سمری بختیار پور میں عیسی فاونڈیشن گجرات کے تعاون سے رمضان امدادی کٹ کی تقسیم

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️
سہرسہ…… غریب، لاچار، معذور، بیوہ اور یتیم کو روزہ میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہو اور افطار اور سحری کے بغیر روزہ نہیں رہنا پڑے اس کے لئے عیسی فاؤنڈیشن جامعہ فیضان القرآن احمد آباد گجرات کے زیر تعاون سمری بختیار پور سب ڈویژن سطح پر “رمضان اناج پیکٹ تقسیم کیا گیا .


فدا ئے ملت ٹرسٹ مباركپور کے زیر اہتمام مبارک پور میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں فدائے ملت ٹرسٹ کے سرپرست مولانا محبوب الرحمن قاسمی نے عیسی فاؤنڈیشن گجرات کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ فاؤنڈیشن پورے ملک میں ذات مذہب سے اوپر اٹھ کر تعلیم، صحت، اور سماجی حمایت میں کام کرتی ہے اور اس کے علاوہ ایسی غریب لڑکیوں کی اجتماعی شادی کراتی ہے جو غربت کی وجہ سے جہیز دینے کے اہل نہیں ہوتے ہیں اور جوان بیٹیاں کنواری بیٹھی رہتی ہے. اس بنیاد پر گزشتہ مارچ میں 60 جوڑے کی اجتماعی شادی کی تقریب سمری بختیار پور میں منعقد کی گئی تھی اور آئندہ فاؤنڈیشن نے بہار میں 600 لڑکیوں کی اجتماعی شادی کرانے کا فیصلہ کیا ہے.


آج کی تقریب میں سمری بختیار پور سب ڈویژن کے تینوں بلاکوں سمری بختیار پور، سلكھوا اور بنما ايٹہري بلاک کے درجنوں گاؤں کے سینکڑوں لوگوں کے درمیان رمضان پیکٹ تقسیم کیا گیا اور تقسیم کا یہ پروگرام ابھی کئی دنوں تک چلے گا. رمضان کی آمد کو دیکھتے ہوئے تقسیم کے پروگرام کے لئے ذیلی سطح پر 5 تقسیم مرکز قائم کئے گئے ہیں. اس رمضان پیکٹ میں 15 کلو گرام چاول اور 15 کلو گرام اٹا، 5 لیٹر سرسوں تیل، دال، بیسن، شربت، چائے چینی، کھجور، مسالا سے لے کر نمک تک شامل ہے. آج ہی 3 بجے شام میں بنما بلاک کے مشرقی حصے کے دیہات کا مرکز بادشاه نگر میں رمضان المبارک پیکج کی تقسیم کیا جائے گا. اس موقع پر مولانا انظر عالم مفتاحي، حافظ ضیاء الدين ندوی، حافظ شکیل احمد، وجيہ احمد تصور، ماسٹر انور عالم، محمد ابو نصر، عبدالباسط، مہدی حسن، مشير عالم، انظر امام، ابو سعید وغیرہ موجود تھے.


رمضان پیکج کے پیکنگ سے لے کر تقسیم تک میں جن لوگوں نے بھرپور تعاون دیا ان میں محمد اسفر، بشر عالم، ابوحذیفہ ، محمد علی، حفظ الرحمن، محمد اسجد، مرتضی عالم، محفوظ عالم، محمد آصف، اسلم، امجد، اخلاق الرحمن ، یاسر عباس، تاج علی، محمد مجاهد، چمن، پرویز ، ندیم اختر کے علاوہ متحدہ نوجوان کمیٹی کے ارکان کا خصوصی تعاون رہا.

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply