عوام کی آزادی مودی حکومت کوپسندنہیں۔کنہیاکمار

عوام کی آزادی مودی حکومت کوپسندنہیں۔کنہیا
رانی باغ دھرنامیں موجودہزاروں کے مجمع سے کنہیاکاخطاب


سمری بختیارپور(جعفرامام قاسمی)سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں سی اے اے،این پی آراوراین آرسی کے خلاف 20جنوری کوشروع ہوئے دھرنا کے آج اٹھارہویں دن جے این یوکے سابق طلبہ لیڈر کنہیا کمار نے شرکت کی، جنہیں قریب سے دیکھنے اور سننے کے لیے صبح کے سات بجے سے ہی دھرناگاہ میں مرد و عورت کا تانتا لگنا شروع ہوگیا۔ ہر ایک اسٹیج سے قریب جگہ لینے کے لیے بے تاب نظر آرہا تھا۔ اسی کیفیت کے ساتھ دیکھتے دیکھتے دھرناگاہ سے باہر کے حصے بھی لوگوں سے بھرگئے۔ یہاں تک کہ آس پاس کے مکانات کی چھتیں بھی خواتین سے پر ہوگئیں۔پچاس ہزارسے زائداس جم غفیرکوسنبھالنے اورشرپسندعناصرپرگہری نظررکھنے کے لیے پولیس انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ پولیس کے جوان تعینات کیےگئے تھے۔اوراس کے لیے کمیٹی کی جانب سے 100سے زائد رضاکارکوبھی دھرناگاہ کے مختلف حصوں میں لگایاگیاتھا ۔گیارہ بجے کے قریب کنہیاکمارکاقافلہ رانی باغ پہنچااورکنہیااپنی گاڑی سے اترکررضاکاروں اورپولیس کے جوانوں کی گھیرابندی کے درمیان چلتے ہوئے اسٹیج پرپہنچے۔

اسٹیج پربراجمان ہونے کے بعدان کے ساتھ آئے کانگریس کے ایم ایل اے شکیل خان نے حاضرین کوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ سی اے اے،این پی آراوراین آرسی کے خلاف شروع کیے گئے جن گن من یاتراکوروکنے اوران سیاہ قوانین کے خلاف چلی اس تحریک کوختم کرنے کے لیے کچھ مقامات پراس یاتراکوجونشانہ بنایاگیااس سے صاف واضح ہوگیاہے کہ بی جے پی اورآرایس ایس کے لوگ گوڈسے کی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں جووطن عزیزکوہندوراشٹربنانے کے خواب دیکھاکرتے تھےاورسیکولرزم کےسخت دشمن تھے۔ان کے خطاب کے بعدکنہیاکمارنے مجمع سے ایک طویل خطاب کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ مودی حکومت کوعوام کے درپیش مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اسے صرف اپنی کرسی سے مطلب ہے۔اپنے کرسی کی خاطراس نے انگریزوں کی طرح لڑاواورحکومت کروکی پالیسی اپنالی ہے۔اوراسی کے ساتھ اس حکومت نے ایک دوسری بھی پالیسی اپنائی ہے اوروہ ملک کے سرکاری اثاثے اورخزانے کوخالی کرنے کی پالیسی ہے۔ان دونوں پالیسیوں کوعملی جامہ پہنانے کے لیے اس حکومت نے 370،بابری مسجدتنازع،تین طلاق اوراب سی اے اے اوراین پی آرلائی ہے جودستورہندکے بالکل مخالف ہے۔انہوں نے کہاکہ ان ساری غیرضروری چیزوں کولاکراس میں عوام کوالجھایاگیااوراس گہماگہمی کے ماحول میں بڑی چالاکی سے ایرانڈیا،ریلوے،ایل آئی سی اورملک کے دوسرے اثاثے کوپرائیوٹ کمپنیوں کے ہاتھوں بیچنے کی تیاری بڑی تیزی کے ساتھ چل رہی ہے۔ اوردوسرے یہبکہ ان چیزوں کے ذریعے اقلیتوں کوپریشان کرنے کاایک مہلک حربہ اپنایاگیاہے جس کی وجہ سے اس ملک کی گنگاجمنی تہذیب مسمارہورہی ہے اورمسلمانوں اورہندووں کے درمیان کسی قدرجواتحاداورمحبت باقی ہے اسے ختم کرکے دونوں طبقوں کے درمیان دراڑڈال کرلڑاواورحکومت کروکی پالیسی میں کامیاب ہونے کی مکمل کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے عوام کوخاص توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں کوحکومت کی اس عیاری کوسمجھناہوگااوراس کی اس گندی پالیسی کوناکام بنانے کے لیے پورے ملک میں جویہ تحریک چل ریی ہے اسے مزید تقویت دیناہوگا۔ان کے علاوہ آج کے دھرناسے سی پی آئی لیڈراوم پرکاش ناراین،گنجن دیوی،ابھے کمار،پن پن یادو،سریندریادو،مجنوں حیدر،ارون کمار،عبدالسلام اورراج کمارچودھری نے خطاب کیا۔اوردھرناکی صدارت کے فرائض چھتری یادونے انجام دیاجب کہ نظامت کے فرائض سیدھلال اشرف اورشہنوازبدرقاسمی نے مشترکہ طورپرانجام دیا۔وہیں آج کے دھرنامیں صحافی اسفرفریدی،وجیہ احمدتصور،ممتازرحمانی،شبیرعالم،تحسین عالم،مدثرحسین،چاندمنظرامام،محبوب عالم،پروفیسرنعمان،نوشادعالم, عقیل احمد وغیرہ نے خصوصی طورپرشرکت کی۔واضح رہے کہ آج کے دھرنامیں آئی ہزاروں کی بھیڑکوکنٹرول کرنے اورپرامن طریقے سے پروگرام کرانے کے لیے پولیس انتظامیہ کی جانب سے بختیارپورتھانہ سمیت کئی تھانوں کے پولیس جوان تعینات کیے گئے تھے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply