موجودہ حکومت سیاسی مفاد کے لئے قومی یکجہتی کا شیرازہ بکھیر رہی ہے.. ڈاکٹر سادا

ڈاکٹر تارانند سادا دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے

سمری بختیارپور(جعفرامام قاسمی)سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں سیاہ قانون کے خلاف گزشتہ 20جنوری سے چل رہے دھرناکے 24ویں دن بھی مظاہرین میں کافی جوش وخروش دیکھنے کوملا۔آج کے دھرنامیں آل انڈیاکانگریس کمیٹی کے قومی رکن تارانند سادا،کانگریس کے صوبائی سکریٹری رام ساگرپانڈے اور کانگریس کے یوتھ لیڈر و مکھیا مکیش کمار جھا سمیت دیگرکئی لیڈران نے شرکت کی۔دھرناکوخطاب کرتے ہوئے تارانند سادانے کہاکہ جس آزادی کے لیے ہمارے بڑوں نے جوبے مثال قربانیاں پیش کی تھی ہماری مرکزی حکومت اسی آزادی کودھیرے دھیرے ہم سے چھین کرپھرسے ہمیں غلامی کی زنجیرمیں جکڑنے کی ناپاک کوشش کررہی ہے۔انہوں نے دھرنامیں موجودخواتین کے جذبات اوران کی قربانیوں کوسراہتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ جس حوصلے کے ساتھ اس لڑائی کولڑرہی ہیں اس پرہم لوگوں کوکوفخرہے۔آج اس ہٹلرشاہی حکومت کے خلاف بی جے پی مخالف ساری جماعتیں کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگراسی حوصلے کے ساتھ ہم اورآپ اس ملک دشمن جماعت کے خلاف آوازبلندکرتے رہے توحکومت کواپنے ناپاک ارادے بدلنے پڑیں گے ۔اورنفرت کی سیاست کاجنازہ اٹھ کررہے گا۔

وہیں کانگریس کے صوبائی سکریٹری رام ساگرپانڈے نے کہاکہ ہمارے ملک کے آئین پرحملہ اوراس کے اثاثے اورخزانے کی ڈاکہ زانی یہ کسی محب وطن کوبرداشت نہیں ہوسکتا۔آج جوجماعتیں،جوکمیٹیاں اوربالخصوص ہماری مائیں اوربہنیں دستورہندمخالف قانون سی اے اے،این پی آراوراین آرسی کے خلاف رات ودن تحریک چلارہی ہیں اصل میں ملک کاسیکولریہی طبقہ ملک کاوفادارہے اورجواس کے خلاف کی راہ اختیارکیے ہوئے وہ کسی قیمت پرملک کے وفادارنہیں ہوسکتے۔

وہیں آج کے دھرناسے مکھیامکیش کمارجھانے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس دستوربچاو تحریک میں ہماری خواتین کی حصہ داری کافی اہمیت کی حامل ہے۔کسی تحریک میں خواتین کی اتنی بڑی حصہ داری نہیں رہی۔اورہمیں پورایقین ہے کہ انہی کی وجہ سے ہماری یہ تحریک کامیاب ہوگی۔اورجس طرح دھلی کے عوام نے اس حکومت کی گندی سیاست پرجھاڑوچلایادوسری ریاستوں میں بھی آئندہ اسی طرح اس کاصفایاہوگا۔ اس موقع پر کئ دیگر لوگوں نے بھی شاعری، تقریر اور نعروں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا. آج کے دھرنامیں شامل دیگر لوگوں کے علاوہ چھتری یادو، منوج پاسوان ،پن پن یادو، سریندر یادو، چاند منظر امام، سید ہلال اشرف، پروفیسرنعمان خاں، ممتاز رحمانی، جاوید اختر گڈو، وجیہ احمد تصور ، شہنوازبدرقاسمی ،شفاؤالحق،منور عالم، محبوب عالم، منظور عالم، مکھیا سعد الدین، سلام آمین، شمشاد عالم، لطف الرحمن، وغیرہ موجود تھے.

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply