ہندو مسلم کے نام پر لوگوں کو لڑا کر اپنی حکومت کی کمیوں کو چھپانے کی سازش ہے. مولانا شبلی القاسمی

مولانا شبلی القاسمی خطاب کرتے ہوئے
وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️
جو لوگ کہتے ہیں کہ سی اے اے قانون شہریت دینے والا قانون ہے شہریت لینے والا نہیں تو شاید ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ شہریت دینے والا قانون تو پہلے سے ہی موجود ہے. یہ اپنی کمزوری اور جائز مانگوں سے لوگوں کا دھیان بھٹکانے کی سازش ہے. ہندو مسلم کے نام پر لوگوں کو لڑا کر اپنی حکومت کی کمیوں کو چھپانے کی سازش ہے. پہلے ملک کو اوپر لے جاتے، ترقی کی زینے پر پہنچا دیتے تب لوگوں کا وشواش قائم ہوتا. حکومت نوکری دینے میں ناکام ہو چکی ہے، حکومت بے روزگاری دور کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، لوگوں کو تعلیم، حفاظت اور مہنگائی سے بچانے میں ناکام ہوچکی ہے اس لئے یہ سی اے اے، این آرسی اوراین پی آر کا شوشہ اور کالے قانون کا کالا سایہ ملک پر ڈالا گیا ہے.
 درج بالا خیالات کا اظہار امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے قائم مقام ناظم حضرت مولانا شبلی القاسمی نے سمری بختیار پور کے رانی باغ میں سی اےاے ،این آرسی اوراین پی آرمخالف دھرنا کے 32 ویں دن مجمع عام کو خطاب کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کہا کہ دیش نفرت کی سیاست سے نہیں محبت کے اصولوں سے چلے گا،اس دیش کی سنسکرتی اور مزاج میں امن،انصاف اور بھائی چارہ ہے ،یہاں گنگا جمنا ساتھ میں بہتی ہے ،یہاں ایسی حکمرانی اور ایسا قانون کبھی نہ کامیاب ہوا اور نہ ہوگا،جس قانون اور حکمرانی کا مقصد نفرت،فساداور فرقہ پرستی ہو ملک کا قانون بھی مذہبی،لسانی اور علاقائی بنیاد پر کسی بھید بھاؤ اور عصبیت کی اجازت نہیں دیتا، ملک کے حکمرانوں کا فرض ہے کہ تمام طبقات کی ترقی،انصاف کی یکساں فکرمندی کرے اور اس کا
نظام بنائے.
قاری باطن فیضی اپنے کلام پیش کرتے ہوئے
مولانا نے اپنے بیان میں فرمایاکہ افسوس یہ کہ موجودہ سرکار بھید بھاؤ کر رہی ہے اور ترقی کے بجائے ملک کو زوال اور نقصان کی طرف لے جا رہی ہے ،جس سے ملک کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے اور ملک کا اتحاد بھی سخت خطرے میں ہے ،این پی آر،سی اے اے اور این آرسی کا قانون بھی ملک میں بھید بھاؤ اور انارکی پھیلانے والا قانون ہے ،جو کسی طرح ملک کے لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے ،اسی لیے اس کے خلاف ملک کے تمام مذاہب اور علاقوں کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں،ملک کی خواتین نے اپنے گھروں کی حفاظت کے ساتھ ملک کی بھی حفاظت کا جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ، اس قانون سے کسی کا فائدہ نہیں ہونے والاہے ، اس قانون کے بعد این آرسی اور این پی آر کا ظالمانہ نظام ملک کے باشندوں پر تھوپا جائے گا۔این پی آر اور این آرسی ملک کا قانون سب پر نافذ ہوگا،چاہے وہ کسی دھرم کے ماننے والے ہوں۔ ملک کاغذات کے اعتبار سے اتنا پیچھے ہے کہ ملک کی اکثریت کے پاس کاغذات یا تو نہیں ہیں اگر ہیں تو بہت سی کمیاں ان میں ہیں،اس لیے اس قانون سے ملک کے باشندوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا،اور پورا ملک افرا تفری کا شکار ہوجائے گا،اس لیے حکومت کوفوری طور پر اس قانون کی واپسی کا فیصلہ لینا چاہیے اور جوابدہی کو سمجھنا چاہیے ،غرور اور انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔ مولانا شبلی قاسمی نے خواتین کے جذبے اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسی ماں بہنیں جس دیش کو مل جائیں وہ کبھی غلام نہیں ہو سکتا ہے.
   آج کے دھرنا میں اتر پردیش سے تشریف لائے مشہور و معروف شاعر قاری باطن فیضی نے اپنے حب الوطنی جوش و جذبہ سے لبریز شاعری پیش کر محفل کو کافی جوش و امنگ کا محور بنا دیا. چھتری یادو کی صدارت اور پن پن یادو، ہلال اشرف اور شاہنواز بدر قاسمی کی نظامت میں دھرنے کو چھوٹے چھوٹے بچے بچیوں نے این آر سی کے خلاف جم کر اپنے مقالات اور شاعری کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا.
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply