پاکستان کے لئے تڑپنے والی موجودہ حکومت کے دل میں غریب عوام کے لئے کوئی جگہ نہیں

سہرسہ…. (وجیہ احمد تصور) راشٹریہ جنتا دل اقلیتی سیل کے ریاستی جنرل سیکرٹری میر رضوان نے رانی باغ دھرنا میں 12 ویں دن شامل ہوکر لوگوں کے حوصلے کو بڑھایا اور سی اے اے اور این آر سی و این پی آر کے خلاف خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دل میں پاکستانیوں، افغانوں اور بنگلہ دیشی کے لئے تو جگہ ہے مگر بھارت کے جو غریب، بےروزگار، محتاج لوگ ہیں ان کے لئے ان کے دل میں کوئی درد نہیں ہے اگر وہ درد ہوتا تو مسائلوں سے جوجھ رہے لوگوں کے بنیادی سوالات کے حل کرنے کی طرف حکومت توجہ دیتی مگر وہ دوسرا راگ الاپ رہی ہے اور ابھی اقتدار بچانے کے لئے مندر مسجد، مذہب کی لڑائی کا کھیل ہو رہا ہے. انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے ذریعے تینوں ملکوں سے لوگوں کو بھارت کا شہری بنانے کے کھیل کے پیچھے بھی اقتدار کا راز چھپا ہے کیونکہ کھسکتے عوامی سپورٹ کی وجہ سے اپنے ووٹ بینک بڑھانے کے لئے یہ کھیل شروع ہوا ہے تاکہ کرسی برقرار رہے.سوال یہ اٹھتا ہے کہ جن کے پاس زمین نہیں ہے وہ کاغذ کہاں سے دکھائیں گے.

اس لئے پورے ملک کی آدھی آبادی آج سڑکوں پر ہے مگر افسوس ہے کہ حکومت جمہوری طریقے سے آواز اٹھا رہے اپنے ہی ملک کے شہریوں کی آواز نہیں سن رہی ہے. اس موقع پر اپنے خطاب میں منوج کمار پاسوان نے کہا کہ یہ جو این آر سی، سی اے اے اور این پی آر کا معاملہ ہے یہ ظاہر طور پر مسلمانوں کے خلاف ہے مگر اصل نشانہ ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی کے لوگ ہیں. ہندو ہندو کا نعرہ دینے والے لوگ سماج میں برابری کا درجہ نہیں دیتے ہیں. آج بابا صاحب کے سنویدھان پر جو خطرہ لاحق ہوا ہے اس کے لئے ہمیں جاگنے کی ضرورت ہے مگر آج بھی زیادہ تر لوگ غلط فہمی کے شکار ہیں کہ اس قانون کا ان پر اثر نہیں پڑے گا. منوج پاسوان نے کہا کہ انہیں شکایت مسلمانوں سے بھی ہے جنہوں نے اپنے نبی کے اس حکم پر عمل نہیں کیا کہ اپنے کھانے سے پہلے پڑوسی کے گھر بھی جھانک لو کہ وہاں لوگ کس حال میں ہیں ورنہ آج لوگوں کو غلط فہمی پھیلانے کا موقع نہیں ملتا.

پروگرام کے کنوینر چھتری یادو کی صدارت میں منعقد اس دھرنے کی نظامت پن پن یادو، شہنوازبدرقاسمی نے انجام دیئے. اس موقع پر راجد اسٹوڈنٹس لیڈر اور سماجی کارکن جاوید انور چاند، مولانا آفتاب ندوی ،کمال الدین، صدام حسین وغیرہ نے بھی سی اے اے اور این آر سی و این پی آر کے خلاف اپنی مخالفت درج کراتے ہوئے حکومت کو ملک کے مفاد میں اس قانون کو واپس لیکر لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل کی طرف دھیان دینے کی اپیل کی. موقع پر سریندر یادو، ممتاز رحمانی، جاوید اختر گڈو، عقیل احمد، وجیہ احمد تصور ،چاند منظر امام، سید ہلال اشرف، عبدالسلام امین ،حافظ فیروز عالم ،شاہد جمیل، تاج علی، آصف اقبال وغیرہ موجود تھے.

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply