جامعہ ملیہ میں حجامہ ورکشاپ کا انعقاد

نئی دہلی، ۱۰؍نومبر:(محمد شہزاد) حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہم سب کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ رسول اکرم کی حیات مقدسہ ہماری طرز زندگی کے ایک ایک پہلو کی رہنمائی کرتی ہے۔ اس میں صحتمند زندگی جینے اور تندرست رہنے جیسے سائنسی پہلو بھی شامل ہیں۔اس طریقۂ کار کو دنیا طب نبوی کے نام سے جانتی ہے۔ایسے میں اگرپیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم علاج کے لیے ’حجامہ‘ کو سب سے مؤثر طریقۂ کار قرار دیں تو اس کی اہمیت کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔

jamia-shahzadحجامہ کی اسی اہمیت وافادیت سے لوگوں کو روبروکرانے کے مقصد سے نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ سائنٹفک سوسائٹی آف حجامہ کے زیر اہتمام اور حجامہ کلینک اینڈ اسکن کیئر سینٹر، ابن سینا اکیڈمی آف میڈیول میڈیسن اینڈ سائنس،ورلڈ یونانی فاؤنڈیشن ، اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن اور سپورٹ سوسائٹی کے تعاون سے منعقدہ اس ورکشاپ میں ملک وبیرون ملک سے آئے کم وبیش دوسو مندوبین نے شرکت کی۔
اس ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں سکریٹری برائے آیوش، حکومت ہند اجیت ایم شرما نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ورکشاپ میں شرکا ء نے حجامہ کی تاریخی حیثیت ، عالمی سطح پر اس کی مقبولیت منفعت بخش طریق علاج اور اس کی خصوصیت پر روشنی ڈالی۔

واضح ہوکہ حجامہ عربوں کا روایتی طریقۂ علاج ہے۔ چین میں یہ طریقہ آج بھی بڑے پیمانے پر رائج ہے اور وہاں یہ کپنگ تھیریپی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں کپ کے ذریعے ویکیوم بناکر مریض کے بدن سے خون کے تھکے نکالے جاتے ہیں۔حجامہ تھیریپی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس میں سبھی مرض کا علاج موجود ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس علاج میں کوئی منفی اثر نہیں ہوتا ہے۔

اس ورکشاپ کے دوران منعقدہ تکنیکی نشست میں عملی طور پر حجامہ کرکے دکھایا گیاکہ کس طرح سے بدن سے آلودہ خون بغیر درد اور سرجری کے نکالا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *