رحمن عباس کے ناول ’روحزن‘ پرممبئی میں تقریب کا انعقاد

کوئی صفحہ ایسا نہیں جو عمدہ جزئیات کے ذکر سے خالی ہو: سید محمد اشرف

یہ وقت طے کرے گا کیا ’روحزن‘ ایک بڑا ناول ہے: پاکستانی صحافی اقبال خورشید

Rohzin function in Mumbai
ممبئی ، (طارق اقبال) تھارومل شاہانی سینٹر فار میڈیا ایند کمیو نی کیشن اور ممبا بکس انڈیا نے رحمن عباس کے تازہ ناول ’روحزن ‘ پر ’شہرِ عش ، ممبئی اور روحزن‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقادمشہور افسانہ نگار سلام بن رزاق کی صدارت میں کیا۔ مہمان خصوصی سماجی خدمت گار عبدالرحمن ونو، قومی ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹرپروڈیوسر نشتھا جین، انگریزی صحافی گیتا شیشو، مراٹھی ادیبہ نندنی اتمسدھا، مراٹھی ادیب اور صحافی ابراہیم افغان، ایڈیٹر روزنامہ ہندستان سرفراز آرزو، انسانی حقوق کی وکیل کامایانی مہابالی، اور سماجی خدمت گار حسینہ خان تھے۔
تھارومل شاہانی سینٹر کے ڈِین جینتو مکھرجی اور ممبا بکس انڈیا کے ڈائریکٹر رؤف پٹھان نے مہمانان کا استقبال کیا ۔ پہلے سیشن میں معروف صحافی شیرین دلوی نے ’روحزن اور ممبئی کا رشتہ‘ کے عنوان سے مضمون پڑھا۔ دلوی نے اپنے مضمون میں رحمن عباس کی ناول نگاری پر مختصر اظہار خیال کرنے کے بعد ’روحزن‘ کے بارے کہا کہ گذشتہ سو برسوں میں ممبئی اور مضافات کے لوگوں کی زندگی کا احاطہ کرنے والا ناول کم ازکم اردو میں لکھا نہیں گیا تھا چنانچہ ’روحزن‘ اس کمی کو پورا کرتا ہے۔ دوسری طرف ’روحزن ‘ طرزِ اظہار اور زبان وبیان کے لحاظ سے بھی پڑھنے والے کو اپنا گرویدہ بنا تا ہے۔ انگریزی ادیبہ جوہانا مہرات نے مشہور نقاد شافع قدوائی کے ’روحزن‘ پر لکھے تبصرے’دی جرنی ویدین‘ (درون یا داخل کا سفر) کو پڑھ کر سنایا۔ ملحوظ رہے گذشتہ دنوں یہ تبصرہ انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ میں شائع ہوا تھا۔ شافع قدوائی نے’ روحزن‘ کے فنی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس ناول کے بیانیہ، موضوعات اور کہانی میں بیان کی گئی انسانی رشتوں کی بوقلمونیت کی ستائش بھی کی ہے۔ مشہور اردو ادیب سید محمد اشرف کے دو خط جو انہوں نے’روحزن ‘ پڑھنے کے بعد رحمن عباس کو لکھے تھے ،ان کی ڈرامائی قرأت معروف شاعر سکندر مرزا نے کی۔ سید محمد اشرف نے ’روحزن‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ میرے یقین کے مطابق اِس قدر طویل بیانیے کو اتنی فنکاری ، روانی اور قابلِ مطالعہ بنانے میں تم نے جس صلاحیت کا اظہارکیا ہے وہی اِس بات کا متقاضی ہے کہ تم سامنے ہو، تو تمہیں تادیر گلے سے لگا کر تمہاری پیشانی چومی جائے۔ انگریز ی شاعرہ اتسوی جھا نے اپنی وہ نظم پیش کی جو ’روحزن ‘میں شامل ہے۔دوسرے سیشن میں ’روحزن‘ پر تین مختصر فلمیں اسکرین پر دکھائی گئیں۔ پہلی فلم ناول کی ریڈنگ پر مبنی تھی جس میں ممبئی کی مناظر کشی کی گئی ہے۔ دوسری فلم ناول پر قارئین، ادیبوں اور ناقدین کی آرا پر مبنی تھی اور تیسری فلم پاکستانی صحافی اور افسانہ نگار اقبال خورشید کا ’روحزن‘ پر کیا گیا تبصرہ تھا جس میں خورشید نے کہا ہے کہ یہ ناول ’مسٹ ریڈبک‘ ہے اور اس کی ایک بڑی خوبی مطالعیت ہے۔
اس پُر رونق ادبی تقریب میں عبدالاحد ساز، احمد سوز، ایڈووکیٹ کشور ، سید ریاض رحیم، سبودھ مورے (مراٹھی ادیب)،ا سلم پرویز، وقار قادری، محمد اسلم ، دانش حبیب، شاہ نواز احمد، تری پراری شرما(اردو شاعر)، دھارمک پٹیل(انگریزی شاعر)، علی محمد دھامسکر، شلپا کامبلے ،(مراٹھی ناول نگار) عثمان عباس دھامسکر، معین انصار، ندھی بھٹ(گجراتی شاعرہ)وغیرہ شامل تھے۔ نظامت کے فرائض جاوید سجاول نے انجام دیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *