قرآن کریم انسانیت کے لیے دستور حیات: مولانا سعید الرحمن اعظمی

حافظ جمیل احمد کی یاد میں حفظ قرآن کریم مع تجوید کے پا نچویں انعامی مسابقہ کا ندوۃالعلماء میں انعقاد

Quran competition at Nadwaلکھنؤ، ۲۶؍ (عزیر عالم) : ندوۃ العلماء کے شعبۂ حفظ کے سابق استاذ مرحوم حافظ جمیل احمد مرحوم کی یاد میں حفظ قرآن کریم کے پا نچویں انعامی مسابقہ کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں ندوۃ العلماء کے معہد القرآن میں منعقدہ اس مسابقہ کی صدارت اس ادارہ کے مہتمم مولاڈاکٹر سعیدا لرحمن اعظمی ندوی نے کی۔اس مسابقہ میں دو زمرے یعنی سفلیٰ اور علیاء تھے ،جس میں بالترتیب ۱۵؍ پارے اورمکمل قرآن کو رکھا گیا۔ اس میں دارالعلوم ندوۃ العلماء اوراس کی مختلف شاخوں کے طلباء نے حصہ لیا۔ پہلے زمرہ میں ۲۲؍طلباء اور دوسرے زمرہ میں ۸۶؍طلباء شریک ہوئے۔
اس موقع پر صدارتی تقریر کرتے ہوئے مولانا ڈاکٹر سعیدا لرحمن اعظمی ندوی نے کہاکہ زمانۂ جا ہلیت میں قرآن ہی کے ذریعہ انقلاب برپا ہوا، اور عرب کے خانہ بدوشوں کو قیادت وسیادت کا رتبۂ عظیم ملا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم انسانیت کے لیے عظیم تحفہ اور دستور حیات ہے۔ اس میں زندگی کے تمام حالات کا نچوڑاور خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب قیامت آئے گی تو تمام چیزیں فنا ہوجا ئیں گی، لیکن قرآن ہی کو بقاء حاصل ہوگا، اور وہ اسی طرح محفوظ رہے گا، قرآن کی بے حرمتی کا اثر صرف انسانی زندگی ہی پر نہیں ، بلکہ پو رے معاشرہ اور دنیا پر پڑتا ہے۔ آج دنیا میں خون مسلم کی ارزانی کا واحد علاج قرآن کریم کی تعلیمات کو مشعل راہ بنانے میں مضمر ہے۔
مولانا اعظمی نے کہاکہ جو حضرات قرآن سے بیگانہ زندگی گذارتے ہیں وہ بہت پست زندگی کے حامل ہیں، اور جو قرآن سے مزین زندگی گذارتے ہیں ان کی زندگی قابل رشک ہو تی ہے۔ اس مو قع پرانہوں نے خاص طور سے جلسہ کے کنوینر قاری حافظ خورشید عالم وبرادران کو مبارکباد پیش کی جو بیرون ملک میں رہنے اور اپنی مصروفیات کے باوجود یہاں آ تے ہیں اور ہرسال اس مسابقہ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
جلسہ میں مولانا قاری محمد ریاض مظاہری( صدر شعبہ قرأت دارالعلوم ندوۃ العلماء ) نے کہا کہ قرآن کی حفاظت کا وعدہ خود قرآن میں موجود ہے۔ سابقہ آسمانی کتا بیں اس خصوصیت سے خالی ہیں۔ قرآن کی حفاظت کے طریقے مختلف اور متعدد ہیں۔ قرآن کریم کا حفظ کرنا اس کی حفاظت کاایک اہم ذریعہ ہے، تفسیر، قرأت ، معانی کی تو ضیح وتفہیم اس کے دوسرے ذرائع ہیں۔
جلسہ کے کنویز قاری وحافظ خورشید عالم بن حافظ جمیل احمدمرحوم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا،جس میں انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سے تعلق رکھنے والے بندوں پر رحمت الٰہی کی بارش ہو تی ہے اور ان کو دنیا ہی میں زندگی کا حقیقی لطف حاصل ہونے لگتا ہے۔ انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام حالات اور ضروریات اور مسائل میں اس کتاب ہدا یت کی رہنمائی پوری وضاحت اور اعتماد کے ساتھ نظروں کے سامنے مشتمل ہوجا تی ہے، اور صراط مستقیم کو اختیار کرنے اور تمام امور میں اسی کو راہ نجات تصور کرنے کا یقین دلوں میں راسخ ہوجاتا ہے،اوراھندناالصراط المستقیم کی عملی تعبیراپنی پوری جلوہ سامانیوں کے ساتھ ظاہر ہو تی ہے۔ ساتھ ہی صراط مستقیم کا مفہوم خود بخود واضح ہوجا تا ہے۔
اس مسابقہ میں علیا وسفلیٰ کے پانچ پانچ طلباء ممتاز قرار پا ئے ۔ ان سبھی کو انعامات اور تصدیق نامہ۲۷ فروری بروز سنیچر بعد نماز عشاء بمقام عباسیہ ہال دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دارالعلوم ندوۃالعلماء کے ناظم اور مسلم پرسنل لاء بورڈکے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی، معتمد تعلیم ندوۃالعلماء مولانا واضح رشید ندوی اورمولانا ڈاکٹر سعیدا لرحمن اعظمی ندوی انعامات سے نوازاجا ئے گا۔
مسابقہ کا آغاز محمد طارق انصاری بھوپالی کی تلاوت کلام پاک سے ہوااور ترانہ ندوۃ محمد حسن اور ان کے ساتھیوں نے پیش کیا ۔حکم کے فرائض قاری مبین مظاہری، قاری ریاض مظاہری اور قاری محمد زبیرفرقانی نے انجام دیے،جبکہ مفتتح کے فرائض قاری حافظ خورشید عالم نے نبھائے ۔اس نورانی محفل میں دبئی سے آئے ہو ئے مہمان خصوصی مولانا فضل الرحمن ندوی، قاری حافظ عقیل قاسمی،حافظ ظفرالحسن مظاہری ،حافظ عبدالواسع ،قاری ناظم ، قاری عبداللہ ندوی ،مولانا اسماعیل اور معروف خان گھنہ پیلیس، محمد عثمان ٹنڈے کبابی ، قاری عطاء الرحمن ،مولانا فیضان ندوی، جنید عالم، عزیر عالم مسعود ،محمود عالم، ماجد حسین اورسمیع اللہ ندوی کے علاوہ کثیر تعداد میں شہر کے معزیزین اور طلبہ واساتذہ نے شرکت کی ۔یہ جلسہ قاری ریاض مظاہری کی دعاؤں پر اختتام پذیر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *