صحتمند ہندوستان کے لیے طب یونانی کا فروغ ضروری: الطاف اعظمی

اصلاحی ہیلتھ کیئر کے زیر اہتمام دوروزہ بین الاقوامی سمینار کا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں افتتاح

?

(افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر الطاف احمد اعظمی جبکہ اسٹیج پر ڈاکٹر خورشید احمد، پروفیسر وہاج الدینعلوی، سراج حسین ، ڈاکٹر راشداللہ خان و دیگر)

نئی دہلی، ۱۹؍ فروری (نامہ نگار) اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن (آئی ایچ ایف)کے زیر اہتمام ’’اردو میں طبی ترجمے کا لسانیاتی جائزہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمینار کا آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں وزارت زراعت کے سکریٹری اور جامعہ ہمدرد کے سابق وائس چانسلر سراج حسین کے ہاتھوں افتتاح ہوا۔افتتاحی اجلاس میں پروفیسر الطاف اعظمی نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ انہوں نے طبی کتابوں کے ترجموں کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے کئی تراجم کے محاسن کے علاوہ بعض کی غلطیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترجمہ کے لیے جہاں دو زبانوں پر عبور کی ضرورت ہوتی ہے وہیں موضوع کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ خاص طور سے طبی موضوعات و مسائل پر لکھی کتابوں کے ترجمہ کے لیے تو ان صلاحیتوں کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔

پروفیسر الطاف احمد اعظمی نے کہا کہ ہندوستان کے لیے طب یونانی ایک بڑی نعمت ہے اور ہمارے آباء و اجداد نے جو سرمایہ چھوڑا ہے، اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہی نہیں ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن کتابوں کے ترجمے ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہوئے ہیں ، ان کی تو بات چھوڑیے، ابھی توسیکڑوں کی تعداد میں ایسے اہم مخطوطات پڑے ہوئے ہیں جنہیں محققین اور ترجمہ نگاروں نے اب تک چھوا بھی نہیں ہے۔

?

اس اجلاس کی صدارت سینٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن میں یونانی شعبہ کے نائب صدر ڈاکٹر راشداللہ خان نے کی ۔ انہوں نے جہاں ایک طرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اپنے یہاں حکیم اجمل خاں کے نام سے طب یونانی کا ایک شعبہ شروع کرنے کی تلقین کی وہیں دوسری جانب بہت ہی واضح الفاظ میں کہا کہ حکیم اجمل خاں کا قائم کردہ دہلی کے قرول باغ میں واقع طیبہ کالج کی خستہ حالی کی اصل وجہ وہاں آپسی چپقلش اور سیاست ہے۔اس تقریب کی نظامت ڈاکٹر خورشیدنے کی جبکہ اظہار تشکر کا فریضہ اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کے روح رواں ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی نے ادا کیا۔اجلاس میں شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر وہاج الدین علوی ، تابش مہدی اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *