شہاب الدین کی حمایت میں دربھنگہ میں احتجاجی جلوس

غریب، دلت اور اقلیتوں نے شہاب الدین کو چنا ہے اپنا لیڈر : نظر عالم

????????????????????????????????????

دربھنگہ ( پریس ریلیز):
آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے زیر اہتمام طے شدہ پروگرام کے تحت ہفتہ کے روزیہاں مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ سے ۱۱؍بجے دن میں تنظیم کے قومی صدر نظر عالم کی صدارت میں را شٹریہ جنتادل کے لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ شہاب الدین کی حمایت میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔جلوس قلعہ گھاٹ چوک سے روانہ ہو کر کمشنری دفتر تک پہنچا اورجلسہ میں تبدیل ہوگیا ۔درجنوں چار پہیہ اور سیکڑوں موٹر سائیکل کے قافلہ پر مشتمل جلوس میں شامل رضا کاران شہاب الدین کی حمایت اور وزیر اعلی نتیش کمار کی مخالفت میں بینر پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے اور سرکار مخالف نعرے بلند کررہے تھے ۔احتجاجی جلوس ناکہ پانچ ، مولا گنج ، رحم گنج ، ناکہ چھ ، لائٹ ہاؤس ،باقر گنج ، لہریا سرائے ٹاور ہوتے ہوئے دربھنگہ کمشنری دفتر پہنچا اور جلسہ عام میں تبدیل ہوگیا ۔ اس احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے کہا کہ سیوان لوک سبھا حلقہ سے سابق ایم پی ، عوام کی آواز ، غریبوں کے مسیحا اور مسلمانوں کے لیڈر شیر بہار شہاب الدین کو ریاستی حکومت نے سازش کے تحت دوباہ جیل بھیجوایاہے ۔ اس لیے سرکار کو متھلانچل کی زمین سے متنبہ کیا جاتا ہے کہ حکومت اس احتجاجی جلوس کو ہلکے میں نہ لے ۔ اگر شہاب الدین کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو کارواں ریاست کے عوام کی مدد سے ۳۰؍نومبرکو پٹنہ کے گاندھی میں اقلیت مہا ریلا کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کرے گا اور سرکار کی اقلیت مخالفت پالیسی کے خلاف سبق سکھانے کا کام کرے گا ۔ نظر عالم نے صاف طور پر کہا کہ نتیش ۔ لالو آپس میں ملے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی لیڈر شپ کو ختم کرنے اور انہیں اقتدار سے دور کرنے کی سازش رچ رہے ہیں، جسے کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھنے والے نتیش کمار اپنے رویے میں تبدیلی لائیں نہیں تو اگر اقلیتی عوام انہیں اقتدار دے سکتے ہیں تو اسے اقتدار چھیننے بھی آتاہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی مہینے کارواں سپریم کورٹ میں شہاب الدین کی حمایت میں اپیل دائر کرے گا ۔اس کے باوجود سرکار نے اگر اقلیت مخالف پالیسی بند نہیں کی اور شہاب الدین کی رہائی کی کاروائی کا عمل شر وع نہیں کیا تو پٹنہ کے گاندھی میدان سے سرکار کو اگلے چناؤ میں سبق سکھانے کی مہم شروع کی جائے گی ۔ اگر سرکار شہاب الدین کو رہا نہیں کراسکتی ہے تو پپو یادو ، سورج بھان سنگھ ، منا شکلا جیسے سیکڑوں غنڈوں کو جو ضمانت پر رہا ہو کر کھلے عام گھوم رہے ہیں، انہیں بھی جیل میں ڈالے ۔ شہاب الدین کو بہار سرکار نے مسلمان ہونے کی ہی سزا دی ہے جسے کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ مسلمانوں نے اپنا لیڈر شہاب الدین کو چن لیا ہے، چاہے وہ اندرہوں یا باہر ۔ اب مسلمان شہاب الدین کی قیادت میں ہی کسی پارٹی کو حمایت یا دوٹ دیں گے ۔ مسٹر عالم نے کہا کہ اگر شہاب الدین نے نتیش کمار کو حالات کا وزیر اعلی کہہ دیا تو اس کی اتنی بڑی سزا نہیں ہونی چاہیے ۔ شہاب الدین نے ٹھیک ہی کہا کہ نتیش کمار حالات کے وزیر اعلی ہیں اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ اگر حالات کے وزیر اعلی نہیں ہوتے تو باوجودیکہ راشٹریہ جنتادل کوجے ڈی یو سے زیادہ سیٹیں ملی تھی مگر لالو یادو نے بھی حالات کو دیکھتے ہوئے ہی حمایت دے کر نتیش کووزیر اعلی بنا دیا نہیں تو جس پارٹی کے زیادہ ایم ایل اے ہوتے ہیں اسی کا وزیر اعلی بنتا رہا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ نتیش کمار جس ذات سے آتے ہیں اگر ذات پات کی بات کریں تو ان کی آبادی ۴؍ فیصد بھی نہیں ہے ۔ اتنے فیصد ووٹ سے تو وارڈ کا بھی انتخاب نہیں جیتا جا سکتا ہے۔ لیکن حالات کی مہربانی ہے کہ وہ وزیر اعلی بنے ہوئے ہیں ۔ اگر انہو ں نے مسلمانوں اور دلتوں پرزیادتی اور بھید بھاؤ بند نہیں کیا تو اگلی کڑی میں آئندہ۳۰؍نومبر کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں اقلیت مہا ریلا ہوگا ۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا غلام مذکر خان ، شاہ عماد الدین سرور ، پپو خان ، اسد رشید ندوی ، عبد القدوس ساگر ، آفتاب عالم ، مرزا نہال بیگ ، جاوید کریم ظفر ، شوکت اخلاقی ، محمد عامر ، محمد چاند ، شمس عالم ، محمد ابرار ، صد رعالم ، رضوان خان ، سکندر خان ،فداحسین بھٹو قریشی، محمد رضوان ، ہیمایوں شیخ ، پرویز ہاشمی ، مظہر الاسلام ، محمد اشرف، زبیر عالم وغیرہم نے بہار سرکار کی اقلیت مخالف پالیسی کے خلاف جم کر ہلہ بولا اور سرکار سے شہاب الدین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔ بعد میں کارواں کے پانچ رکنی وفدنے ضلع کلکٹر چندر شیکھر سنگھ سے ملاقات کرکے انہیں اپنے مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *