مادری زبان کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

NCPUL

نئی دہلی، (پریس ریلیز): مادری زبان کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہمیں عملی طور پر مستعد ہونا پڑے گا۔ صرف نعرے بازی سے کام نہیں چلے گا۔ ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ’مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔ اس تقریب کا اہتمام یومِ مادری زبان کی مناسبت سے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر انیکسی میں قومی اردو کونسل کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ’مادری زبان کی اہمیت اور معنویت‘ پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ہم یومِ مادری زبان کے ساتھ آج ’یومِ اردو‘ کی بھی بات کررہے ہیں کیونکہ آج امیر خسرو کا یومِ پیدائش ہے اور اردو کا جشن منانے کے لیے اس سے زیادہ سیکولر کوئی تاریخ نہیں ہوسکتی۔ اس لیے قومی اردو کونسل نے ۳؍ مارچ کو بطور یومِ اردو منانے کا عزم کیا ہے۔ اس سے معاشرے میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور یہ تاثر بھی ٹوٹے گا کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔ اس موقع پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر نے اردو میں سائنسی اور سماجیاتی علوم کی نصابی کتابیں شائع کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

یومِ مادری زبان کی اس تقریب میں مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر عین الحسن اور ڈاکٹر شبانہ نذیر نے شرکت کی۔ محترمہ شبانہ نذیر نے ’مادری زبان کی اہمیت پر‘ نہایت پرمغز تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان صرف بول چال کی زبان نہیں ہے بلکہ اس میں ہماری ثقافت اور تمدن کی جڑیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ہم جڑوں سے جتنا جدا ہوتے جائیں گے، اپنی شناخت کھوتے جائیں گے۔ انہو ں نے اردو بحیثیت مادری زبان پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ زبان حاشیے پر کھڑی ہے اور ہم اپنے بچوں کو اردو میں صحیح طور پر تعلیم دینے میں ناکام ہیں۔ اردو زبان کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد بھی کم ہے اور پھر ان کے نصاب کی کتابیں بھی اردو میں دستیاب نہیں ہیں۔ خاص طور پر اردو میں سائنسی علوم کی کتابیں نہیں ملتی ہیں جس کی وجہ سے طلبا کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اردو اصطلاحات کا مسئلہ بھی بڑا اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی قوم کی بقا کے لیے زبان کا تحفظ ضروری ہے۔ ہم دوسروں سے توقعات رکھتے ہیں مگر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے۔

اسی سلسلۂ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں سب زبانیں ایک دوسرے سے میل کھاتی ہیں۔ گلوبل مارکیٹ میں کچھ نئے الفاظ آرہے ہیں، کچھ جارہے ہیں۔ اسی گلوبل ولیج میں ہماری اردو زبان کے الفاظ بھی اِدھرسے اُدھر جارہے ہیں۔ آکسفورڈ ڈکشنری میں بہت سے الفاظ اردو کے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ایک زبان ماں سکھاتی ہے تو دوسری زبان سماج سکھاتا ہے اور ہر زبان کے پیچھے ایک معاشرہ ہوتا ہے اور اردو زبان کا بھی اپنا ایک معاشرہ ہے۔

اس موقع پر ’مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت‘ کے عنوان سے تحریری مقابلے میں کامیاب ہونے والے طلبا کو قومی اردو کونسل کی طرف سے انعامات بھی دیے گئے۔ عبدالقادر ابن سلیم، اسد اللہ اور محمد وجہ القمر کو بالترتیب اول، دوم، سوم انعامات سے نوازا گیا ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض قومی اردو کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال نے انجام دیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *