سڑکوں پر اترے آزادی رائے کے حامی قلمکار

نئی دہلی ، ۲۳؍اکتوبر:ملک میں ادیبوں، مصنفوں اور قلمکاروں پر ہورہے حملوں کے خلاف آزادی رائے کے حق میں لوگوں نے منھ پر کالی پٹی باندھ کر for protest freedomجمعہ کو راجدھانی نئی دہلی میں ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ اس کا اہتمام مصنفوں ، ادیبوں اور قلمکاروں کی مختلف تنظیموں نے کیا تھا۔  ساہتیہ اکادمی کی ہنگامی میٹنگ سے ٹھیک پہلے یہاں صفدر ہاشمی مارگ پر واقع شری رام سینٹر سے ادیبوں، مصنفوں، قلمکاروں اوران کے حامیوں نے مارچ کیا اور نزدیک ہی میں واقع ساہتیہ اکادمی بھون کے سامنے احتجاج کیا۔ احتجاج کرنے والے قلمکاروں نے ساہتیہ اکادمی کو ایک میمورنڈم بھی دیا جس میں ملک میں بڑھتی عدم رواداری اور ادیبوں، مصنفوں و قلمکاروں پر ہورہے حملوں کو بندکرنے کے لیے سخت اقدام کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ساہتیہ اکادمی پر اس صورت حال کے خلاف آواز بلند کرنے کی بھی مانگ کی۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں ادیبوں اور آزادی رائے کے حامی افراد پر حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ کنڑ ادیب ۷۷؍سالہ ایم ایم کلبرگی کو ۳۰؍اگست کے دن ریاست کرناٹک کے دھارواڑ ضلع میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دونامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔کلبرگی کو ۲۰۰۶ میں ان کے تحقیقی مقالوں پر مشتمل کتاب ’مارگ ۴ ‘ کے لیے ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔وہ کم وبیش ایک سو کتابوں اور چارسو زائد مقالوں کے مصنف تھے۔ ڈاکٹر کلبرگی ہمپی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے تھے۔ڈاکٹر کلبرگی کے قتل سے پہلے امسال فروری میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر گووند پنسارے اور ان کی اہلیہ پر مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع میں واقع ان کے گھرکے سامنے دو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں گووند پنسارے ہلاک ہوگئے۔12179131_10153165340241451_932557644_n (1)

پنسارے نے شیواجی کی سوانح حیات تحریر کی تھی۔ ان کی کتا ب کا عنوان ہے’شیواجی کون ہوتا‘۔اس کی وجہ سے کچھ لوگ پنسارے سے ناراض تھے۔
ملک میں عدم رواداری کے بڑھتے واقعات اور اس پر ساہتیہ اکادمی کی خاموشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مختلف زبانوں کے کم وبیش ۳۵؍مصنفوں، ادیبوں اور قلمکاروں نے اپنے ایوارڈ لوٹانے کے ساتھ ہی مختلف اکامیوں کے عہدوں سے استعفیٰ بھی دیا۔ اس کے باوجود حکومت اور خاص طور سے ساہتیہ اکادمی کی خاموشی جاری رہی۔ اسی کے خلاف ۲۳؍اکتوبر کو نئی دہلی میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس کے بعدمنعقد ہ اپنے ہنگامی اجلاس میں ساہتیہ اکادمی نے قلمکاروں پر ہورہے حملوں کی مذمت کی اور ساتھ ہی ادیبوں سے اپنے ایوارڈ واپس لینے کی اپیل بھی کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *