اردو کے مشہور شاعر زبیر رضوی کا انتقال

Zubair Rizvi

’’جب مجھے درد ہوتا ہے تو میں سسکیاں لے کر نہیں روتا، اپنی آنکھیں نم کر لیتا ہوں‘‘

نئی دہلی، ۲۰ فروری (ڈاکٹر قمر تبریز): اردو کے مشہور شاعر و ادیب زبیر رضوی کا آج یہاں دہلی اردو اکیڈمی کے ایک پروگرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اکیڈمی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد جب وہ تقریر کرنے کے لیے مائک پر آئے تو چند کلمات ادا کرنے کے بعد اچانک انھیں بے چینی محسوس ہوئی۔  وہاں موجود لوگ تیزی سے ان کی طرف دوڑے اور انھیں سہارا دے کر پاس کی ایک کرسی پر بیٹھایا۔ لیکن تھوڑی دیر میں ہی ان کی روح پرواز کر گئی۔ ان کا جسد خاکی ان کے آبائی وطن امروہہ لے جایا گیا ہے، جہاں کل تدفین ہوگی۔

یہ خبر مجھے سب سے پہلے متین امروہوی صاحب نے غالب اکیڈمی میں دی۔ اتفاق کی بات ہے کہ آج ہی غالب کا بھی ۱۴۷واں یومِ وفات ہے۔ اس موقع کی مناسبت سے ہم لوگ غالب اکیڈمی میں جمع ہوئے تھے، جہاں متین امروہوی نے یہ افسوس ناک خبر سنائی۔ کچھ دیر بعد شعیب رضا فاطمی بھی غالب اکیڈمی پہنچے۔ وہ بھی اردو اکیڈمی کے اس پروگرام میں موجود تھے، جہاں زبیر رضوی کا انتقال ہوا تھا۔ شعیب رضا نے بتایا کہ  ’’کرسی پر بیٹھنے کے بعد ہی انھیں اُلٹی ہوئی اور وہ اِس دارِفانی کو الوداع کہہ گئے۔ دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین ماجد دیوبندی اپنی کار میں زبیر رضوی صاحب کو بیٹھاکر اسپتال کی طرف بھاگے، لیکن ڈاکٹروں نے بھی ان کے انتقال کرجانے کی تصدیق کردی۔‘‘ موت سے قبل زبیر رضوی کے آخری الفاظ تھے، ’’جب مجھے درد ہوتا ہے تو میں سسکیاں لے کر نہیں روتا، اپنی آنکھیں نم کر لیتا ہوں۔‘‘

Zubair Rizvi_dead

زبیر رضوی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ نہ صرف ایک شاعر تھے، بلکہ اردو کے ایک بڑے ادیب، نقاد اور صحافی بھی تھے۔ فنون لطیفہ پر مبنی ان کا رسالہ ’’ذہنِ جدید‘‘ ادبی دنیا میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو پر پروگرام پیش کرتے ہوئے گزارا۔ وہ دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے اور انھوں نے اکیڈمی سے غیر اردو داں طبقہ کو اردو سکھانے کے لیے اردو سرٹیفکیٹ کورس بھی شروع کیا، جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اردو کی موجودہ صورتِ حال کے لیے وہ اردو والوں کو ہی قصوروار مانتے تھے۔ گزشتہ دنوں عالمی اردو کانفرنس کے موقع پر بھی اپنی صدارتی تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان میں اردو سے زیادہ قیمتی اور مالامال سرمایہ کسی اور زبان کے پاس نہیں ہے، لیکن اردو والوں نے اسے کبھی نہیں اپنایا، بلکہ ٹھکرا دیا۔‘‘ بطور دلیل انھوں نے تھیٹر، کلاسیکی موسیقی، مصوری اور اس قسم کے دیگر فنونِ لطیفہ سے وابستہ عظیم شخصیات کی مثال پیش کی، جسے اردو والوں نے کبھی اپنا نہیں مانا، اس لیے دوسروں نے اسے اپنایا اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مالی فائدہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔

انھیں اس بات کا اطمینان تھا کہ اردو والے چاہے کچھ نہ کریں، لیکن اپنی طرف سے ایک معیاری رسالہ ’’ذہنِ جدید‘‘ نکال رہے ہیں، جس کا مقابلہ موجودہ دور کا کوئی دوسرا رسالہ نہیں کرسکتا۔ وہ اردو والوں کو اکثر جھنجھوڑتے رہتے تھے، انھیں بیدار کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے تھے۔ آج ان کی موت سے صرف اردو دنیا ہی نہیں، بلکہ فنونِ لطیفہ سے جڑے ہوئے لاکھوں افراد اُداس ہیں، غم منا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *