خواتین دوپٹے کا پرچم بنانے کا بھی ہنر رکھتی ہیں : مفتی وصی قاسمی

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️

ہماری بہنوں کے سروں پر جو دوپٹہ ہے حجاب ہے اور آنچل ہے یہ اپنی عزت، عصمت کی حفاظت کے لئے اپنے سروں پر یہ چادر تانتی ہیں لیکن پورے ملک ہندوستان میں  سنویدھان کو بچانے کے لئے سڑکوں پر بیٹھ کر یہ ثابت کر دیا ہے اگر ضرورت پڑ جائے اس دیش کو بچانے، اس کے سنویدھان کو بچانے کی تو یہ اپنے دوپٹے کا  پرچم بنانے کا بھی ہنر رکھتی ہیں اور شاہین باغ سے لیکر رانی باغ تک کی خواتین نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی صورت میں مردوں سے کم نہیں ہیں اور ملک کی شان کے لئے اپنی جان کو قربان کے لئے تیار ہیں ایسے جذبے کے ساتھ جب میدان میں اتر جائے تو کامیابی قدم چوم لیتی ہے اور انشاء اللہ بہت جلد اس معاملے میں بھی حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑے گا

 

درج بالا خیالات کا اظہار امارت شرعیہ پھلواری شریف کے نائب قاضی مفتی وصی احمد قاسمی سہرسہ ضلع کے سمری بختیار پور کے رانی باغ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا. این آر سی، سی اے اے اور این آر پی کے خلاف گزشتہ 20 جنوری سے جاری اس دھرنے کو جہاں جمعرات کو جے این یو کے طلباء یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے ریکارڈ بھیڑ بھرے مجمع سے خطاب کیا تھا وہیں آج جمعہ کو امارت شرعیہ کے مفتی وصی احمد قاسمی اور نوجوان شاعر فیصل سیہوروی دھرنے میں شرکت کر لوگوں کے حوصلے کو بڑھایا. ایک طرف جہاں وصی قاسمی نے اپنے تقریر میں اس قانون سے ہونے والے نقصانات اور ہندو مسلم کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کے وجوہات پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے سوالات سے ہر شہری کو گذرنا پڑیگا اور جس کے پاس کاغذات نہیں ہونگے ان سب کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑےگا اور نشانے پر ایس سی ایس ٹی او بی سی ہیں مگر اس کو ہندو مسلم کر لوگوں کے ذہنوں کو بھٹکا کر بنیادی سوالات سے لوگوں کا دھیان ہٹانا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی نہ کسی پارٹی سے ہے نہ کسی لیڈر سے ہے بلکہ ہماری لڑائی اس سوچ اور وچار دھارا سے ہے جو وچار دھارا اس ملک کے سمانتا کو ختم کرنے اور بابا صاحب امبیڈکر کے سنویدھان کو مٹانے کے لیے ہے. ہم ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے. انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا پاکستان سے کچھ مطلب نہیں ہے کیونکہ ہم ہندوستان میں بائ چوائس ہیں بائ چانس نہیں. اس زمین کو ہم اتنا پیار کرتے ہیں کہ پانچ وقت اس پر اپنے پیشانی کو رکھتے ہیں. یہ ملک گاندھی، نہرو، شبھاش، مولانا آزاد، اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل، ویر عبدالحمید کے وچاردھارا پر چلے گا گوڈسے اور ساورکر کے وچار دھارا سے نہیں .
نوجوان شاعر فیصل سیہوروی
اس کے بعد فیصل سیہوروی نے اپنے انقلابی شاعری سے لوگوں کے جوش و جذبے کو خوف ابھارا اور خوب تالیاں بٹوری. رانی باغ دھرنا جس نے بہار میں اپنی الگ پہچان بنا لیا ہے جس کے کنوینر اگر چھتری یادو ہیں تو سرگرم رکن منوج پاسوان اور سریندر یادو ہیں. اس پروگرام کی جان پن پن یادو ہیں جو بھوکے پیاسے دن بھر اسٹیج سنبھال کر نظامت کے فرائض انجام دیتے اور جوش و جذبے کے ساتھ تقریر اور قانونی پیچیدگیوں سے واقف کراتے رہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اب تک یہاں کئ قومی سطح کے لیڈران تشریف لا چکے ہیں اور آئندہ 15 فروری کو اردو کے مشہور و مقبول شاعر عمران پڑتاپ گڈھی بھی تشریف لائیں گے. پروگرام میں شریک لوگوں میں مفتی شاداب قاسمی، سید ساجد اشرف، سید ولی اشرف، حافظ محمد ممتاز رحمانی، ڈاکٹر معراج عالم، وجیہ احمد تصور ،شہنوازبدرقاسمی ، عقیل چاند ،نعمان خاں، شفاءالحق، حافظ فیروز ،سبطین فریدی، فیروز عالم، تحسین رضا ،شمشاد عالم وغیرہ موجود تھے.
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply