خواتین کی زندگی میں رنگ بکھیرتی رنگ سترا

Anis new 1محمد انیس الرحمن خان
ہندوستانی قوم کے لیے نظیر اکبر آبادی محتاج تعارف نہیں ہیں، وہ ایک عوامی شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش دہلی میں سن ۱۷۴۰ء میں ہوئی جبکہ انتقال آگرہ میں ۱۸۳۰ء میں ہوا۔وہ رزق کی تنگی وکشادگی کے تعلق سے اپنی مشہور نظم ’’وٹیاں‘‘میں فرماتے ہیں کہ جس جا پہ ہانڈی چولھاتوا اور تنور ہے ،خالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ رزق اللہ تعالیٰ کی آزمائش بھی ہے اور رحمت بھی۔کبھی رزق کی کشادگی تو کبھی تنگی۔ معاش ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے لیے دنیا کا ہر انسان بلکہ ہر جاندار ہمہ وقت فکرمند رہتا ہے اور اپنی وساطت کے مطابق اس کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

اگر کوئی فیملی کا ہیڈ ہے تو پورے کنبہ کی فکر کرتا ہے اور اگر کوئی ملک کا سربراہ ہے تو اپنے ملک کے تمام باشندگان کے لیے فکرمند رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم بھی دنیا میں گھوم گھوم کر لوگوں کو میک ان انڈیا یعنی ہندوستان میں آکر سامان بنانے کی دعوت دے رہے ہیں ، تاکہ یہاں کے باشندوں کو تلاش معاش کے لیے زیادہ تگ ودو نہ کرنا پڑے ۔کسی کسان یا طالب علم کو پھانسی کا سہارا لے کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر نے کی نوبت نہ آئے، اس لیے ہنر مندی پر زور دیتے ہوئے اپنے ملک کے باشندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ میں ہندستانی قوم کو یہ عہد لینے کی دعوت دیتا ہوں کہ ہنر مندی کی مہارت میں دنیا کی دارالحکومت ہندوستان کو بنائیں۔

Rangsutra
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک بہت بڑی جماعت ایسے افراد کی بھی ہے جو اپنی آدھی زندگی حصول تعلیم میں گذارنے کے بعد باقی کی زندگی کو سرکاری ملازمت کی تلاش میں برباد کر رہے ہیں،کیونکہ سرکاری ملازمتیں محدود ہوتی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا سرکاری ملازمت کے نام پر استحصال بھی ہورہا ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ تعلیم کا مطلب سرکاری ملازمت نہیں ہے،بلکہ گاندھی جی کے مطابق تعلیم وہ شئے ہے جو اپنے حاصل کرنے والوں کی ہمہ جہت شخصیت کی نشوونما کردے۔مطلب صاف ہے کہ آپ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے دوسرے ذرائع یعنی ہنر،دستکاری،فنکاری یا تجارت وغیرہ کو بھی استعمال میں لاسکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک نئی وزارت منسٹری آف اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیرشپ تشکیل دی گئی ہے ، جس کے تحت ’پرھان منتری کوشل وکاس یوجنا‘ (پی ایم کے وی وائی) ’’اڑان‘‘، حمایت ، اسٹینڈرڈ ٹریننگ اسسمنٹ اینڈ ریوارڈ (ایس ٹی اے آر) وغیرہ ۔ ان سب اسکیموں کے تحت آپ کے علم ، صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق نہ صرف ہنر سکھائے جاتے ہیں بلکہ انہیں پیشہ کے طور پر اپنانے اور اس میدان میں کام کرنے کے لیے قرض بھی دیے جاتے ہیں تاکہ تعلیم یافتہ نوجوان بوجھ بننے کے بجائے اپنے فن وہنرکو بروئے کار لاتے ہوئے چھوٹی یا بڑی سطح پر کل کارخانے اور اپنی تجارت کو فروغ دے کر دوسروں کا بھی سہار ا بن سکیں۔

دورحاضر میں انٹر نیٹ اور جدید ٹکنالوجی کی وجہ سے دنیا سمٹ کر آپ کے ہاتھوں میں آچکی ہے، آپ گھر بیٹھے معلومات حاصل کر کے وہ سب کرسکتے ہیں جو اب تک نہیں کرپائے ہیں۔لیکن کرنا ضروری ہے کیونکہ نظیر اکبر آبادی کے مطابق:
روٹی نہ پیٹ میں ہوتو پھرکچھ جتن نہ ہو
میلے کی سیر خواہش باغ وچمن نہ ہو
بھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہو
سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو

وہ مزید کہتے ہیں:
اللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں
آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں

اس لیے روٹیاں حاصل کرنے کے لیے ذریعہ معاش ضروری ہے۔

دستکاروں ، ہنرمندوں اور کسانوں کو معاش فراہم کرنے والی ایسی ہی ایک کمپنی ’’رنگ سترا‘‘ہے۔ اس کا قیام سال۲۰۰۶ میں سمیتا گھوش نامی ایک بیوہ خاتو ن نے کیا۔ اس کمپنی میں ہندوستان بھر کے دوردراز علاقوں سے حاشیہ نشینوں اوربے سہارا دستکاروں کو خواہ وہ راجستھان کے ریگستان یا اتراکھنڈ،کشمیر اور آسام کے پہاڑی علاقوں کے باشندے ہوں،ہزاروں ہنرمندوں کو صرف کام ہی نہیں ملتا ہے ،بلکہ باضابطہ ان کی حصہ داری بھی ہوتی ہے۔

اس کمپنی کے خاص مقاصد میں (الف) ہنرمندوں اور خریداروں کے درمیان پل کا کام کرنا،(ب)ماضی اور دور حاضر میں تناسب برقرار رکھنا، (ج)تبدیلی اور تسلسل بنائے رکھنا، (د)ملک بھر کے دستکاروں اور کسانوں کا باعزت تسلسل کے ساتھ ان کی بہترین دستکاری کے ذریعہ انہیں روزگار فراہم کرنا۔جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے دیہی قلم کار ریاض ملک کے مطابق ’’۲۶؍جنوری ۲۰۱۵ء کو دہلی میں واقع غیر سرکاری تنظیم چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک کے زیر اہتمام راجستھان کے سرحدی ضلع بیکانیر کے بجوعلاقہ میں واقع ارمول ٹرسٹ جانے کا موقع ملا ۔ جہاں چاروں طرف ریت ہی ریت ہے ، میدانی علاقہ ہے ، انسانی آبادی بہت دور دور پر ہے ۔ارمل ٹرسٹ کے اراکین سے ملی جانکاری کے مطابق مقامی لوگوں کی ذاتی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ ایسے طبقات کوتلاش کیا گیا جن کا وراثتی وروایتی پیشہ دستکاری تھا ۔ مگر تقسیم ملک کی وجہ سے پاکستان سے آنے کے بعد دھیرے دھیرے ان کاہنر ختم ہوتا جا رہا تھا ۔ارمول سیمانت نے رنگ سترا کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو دوبارہ اسی پیشہ کی طرف راغب کیا۔ ان کی معاونت کی ، ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزوں کو بازار تک لے جانے میں اپنا اہم رول اداکیا ۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کی بنی ہوئی چیزیں ان کی بہترین کاریگری کی وجہ سے ملک و بیرون ممالک رنگ سترا کے ذریعہ بڑے بڑے بازاروں میں جانے لگیں۔ ان لوگوں کی کاریگری خاصی شہرت حاصل کر چکی ہے ۔ اس بارے میں کہ موہنی نامی ایک خاتون نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ’’میں ایک عام عورت تھی مگر جب سے ہم نے رنگ سترا کے ساتھ اپنا رابطہ جوڑا ہے ہماری زندگی بہتر ہو گئی ہے۔ ہمارے کام کی وجہ سے سال ۲۰۱۴ء میں مجھے ہندی فلم کی مشہور اداکارہ پرینکا چوپڑا کے ہاتھوں دہلی میں اوشا انٹرنیشنل سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے ،جو میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔میں مشورہ کے طور پر آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ بھی لکھنے کے ساتھ لوگوں کو کپڑوں پر کشیدہ کاری کے لیے تیار کریں ، مال اچھا ہو گا تو بازارخودآپ کو ڈھونڈے گا ، آپ کو بازار تلاش نہیں کرنا پڑے گا‘‘۔

Collaboration2 (1)
رنگ سترادیہی علاقوں اور ملک کے چھوٹے شہروں میں دستکاروں کے چھوٹے چھوٹے گروپ بناکر ان کے ساتھ کام کرتاہے،جس میں مختلف اقسام کا ہنر رکھنے والے فنکار موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ بنکر،کچھ رنگریز،کچھ سوت بنانے والے، کچھ کپڑوں پر دستکاری کرنے والے اور کچھ گروپ کو منظم کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس کے لیے وہ روایتی قسم کی کشیدہ کاری کو جدید انداز میں کرنے کی تربیت بھی فراہم کراتی ہے اور انہیں کاریگروں کو ملک و بیرون ملک بھیج کر ان کے ذریعہ تیار شدہ مال کو فروخت بھی کرواتی ہے۔ اس طرح مذکورہ کمپنی نہ صرف کاریگروں کے ہنر میں رنگ بکھیرتی ہے بلکہ ان کو بازاروں تک لے جاکر انہیں ان کی مناسب قیمت اور جانکاری بھی فراہم کراتی ہے۔
اس بارے میں۶۳؍سالہ محترمہ پشپا کہتی ہیں کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کا ضلع تھار پارکرکے ۱۹۷۱ء میں آنے والی خواتین کشیدہ کاری میں یکتا ہوتی تھیں ، ان کے اس فن کو ہم لوگوں نے نہ صرف زندہ کیا بلکہ انہیں مالی فائدہ بھی پہنچایا۔ آج تقریباً ایک ہزار خواتین اس فن کے ساتھ ہماری تنظیم سے منسلک ہیں۔

واضح ہوکہ خود پشپا بنگلہ دیش اورجنوبی افریقہ سمیت کئی ملکوں کا دورہ کرچکی ہیں۔پاکستان کے صوبہ سندھ سے ۱۹۷۱ء میں آئی پارو بائی کہتی ہیں کہ ’’میں بارہ سال کی تھی، جب سنا کہ ہندوستان جانے کا دروازہ کھلا ہے ، ہم لوگ ابلتا ہوا دودھ چولہے پر چھوڑکے ہندوستان جانے والے قافلے کے ساتھ چل پڑے ،یہاں آکر راجستھا ن کے ضلع باڑھ میر میں دس سال قیام کرنے کے بعد حکومت نے بیکانیر کے سرحدی علاقوں میں ایک مربع(پچیس بیگھہ) ریتیلی زمین دی تھی۔ مذکورہ کمپنی نے ہمیں کشیدہ کاری سے نہ صرف جوڑا ہے بلکہ ہمیں اتنا بیدار کیا ہے کہ میں اس سال پنچایت الیکشن لڑنے کی تیاری میں تھی، مگر ریاستی حکومت نے آٹھویں پاس کی قیدلگادی ہے، اس لیے ہم چاہتے ہوئے بھی نہیں لڑپائے۔‘‘ بیکانیر سے تقریباً ۱۸۰؍کلو میٹر دور ڈوڈی گاؤں کی باشندہ اور کمپنی کی شیئر ہولڈر بھنوری بائی کہتی ہیں کہ ’’ہم لوگ پاکستان کے میر پور خاص ،سندھ سے آئے تھے، ہم لوگوں کو کھانے کے بھی لالے پڑگئے تھے،مگر جب سے کشیدہ کاری کے کام سے جڑے ہیں تب سے ہماری زندگی ہر طرح سے بہتر ہوگئی ہے۔ہمارے بچے اب نہ صرف اسکول جاتے ہیں،بلکہ ہماری بیٹی بی ایڈ کر کے پنچایت کا انتخاب لڑرہی ہے۔جب کہ میرا بیٹا انجینئرنگ کر رہا ہے۔ہمارے علاوہ گاؤں کی کئی دستکار خواتین رنگ سترا نامی کمپنی کی شیئر ہولڈر بھی ہیں ۔‘‘

وہ سماجی تبدیلی کے تعلق سے بتاتی ہے کہ ’’پہلے ہم لوگ گھروں کے اندر قید رہتے تھے، اب دیکھو، (وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں) کہ میں بیٹھی ہوں اور میری ساس چائے بناکر لارہی ہے۔یہ سب رنگ سترا کی دین ہے۔‘‘دراصل رنگ سترا کے ذریعہ سمیتا گھوش نے دیگر خواتین کی زندگیوں میں رنگ بھردیاہے۔ خواہ وہ دہلی، راجستھان،منی پور، آسام، یوپی،مغربی بنگال،تلنگانہ،کرناٹک ہو یا جموں وکشمیر، رنگ سترا خواتین کو نہ صرف باعزت روزگار سے منسلک کر رہی ہے بلکہ ان میں قوت فیصلہ پیداکرکے انہیں بااختیار بھی بنارہی ہے۔

رنگ سترا کی بانی اور موجودہ سی ای او سمیتا گھوش بتاتی ہیں کہ ’’میں اس طرح کی شاخیں اور بھی دوسرے مقامات پر قائم کرسکتی ہوں، شرط یہ ہے کہ بیس سے پچیس خواتین کا ایک گروپ ہو،میں اپنا ٹرینر بھیج کر ان خواتین کو تربیت بھی دلاسکتی ہوں،ہماری کمپنی دہلی کے اقلیتی علاقہ بستی حضرت
نظام الدین ؒ میں آغا خان فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر وہاں کی لڑکیوں اور خواتین کو بھی معاش کا ذریعہ فراہم کرارہی ہے۔حال ہی میں اترپردیش کے بھدوہی میں بھی ہم نے اپنا کام شروع کیا ہے۔‘‘ مذکورہ کمپنی کے کام کو بالعموم ہندوستان اور بالخصوص خواتین کی ترقی میں حصہ داری کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *