کا ’’لندن کی ایک رات‘‘، قاضی عبدالغفار کا’’ لیلیٰ کے خطوط‘‘ عصمت چغتائی کا ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ ،قرۃ العین حیدر کا ’’ آگ کا دریا‘‘،کرشن چندرکا’’ شکست‘‘ اور عزیز احمد کا’’ گریز ‘‘قابل ذکر ہیں۔ عزیز احمد نے کرداروں کی ذہنی کشمکش کوبڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔ قاضی عبدالغفار نے بھی یہی انداز اختیار کیا۔عصمت نے بھی تحلیل نفسی کا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے متوسط مسلمان گھرانوں کے لڑکے لڑکیوں کے جنسی مسائل کا انتخاب کیا۔ کرشن چندر نے زیادہ جوش و خروش سے اشتراکی خیالات کا پرچار کیا۔ اسی دور میں عزیز احمد نے ایسی بلندی ایسی پستی ،گریز اور ہوس جیسے کامیاب ناول لکھے۔ قرۃ العین حیدر نے مغربی ادب کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے اردو ناول کو ایک نئی تکنیک’’شعور کی رو‘‘ سے روشناس کیا۔ آگ کا دریا، میرے بھی صنم خانے، آخر شب کے ہم سفر، چاندنی بیگم، گردش رنگ چمن عینی آپاکے مقبول عوام و خواص ناول ہیں۔ اردو ناول کے نقطۂ نظر سے موجودہ دور خاص طورپر زرخیز دور ہے۔تقسیم ملک کے بعد نئی سرحدوں کی دونوں طرف کشت و خون کا جوبازار گرم ہوا۔ اس نے فنکاروں کو ہلاکے رکھ دیا۔ ان کی تخلیقات میں اس خونیں داستان نے جگہ پائی۔ یہ دائرہ پھیلتا گیا اور عہد حاضر کے مسائل و مصائب ناول پر حاوی ہوتے گئے۔ انداز پیشکش بھی بدلا۔ انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی کشمکش رفتہ رفتہ اردو ناول میں زیادہ جگہ پاتی گئیں اور فن میں زیادہ گہرائی آتی گئی۔ اس دور میں عبداللہ حسین کا ’’اداس نسلیں، اور’’باگھ‘‘، شوکت صدیقی کا ’’خدا کی بستی‘‘، خدیجہ مستور کا ’’آنگن‘‘حیات اللہ انصاری کا ’’لہوکے پھول‘‘ راجندربیدی کا’’ایک چادر میلی سی‘‘ بلونت سنگھ کا’’ معمولی لڑکی‘‘،قاضی عبدالستار کا’’شب گزیدہ‘‘ ،مہندرناتھ کا’’ارمانوں کی سیج‘‘ جمیلہ ہاشمی کا’’ تلاش بہاراں، اور’’ روحی‘‘، جیلانی بانو کا’’ایوان غزل‘‘ انورسجاد کا ’’خوشیوں کا باغ‘‘ انتظار حسین کا’’بستی‘‘سلیم اختر کا ’’ضبط کی دیوار‘‘ جیسے معرکہ آرا ناول وجودمیں آئے۔
ترقی پسند تحریک کی کل ہند کانفرنس کی صدارت پریم چند نے کی تھی۔ اگر ان کو اس تحریک میں شامل کر لیا جائے تو آپ کے ناول کے بارے میں لکھناہی بہت سے صفحات کو رنگین کرنا ہے۔ الغرض پریم چندنے بہت ہی عمدہ اور صاف ستھرا ماحول کی عکاسی کے لیے ناول لکھے جواصناف ناول میں عظیم کارنامہ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ آپ کے شہرت یافتہ ناولوں میں سے گؤدان، میدان عمل، بازار حسن، گوشۂ عافیت، چوگان ہستی ہیں۔ پریم چند نے فن ناول کو نئے رنگ و آہنگ سے آشنا کیا اور اپنے ناول میں حقیقت نگاری اور دیہاتی زندگی پیش کر کے اردو ناول کے دامن کو وسعت دی۔
ترقی پسند تحریک کی ایک اہم ناول نگار عصمت چغتائی ہیں۔ عصمت نے کئی مشہور و کامیاب ناول تحریر کیا ۔ عصمت کے ناول کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نفسیات کی کشمکش کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ نفسیات کا مطالعہ شروع سے عصمت کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ اس موضوع پر انہوں نے بہت سی کتابیں پڑھیں اور عملی زندگی میں انسانوں کی نفسیات پر غور کیا۔ خود ایک جگہ تحریر کرتی ہیں کہ لکھنے کے لیے میں نے دنیا کی عظیم ترین کتاب یعنی زندگی کو پڑھا ہے اور اسے بے حد دلچسپ و مؤثر پایا ہے۔ نفسیات کے علم سے عصمت نے کتنا فائدہ اٹھایا اور اپنے ناولوں میں کتنے کرداروں کا نفسیاتی مطالعہ کامیابی کے ساتھ پیش کیا، یہ دیکھنا ہو تو عصمت کے ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس میں کئی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ نظر آتا ہے۔
ان میں سے سب سے اہم کردار شمن ہے۔ یہ ناول شمن کی ذہنی الجھنوں اور ان الجھنوں سے پیدا ہونے والے نتائج کی داستان ہے۔ جنسی حقیقت نگاری عصمت کے ناولوں اور افسانوں کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ انہوں نے جنسی مسائل کو عام طورپر موضوع بنایا اور بے باکی سے ان پر لکھا۔ ان پر باربار فحاشی اور عریانی کے الزام میں مقدمے چلے، جنسی مسائل سے آگہی تو انہیں کم عمری میں ہی حاصل ہوگئی تھیں۔ ان کے بچپن میں محلے کی عورتیں دوپہر کو جمع ہو کر راز کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ اس زمانے کے گھٹے ہوئے ماحول کی عورتیں جنس کے علاوہ اور کس موضوع پر گفتگو کرسکتی تھیں۔ لڑکیوں کو پاس پھٹکنے کی اجازت نہیں تھی مگر نوعمر عصمت کو ان باتوں میں بہت دلچسپی تھی۔ پلنگ کے نیچے چھپ کر ، کواڑکی اوٹ میں کھڑے ہو کر وہ یہ سب سن ہی لیتی تھیں۔ بچپن کے اس دور میں دوسری تربیت جو عصمت نے حاصل کی وہ بے باکی اور صاف گوئی کی تھی۔ جب ہمارے ملک میں جدید تعلیم اور مغربی تہذیب کے اثر سے کسی تجربے کے جڑپکڑ لینے سے جھوٹی مذہبیت اور مصنوعی اخلاق کی گرفت ڈھیلی پڑی تو جنسی معاملات پر اظہار خیال کا رجحان عام ہوا۔ یہ بھی احساس ہوا کہ جنسی جذبات پر توجہ کیے بغیر انسانی ذہن کی گرہیں نہیں کھولی جاسکتیں۔ گویا نفسیات اور جنسیات کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ اس طرح اردو میں جنسی حقیقت نگاری کا آغاز ہوا۔ انگارے کے افسانہ نگاروں کے بعد وادئ پر خار میں قدم رکھنے والے ہمارے پہلے بڑے فنکار منٹو اور عصمت تھے۔ دونوں پر فحاشی کے الزام میں مقدمے چلائے گئے لیکن آخر کار اہل نظر کو اعتراف کرنا پڑا کہ دونوں حق بجانب تھے۔ عصمت کی زبان ان کے ناول کی دلکشی کا سب سے بڑاسبب ہے۔ جس طبقے کو انہوں نے اپنی تخلیقات کا خاص طورپر موضوع بنایا، اس طبقے کی زبان پر بھی انہیں پوری دسترس حاصل تھی۔ عورتوں کی زبان پر ان کی قدرت بے مثال ہے، یہ زبان انہوں نے اپنے خاندان سے اور کچھ علی گڑھ میں تعلیم کے دوران کالج کی لڑکیوں سے سیکھی ۔ آخر صاف ستھری زبان، ایسی اجلی جیسے ابھی شبنم میں نہا کر نکلی ہو، خاص طور پر عورتوں کی زبان اس طرح ان کے دائرۂ اختیار میں آگئی کہ جس طرح چاہیں استعمال کریں اور اپنے فن کو چار چاند لگائیں۔ ان کے مشہور ناول ٹیڑھی لکیر پر کچھ تبصرہ حاضر خدمت ہے : ٹیڑھی لکیر کو عصمت کے فن کی معراج کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایک کامیاب نفسیاتی ناول ہے جو ’’ضدی ‘‘ کے تین سال بعد۱۹۴۴ء میں تحریر کیا گیا۔ شمن اس کا مرکزی کردار ہے۔ حالات نے پے درپے اس لڑکی کو ایسے چر کے لگائے کہ اس کے مزاج میں ٹیڑھی پیدا ہوگئی اور اس کی فطرت مسخ ہو کر رہ گئی۔ شمن اپنے ماں باپ کی دسویں بیٹی ہے۔ اس کی پیدائش پر سب کو غم ہوتا ہے کہ بدبخت لڑکیوں نے بس یہی ایک گھر دیکھ لیا ہے۔ بے توجہی سے اس کی پرورش ہوتی ہے جس سے وہ محرومی اور تنہائی کے کرب میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ تخریبی عناصر اس کے ذہن میں سراٹھانے لگتے ہیں۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ چیزوں کو توڑے پھوڑے اور جو سامنے آئے اسے پیٹ ڈالے۔ شمن کی بڑی بہن بیوہ ہو کر اپنی بیٹی نوری کے ساتھ باپ کے گھر آجاتی ہے۔ اس بچی کو شمن سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے شمن کے دل میں نفرت کے شدید جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسکول میں شمن کو ایک استانی مس چرن سے واسطہ پڑتا ہے۔ وہ ہم جنسی کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس کے بعد رسول فاطمہ اور نجمہ سے اس کی دوستی ہوتی ہے۔ یہ دونوں بھی اسی لعنت میں گرفتار ہیں۔چھوت کا یہ مرض آخر شمن کو بھی لگ ہی جاتا ہے۔ آخر بلقیس اسے بتاتی ہے کہ لڑکیوں کو لڑکوں پرمرنا چاہیے تو وہ بلقیس کے بھائی رشید پر مرنے لگتی ہے مگر وہ ایک امیر زادی پر مرمٹتا ہے۔ ایک بار پھر شدید تنہائی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور شمن پھر نفرت کی آگ میں دہکنے لگتی ہے۔ کالج میں تعلیم کے دوران اس کی ملاقات پکی عمر کے رائے صاحب سے ہوتی ہے اور وہ ان سے اظہار محبت کربیٹھتی ہے۔ اس قدم سے اس میں شرم کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ زمین میں سما جائے۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں اعجاز آتا ہے پھر افتخار آتا ہے جو ایک دن اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آکر اسے پھر محرومی کے غار میں ڈھکیل دیتا ہے۔ آخر گمراہ ہو کر بہت سے لوگوں سے رشتہ جوڑ لیتی ہے۔ آخر وہ ایک آئرش نوجوان رونی ٹیلر سے شادی کر لیتی ہے۔ نباہ اس سے بھی نہیں ہوتی اور تعلق منقطع ہوجاتا ہے مگر اب اس کی کوکھ آباد ہے۔ یہ احساس اس کی زندگی کو بدل ڈالتا ہے۔ زندگی کے یہ نشیب و فراز شمن کو توڑ ڈالتے ہیں۔ اس کی نفسیات میں ایک ایسی کجی پیدا ہوجاتی ہے جو صرف آخر میں جاکر ہی دور ہوتی ہے۔
پھر ہم سجاد ظہیر کے مشہور زمانہ ناول’ لندن کی ایک رات ‘پر تھوڑ سی روشنی ڈالنے کی سعی کرتے ہیں۔لندن کی ایک رات اردو ناول نگاری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے ناول نگاری کی ایک نئی روایت شروع ہوتی ہے،جو مواد اور ہےئت دونوں ہی اعتبار سے ایک نیا فنی افق پیش کرتی ہے اور نئے امکانات کے لیے راہیں ہموار کرتی ہے۔ یہ ناول اپنے زمانے کی فکری تبدیلی، ذہنی کشمکش اورسماجی و سیاسی اور معاشرتی انقلابات کو بڑے ہی فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس ناول کے کردار وہ ہندوستانی طلبہ ہیں جو لندن میں زیر تعلیم ہیں۔ سجاد ظہیر نے ان طلبہ کی ذہنی و جذباتی کشمکش کی عکاسی کی ہے۔ انہوں نے ان طلبہ کی نفسیاتی کیفیات کا بھی جائزہ لیا ہے جس میں اس زمانے کا نوجوان طبقہ گرفتار تھا۔ یہ تمام نوجوان حساس تھے اور اپنی کھلی آنکھوں سے مغربی تہذہب کے جگمگاتے ہوئے منظر اور سرمایہ دارانہ نظام کے تضادوں کو دیکھ رہے تھے۔ اس خارجی ٹکراؤ کے دھماکے وہ اپنے اندر بھی محسوس کررہے تھے۔ ان محسوسات کو اس ناول نے فنکارانہ انداز میں اپنے اندر محفوظ کرلیا ہے۔ اس ناول کے کردار مختلف ذہنی سطح اور متضاد رجحانات والے نوجوان تھے۔ ان میں کوئی نعیم جیسا بے فکرا ہے جس کی زندگی کا کوئی نصب العین نہیں، کوئی اس ناسازگار ماحول میں بھی محبت کے نغمے گانے والا ہے۔مس جین کی محبت میں سرشار اعظم، کوئی عارف جیسا نوجوان ہے جو اعلیٰ تعلیم اور بلند عہدہ پر فائز ہونے کا خواب دیکھ چکا ہے اور اس لیے حکومت کا مداح اور برطانوی جمہوریت کو ایک مثالی نظام سمجھنے والا گردانتا ہے ، کوئی احسان کی طرح اشتراکی نظریات کے زیر اثر مارکس اور اینجلز کو اپنا رہبر ماننے والا ہے تو کوئی لاؤ کی طرح ذہین و حساس ہوتے ہوئے بھی حالات کے تقاضوں کو سمجھنے سے عاری و قاصر۔ مختلف النوع ذہنی و جذباتی سطح رکھنے والے یہ نوجوان کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ نوجوان دراصل پورے ہندوستان کے نوجوانوں کی ذہنی و جذباتی کیفیت کو پیش کرتے ہیں۔ وہ نوجوان جو قدیم و جدید قدروں کے دوراہے پر کھڑے فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں کہ کدھر جائیں۔
الغرض صرف سواسوصفحات پر مشتمل یہ ناول ایک مخصوص عہد کی تہہ در تہہ جذباتی اور نفسیاتی زندگی کی پیچیدگیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس دور کی ہندوستانی زندگی کے مختلف رجحانات و مسائل، تہذیبوں کی شکست و ریخت اور نوجوانوں کی ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی کیفیت کا اندازہ اس ناول سے لگایا جاسکتا ہے۔ سجاد ظہیر نے تہذیب ، جنس اور سیاست سے متعلق مختلف النوع موضوعات کو علمی نقطۂ نظر سے دیکھا، پرکھا اور سنجیدہ انداز میں پیش کرنے کی حتی المقدور کوشش بھی کی ۔
ترقی پسند تحریک کی ایک اہم شخصیت راجندرسنگھ بیدی بھی تھے۔ انہوں نے بھی افسانے اور ناول تحریر کیے۔پیش ہے ان کے مخصوص و منفرد لب و لہجہ کے ناول’’ایک چادر میلی سی ‘‘ پر ہلکی سی جھلک۔
’’ایک چادر میلی سی‘‘ میں جو کہانی پیش کی گئی ہے وہ بہت مختصر اور سیدھی سادی ہے۔ تلوکا یکہ چلاتا ہے اور چودھری کے لیے بہلا پھسلا کر عورتوں کو لاتا ہے۔ ایک روز جاترن کا بھائی اسے قتل کردیتا ہے۔ اس کی بیوی رانوکی شادی اس کے چھوٹے بھائی منگل سے کر دی جاتی ہے۔ اس مختصر سی کہانی کا تعلق سکھ معاشرے کی رسم ’’چادر ڈالنے ‘‘ سے ہے۔ یہ پنجاب میں شادی کی ایک رسم ہے ۔ عورت پر چادر ڈال کر مرد اس کا شوہر بن جاتا ہے۔ اس مختصر سی گھریلو کہانی کے ضمن میں گناہ ، نفرت ، عورت، عیاشی، سماجی زنجیروں اور فرسودہ رسموں کا بھی ذکر آگیا ہے۔ بیدی نے ان تمام باتوں کا ذکر اتنے فطری انداز میں کیا ہے کہ وہ ہمیں اپنے حقیقی روپ میں نظر آتی ہیں۔ اس ناول میں بیان کیے گئے واقعات ہمیں اس لیے متاثر کر تے ہیں کہ ان میں کوئی فرضی داستان نہیں بیان کی گئی ہے بلکہ زندگی کی جیتی جاگتی حقیقتوں کو ناول نگار نے جیسا کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اسے اسی انداز میں پیش کر دیا ہے۔ زندگی کی کھردری حقیقتوں اور ڈھکے چھپے ناسوروں کے بیان نے ناول کی اثر آفرینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس طرح یہ ناول زندگی کا ایک مرقع ہے۔ یہ ناول اپنے اسلوب اور انداز بیان کی وجہ سے بھی کافی اہم مانا جاتا ہے۔اس ناول میں ان کا اشاراتی انداز کافی نکھرا ہوا نظر آتاہے۔ چھوٹے چھوٹے معنی خیز جملوں، استعاروں اور اساطیری انداز نے اس ناول کی معنویت اور اثر آفرینی میں مزید اضافہ کردیا ہے اس ناول کا جملہ ا ور تشبیہ و استعارہ نہایت ہی دلکشی پیش کرتا ہے۔
الغرض یہ ناول بیدی کی فنی بصیرت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ بیدی کی نظر بہت گہری ہے۔ واقعات کی معمولی جزئیات کو بھی وہ نظر انداز نہیں کرتے۔ اس جزئیات نگاری نے ناول میں محاکات کا لطف پیدا کر دیا ہے۔ پلاٹ کا تانا بانا ایک خاص ترتیب سے تیار کیا گیا ہے۔ واقعات اورکرداروں میں ایک خاص ربط ہے جس کی وجہ سے کہانی بڑے فطری انداز میں ارتقائی منازل طے کرتی ہے۔ اس طرح ناول اپنے فنی محاسن کی وجہ سے افسانوی ادب میں زندہ جاوید رہے گا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر کئی اہم ناول لکھے گئے اور اس تحریک سے تعلق رکھنے والوں نے اس صنف میں کئی اہم اور بڑے کارنامے انجام دیے اور کئی مصنفین نے اچھاو عمدہ ناول لکھ کر اردو ادب کی خدمات میں کارہائے نمایاں انجام دیا ۔ اس صنف میں ان کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ترقی پسند تحریک کے بینر تلے لکھے گئے تمام ناولوں کی تفصیلات کو اس مختصر سے مضمون میں پیش نہیں کیا جاسکتا ۔البتہ اختصار کے ساتھ پوری بات کہنے کی کوشش کی ضرور کی گئی ہے۔
مأخذ و مراجع:
اردو نثر کا نتقیدی مطالعہ، اردو ادب کی تاریخ، ناول کا فن، اردو اصناف و نظم و تدریس ،وغیرہم
ٌ()۔۔۔۔۔۔()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *