مرکز رشد وہدایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے

DSC07231
سپول میں ہونے والی رشد وہدایت کانفرنس میں ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے علماء ودانشوران کا اظہار خیال
سپول ،۲۵ ؍مارچ(محمد نوشا دعادل)
بہار کی عظیم درس گاہ جامعۃ القاسم دارالعلوم اسلامیہ ،سپول بہار کے زیر اہتمام منعقدہ رشدوہدایت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا محمد شاہد سہارنپوری نے کہاکہ مرکزرشدوہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ومحبت کے بغیر دنیا اور آخرت کی کامیابی ناممکن ہے ۔مسلمان آج مختلف حالات سے دوچار ہیں ،وہ تمام شعبۂ حیات میں مسائل ومشکلات کا سامناکررہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے مرکزی ذات سے اپناسلسلہ ختم کرلیاہے ۔مولانا محمد شاہد سہارنپوری نے مزید کہاکہ اگر آپ صلاح وفلاح چاہتے ہیں تو آپ کو اپنار شتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے جوڑناہوگا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف اسلامک اسکالر پروفیسر اختر الواسع کمشنربرائے لسانی اقلیات ،حکومت ہند نے کہاکہ سب سے پہلے میں مفتی محفوظ الرحمن صاحب،پانچ اساتذہ اور ان آٹھ طلبہ کی عیادت کرنا چاہتاہوں جو ایک جان لیواحملہ میں زخمی ہوئے ۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ مدارس کے فیضان کا سلسلہ روز اول سے جاری ہے ۔یہ مدارس اس وقت سے علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں جب آکسفورڈیونیورسٹی،لند ن یونیورسٹی اور اس جیسے مراکز کا کوئی وجود نہیں تھا۔ انہیں مدار س سے فارابی اور بوعلی سینا جیسے نامور سائنسداں پیداہوئے ۔انہوں نے کہا کہ علم کی کہیں بھی کوئی تقسیم نہیں کی گئی ہے۔ شریعت میں صرف علم نافع اور غیر نافع کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کو سب سے زیادہ حقوق اسلام میں دیے گئے ہیں ۔
بہار اقلیتی امور کے وزیر ڈاکٹر عبد الغفورنے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلم معاشرہ میں ان دنوں بہت زیادہ برائیاں آگئی ہیں ، مختلف جگہوں پر دارالقضاء قائم ہونے کے باوجود فیملی کورٹ میں چالیس فیصد سے زائد مسلمانوں کے معاملے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس مدرسہ کے ذریعہ مفتی عثمانی صاحب نے فروغ علم کی بے مثال خدمات انجام دی ہیں اور علاقہ سے جہالت و پسماندگی کے خاتمہ میں انہوں نے جو نمایاں کارکردگی کی ہے، اس کی مثال کم ملتی ہے۔اس موقع پر انہوں نے مفتی عثمانی صاحب سے یہ درخواست بھی کہ اگر ممکن ہوسکے تو یہاں لڑکیوں کا بھی ایک ادارہ قائم کیا جائے اور عصری تعلیم کے لیے بھی ایک یونیورسٹی بنائیں۔

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جامعۃ القاسم کے مہتمم مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے کہاکہ آج تیس سال قبل یہاں کے مسلمان بندھوا مزدور سے بھی بدترزندگی گذارتے تھے ،ان کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں تھی،جامعۃ القاسم کے قیام کے بعد انہیں اپنے حقیقی وجود کا احساس ہواہے ،سماج او ر معاشرہ میں ایک مقام ملاہے ۔انہوں نے عوام سے کہاکہ اب تک اس جامعہ سے۲۳؍ سالوں میں ۱۷؍ ہزار طلبہ پڑھ چکے ہیں ۔جامعہ کو چلانے والی ذات اللہ ہے، اسی کے فیض وکرم سے اس جنگل میں منگل ہواہے۔ جامعہ آپ سے کچھ لینے کے بجائے آپ کو دے رہاہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ کچھ لوگوں کو اس مدرسہ کا وجود برداشت نہیں ہورہاہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہم یہ علاقہ چھوڑدیں ،باربار مدرسہ پر حملے کرائے جاتے ہیں۔ اس موقع پر عوام نے جذباتی انداز میںیک زبان ہوکر یہ نعرہ لگایاکہ ’عثمانی تم آگے بڑھوہم تمہارے ساتھ ہیں‘ ،’دشمنوں کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘ ۔
اس کانفرنس سے مولانا محمد شاہد الناصری الحنفی بانی وصدر ادارہ دعوۃ السنہ،ممبئی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی جیسی شخصیات نایاب ہیں جنہوں نے اس علاقے میں اتنا بڑاکارنامہ انجام دیاہے ۔یہ انہیں کا جگر اور حوصلہ ہے کہ مخالفین کا سامناکرتے ہوئے اتنا بڑا اور وسیع وعظیم ادارہ چلارہے ہیں۔یہ ادارہ خود رشدوہدایت کا سبب ہے۔ آپ اس ادارہ سے وابستہ رہیں، ادارہ کی ترقی میں معاون بنیں۔دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مولانا محمد اسلام قاسمی نے کہاکہ اسلام دنیا کا سب سے عظیم اور اعلیٰ مذہب ہے ۔اس نے ہر قدم اور ہر جگہ پر ہماری رہنمائی کی ہے ۔ہمارے پاس قرآن کریم جیسی مقدس اور عظیم الشان کتاب ہے جس میں ہماری مکمل رہنمائی کی گئی ہے، اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں توقرآن کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔مفتی ارشد فاروقی شیخ الحدیث دارالعلوم زکریا،دیوبند نے کہاکہ ہر ٹریجڈی کے لیے سوچنا ،منصوبہ بندی کرنا قرآنی حل ہے ۔آر ایس ایس ،ایوان حکومت او رہر طبقہ سے براہ راست مذاکرات اور مکالمہ علماء کی ذمہ داری ہے ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ دینیا ت کے ناظم مفتی زاہد علی خان نے کہاکہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے ۔امت مسلمہ کو چاہیے کو وہ اپنی زندگی میں اسلام کو نافذ کرے۔مفتی نادر احمد القاسمی رفیق اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے کہاکہ اگر آپ دنیا میں کامیابی چاہتے ہیں تو اولین شرط ہے کہ مومن کامل بن جائیں۔اسلامی تعلیمات کو دل سے لگائیں اور سماجی برائیوں سے خود کو محفوظ رکھیں ۔نوجوان صحافی مفتی شمس تبریز قاسمی چیف ایڈیٹر ملت ٹائمز نے اپنے خطاب میں کہاکہ جامعۃ القاسم اسی زریں سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کا آغاز مسلمانوں کی سربلندی،ہندوستان کی آزادی اور اسلامی شناخت کی بقا کے لیے ۱۸۶۶ء میں حضرت مولانا محمد قاسم ناناتوی نے دارالعلوم دیوبند میں قائم کرکے کیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ادارہ اسی عظیم شخصیت سے منسوب ہے اوراسی خانوادے کے اہم ترین چشم وچراغ خطیب الاسلام مولانامحمد سالم قاسمی اس کی سرپرستی فرمارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں مفتی عثمانی صاحب کو اس جنگل میں منگل بنانے پر سلام کرتا ہوں۔
DSC07241 (6)کویت سے تشریف سے لجنۃ البشائر کے سربراہ ڈاکٹر خالد اعظمی نے کہاکہ یہ ادرہ اس خطے میں قائم ہے جہاں دوردراز تک کوئی مناسب اسکول نہیں تھا۔ اس مدرسہ کے قیام کے بعد یہاں سے کافی حدتک جہالت کا خاتمہ ہوا ہے،معاشرہ میں سدھارآیا ہے۔ عوام میں اسلامی تہذیب وثقافت آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں سب سے زیادہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اسی کو اپناتے ہوئے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے یہاں ایک عظیم یونیورسٹی قائم کرکے علم کا دریا بہایا ہے۔ اس سب کے علاوہ مفتی اسد اعظمی مہتمم انوار العلوم کوپا گنج مؤ، یوپی، مولانا عبد العلیم مہتمم دارالعلوم رحمانی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔
کانفرنس میں ابوظہبی سے تشریف لائے حاجی رضوان، مولانا یوسف انور قاسمی، مفتی محمد انصار قاسمی، مصعب انیس، مولانا ابوالوقار مظاہری سمیت متعدد اہل علم وفن نے شرکت کی۔ مولانا شاہد ناصری کی پرسوزدعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض مولانا ضیاء الحق نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
کانفرنس میں کم وبیش دس ہزار لوگوں کا مجمع ملک وبیرون ملک سے آئے ہوئے علماء اور دانشوران کو سننے کے لیے لگا تھا۔ اس موقع پر مولانا محمد شاہد سہارنپوری امین عام جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، پروفیسر اخترالواسع کمشنر برائے لسانی اقلیات، حکومت ہند، ڈاکٹر عبد الغفور وزیر برائے اقلیتی امور، حکومت بہار، رکن اسمبلی نوشاد عالم، مولانا محمد اسلام قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم وقف، دیوبند ودیگرکو مختلف شخصیات سے منسوب ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس موقع پر جامعۃ القاسم کی نئی عمارت مرکز التوحیدی الاسلامی للدعوۃ والارشاد کی بنیاد بھی اکابر علماء کے ہاتھوں رکھی گئی۔سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے کہاکہ دعوت وتبلیغ کا ایک مستقل شعبہ ہوگا ،
انہوں نے بتایا کہ اس عمارت کے لیے ایک صاحب نے فنڈ دے دیا ہے، اور اس کی تکمیل انشاء اللہ بہت جلد ہوجائے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *