شہاب الدین کی رہائی کے لیے ۱۵؍اکتوبر کو دربھنگہ میں احتجاجی جلوس

ریاستی حکومت کی مسلم دشمنی ہوئی بے نقاب، شہاب الدین کو مسلمان ہونے کی دی گئی سزا : غلام مذکر خان
دربھنگہ (پریس ریلیز):

غلام مذکر خان
غلام مذکر خان

متھلانچل کے دربھنگہ شہر میں سیوان لوک سبھا حلقہ سے سابق رکن پارلیمنٹ شہاب الدین کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اور مسلمانوں کو سیاست سے ختم کرنے کی سازش کو بے نقاب کرنے کے مقصد سے ۱۵؍ اکتوبر کو دربھنگہ کے مدرسہ حمیدیہ ،قلعہ گھاٹ سے صبح ۹؍بجے ایک احتجاجی جلوس نکالا جارہا ہے۔ اس جلوس میں کثیرتعداد میں لوگوں کی شرکت ہوگی۔ مذکورہ باتیں سماجی کارکن ، فعال اور متحرک شخصیت کے مالک غلام مذکر خان نے کہیں۔ انہوں نے پورے متھلانچل سمیت بہارکے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو کسی کا انفرادی معاملہ نہ سمجھیں اور قوم کے نام پر متحد ہوکر حکومت وقت کو یہ بتادیں کہ مسلمانوں نے اپنا قائد چن لیا ہے اور کسی بھی حال میں حکومت کی مسلم دشمنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کثیرتعداد میں لوگوں سے شرکت کی اپیل ہے تاکہ حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے بازرہے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے پر دھیان دے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۱؍سالوں بعد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے پر جیل سے باہر آئے راشٹریہ جنتادل کے لیڈر شہاب الدین کے سلسلے میں بی جے پی ، آر ایس ایس اور ریاستی حکومت کی دشمنی سے انصاف پسند عوام اور مسلمانوں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف بہار سمیت ملک و بیرون ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔چنانچہ عوام الناس کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے عہدیداران نے شہاب الدین کے خلاف جاری سیاسی مہم کی مخالفت میں آئندہ ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو دربھنگہ شہر میں کمشنری سطح پر احتجاجی مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے اس کی تیاری میں ساری قوت جھونک دی ہے ۔ کارواں کے قومی صدر نظر عالم اپنی ٹیم کے ساتھ ضلع کے بلاک اور پنچایت سطح پر گھوم گھوم کر غیورافراد سے ملاقات کررہے ہیں اور ریاست سمیت ملک بھر میں مسلم قیادت کو بدنام کرنے اورا سے پوری طرح مسخ کرنے کی جاری مہم کے خلاف لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ احتجاجی جلوس کی حمایت میں جاری ان کے دورہ کے دوران عوام الناس کی زبردست حمایت مل رہی ہے اور کثیر تعداد میں لوگ شریک ہونے کا یقین دلا رہے ہیں ۔ مسٹر عالم نے بتایا کہ ریاستی حکومت جن وجوہات کی بنیاد پر شہاب الدین کے معاملے میں سسٹم کے کام کرنے کی بات کہہ رہی ہے ،اس طرح کے الزامات والے درجنوں نہیں سیکڑوں افرادریاست کے الگ الگ حصے میں عدالتی ضمانت پر گھوم رہے ہیں اور سرکار ی تحفظ میں ہیں ۔ لیکن نتیش حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں دکھاتی ہے اور ایک بے چارہ مسلمان ایک دہائی کی سزا کاٹنے کے بعد بھی عدالت کے فیصلے پر باہر آتا ہے اور میڈیا کے ورغلانے پر کچھ بول جاتا ہے تو یہ انہیں ہضم نہیں ہوپاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کی مسلم دشمنی اور مسلم قیادت کے تئیں ان کی منفی ذہنیت کا نتیجہ ہے ۔ جس کا مسلم بیداری کارواں پوری شدت سے مخالفت کرتا ہے اور اس کے خلاف غیور عوام سے متحد ہونے کی اپیل کرتا ہے ۔نتیش کمار کو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں چتاونی بھی دیتا ہے کہ اگر۱۵؍ اکتوبر کے احتجاجی جلوس سے بھی سبق نہیں لیا تو۳۰؍نومبر کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں مسلم مہا ریلی کا انعقاد ہوگا۔اس کے ساتھ ہی آل انڈیا مسلم بیداری کارواں ایک ہفتہ کے اندر سپریم کورٹ میں بھی شہاب الدین کے معاملے میں اپیل دائر کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *