قلم کی طاقت کا احساس

محمدانیس الرحمٰن خان،ڈپٹی ایڈیٹر و پروجیکٹ منیجر چرخہ فیچرس

تحریری ورکشاپ کے دوران سوال وجواب کا عملی مشق
تحریری ورکشاپ کے دوران سوال وجواب کا عملی مشق

کسی بھی ملک وقوم کے لئے اس کی نوجوان نسل کتنی اہمیت کی حامل ہے اس کا اشارہ محض اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ ملکی وقومی رہنماﺅوں کے نشانے پر نوجوان نسل ہی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ خود خالقِ کائنات کو بھی یہ نسل اتنی پسند ہے کہ جوانی کی عمر میں کی گئی عبادتوں کو کافی پسندیدگی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک دوست و دشمن عناصر بھی اسی نسل کو نشانہ بناکر انھیں کے مضبوط کندھوں کا تعمیر وتخریب کے لئے سہارا لیتے ہیں۔ لیکن ان کے مضبوط جسم وجذبہ اور ارادے کو درست سمت دے کر علامہ اقبال کے مطابق درد دل کے واسطے استعمال کیا جائے تو پھر نتیجہ ہی کچھ اور نظر آتا ہے، جس کی چند تجربہ شدہ مثالیں درج ذیل ہیں:

حویلی تحصیل سے کھنیترکے باشندہ سید بشارت حسین شاہ کہتے ہیں کہ ’’اس سے پہلے مجھے میڈیا کا لفظ میم تک معلوم نہ تھا اور نہ ہی سوچا تھا کہ میں کبھی اخبارات میں لکھ سکوں گا۔ لیکن اگست ۲۰۱۳ میں چرخہ کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ تحریری ورکشاپ میں سیکھنے کا نہ صرف موقع ملا بلکہ ہمت افزائی بھی خوب ہوئی، اس ورک شاپ میں چرخہ کے ڈپٹی ایڈیٹر جناب محمد انیس الرحمٰن خان نے ہمیں میڈیا کی باریکیوں سے آگاہ کرنے کے علاوہ اس قابل بھی بنایا کہ ہم ریاستی و قومی سطح کے اخبارات میں اپنے علاقہ کے مسائل اُجاگر کر کے عوام وخواص کے سامنے لاسکیں اور ان کا ازالہ بھی کروا سکیں۔ مضامین لکھنا سیکھنے کے بعد میں نے علاقائی مسائل پر کئی مضمون بھی تحریر کئے۔ میرا پہلا مضمون ریاست جموں و کشمیر کے مشہور روزنامہ چٹان میں شائع ہوا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً اردو ، ہندی اور انگریزی زبان کے اخبارات ورسائل میں شائع ہوتے ہی رہے۔ ان میں سے کئی ایک مسئلہ کا حل بھی نکلا اور اس کا خاطر خواہ فائدہ ہمارے علاقے کے لوگوں کو بھی ہوا، جس کی وجہ سے ہماری قلم کار کی حیثیت سے شناخت بھی بنی۔ اپنے استاد محترم جناب محمد انیس الرحمٰن خان صاحب کی رہنمائی میں مضامین آج بھی تحریر کرتا ہوں۔ میں پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ترقیاتی مسائل پر جتنی جگہ ہمارے ضلع پونچھ کوہندوستان بھر کے اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات میں چرخہ کے آنے سے ملی اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوسکا تھا۔ چرخہ نے ہمیں صرف لکھنا ہی نہیں سکھایا بلکہ دوسروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا حق حاصل کرنا بھی سیکھایا ہے،جس کی کئی مثالیں ہمارے پاس موجودہیں۔‘‘

تحصیل منڈی کے باشندہ کے مطابق ’’میرا نام سجاد احمد خاکی ہے اور میں ضلع ہیڈ کوارٹر سے ۲۵ کلو میٹر دور گاﺅں بیدار سے تعلق رکھتا ہوں۔ بچپن ہی سے اخبارات پڑھنے کا شوق تھا،میں مضامین لکھتا اور پھاڑ دیتا، کیوں کہ مجھے اپنی تحریر پر اعتبار نہ تھا۔ ایک دن میں اپنے اسکول کی لائبریری میں بیٹھ کر جناب محمد انیس الرحمٰن خان صاحب کا لکھا ہوا ایک مضمون ’’اردو ادب میں طنز ومزاح کی اہمیت‘‘ پڑھ رہا تھا۔ اردو ادب سے دلچسپی کی وجہ سے وہ مضمون مجھے بہت اچھا لگا، اس لئے میں وہ مضمون اخبار سے کاٹ کر گھر لے آیا۔ راستے میں میری ملاقات میرے ایک دوست خواجہ یوسف جمیل سے ہوئی، اُنھوں نے میرے ہاتھ میں کاغذ دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے مضمون دکھا کر کہا کہ یہ مجھے بہت اچھا لگا، اب گھر جا کر میں بھی اسی طرح لکھوں گا۔ اتفاق سے وہ مضمون نگار کو جانتے تھے، کیونکہ وہ چرخہ کی ایک ورکشاپ میں حصہ بھی لے چکے تھے۔ انھوں نے مجھے انیس سر اور چرخہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور یہ بھی کہا کہ دو چار دن کے بعد تحصیل منڈی میں انیس سر کی سربراہی میں ایک ورکشاپ ہو رہی ہے۔ چار دن کے بعد میں نے ضلع ہیڈ کوارٹر سے ۲۰ کلو میٹر دور علاقہ منڈی میں ایک تربیتی ورکشاپ میں حصہ لیا۔ ورک شاپ کے پہلے ہی دن مجھے اپنے اندر بہت ساری تبدیلیاں محسوس ہونے لگیں۔ ورکشاپ کے پورے پانچ دنوں کے بعد میرے نظریات ہی بدل گئے۔ ورکشاپ کے بعد ہم نے دیہی علاقوں کے دو رے کر کے وہاں کے مسائل قلم بند کر کے مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران تک پہنچانے لگے۔ ایک دن تھا کہ کوئی اُستاد مجھ سے میرا نام پوچھتے تو مجھے جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی۔ مگر چرخہ سے منسلک ہونے اور اُستادِ محترم انیس سر کی تربیت کے بعد ہم ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ آفیسران سے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے ترقیاتی مسائل کے بارے میں پوچھتے اور اُن سے جواب مانگتے ہیں، سرکاری دفتروں سے سرکاری اسکیموں کی جانکاری حاصل کر کے دیہی علاقوں میں عوام تک پہنچاتے ہیں، ایک دن تھا کہ ہمیں اپنے گاﺅں والے بھی نہیں پہچانتے تھے، مگر آج جس دفتر میں بھی جاتے ہیں ہمیں عزت دی جاتی ہے۔ مجھے چرخہ سے جڑنے اور اُستاد محترم جناب محمد انیس الرحمٰن خان کا شاگرد ہونے پر بڑا فخر ہے۔ میں چرخہ کے تمام اسٹاف اورخاص کر اُستادِ محترم کا شکر گزار ہوں اور چرخہ سے گُزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنا کام ہمیشہ اسی طرح جاری رکھے تا کہ بے آوازوں کی آواز بلند ہوتی رہے۔‘‘

تحصیل سرنکوٹ کے مدرسہ دارالعلوم رضویہ سلطانیہ میں درجہ فضیلت کے طالب علم اعجاز الحق بخاری کہتے ہیں کہ  ’’مجھے اخبار میں لکھنے کا بہت شوق تھا اس لئے اکثر سوچتا تھا کہ جو لوگ اخبار میں لکھتے ہیں یہ کتنے خوش قسمت ہوتے ہوں گے، میں اکثر سفیدکاغذوں پر لکھتا اور اُسے ناقابل اشاعت سمجھ کر پھاڑ دیتا تھا۔ ہماری ریاست میں مدرسے کے طلبہ کو اس طرح کے کامو ں کے قابل نہیں سمجھا جاتا ہے لیکن مجھے چرخہ سے منسلک ہونے کے بعد اس کا احساس ہوا کہ انسان جو چاہے کرسکتا ہے، بس صلاحیتوں کو نکھارنے والا کوئی استاد چاہئے۔ مجھ میں خوابیدہ صلاحیتوں کوبیدار بھی چرخہ نے کیا اور انہیں نکھارا بھی۔ اس میں اہم کردار میرے استاد محتر م جناب محمدانیس الرحمن خان صاحب نے ادا کیا، انھوں نے ہر قدم پر میری رہبری فرمائی اور میری جانب سے لکھے گئے مضمون کو شائع ہونے کے قابل بنایا، میرا سب سے پہلا مضمون بعنوان ”کیا ملک کی ترقی میں سرحد کا کوئی حصہ نہیں ہے“ تھا۔ جس دن یہ مضمون شائع ہوا وہ دن میرے لئے عید سے کم نہ تھا، اس کے بعد مجھے یقین ہوگیاکہ اخبار میں عام انسان بھی لکھ سکتے ہیں۔ چرخہ کی ورکشاپ میں گورنمنٹ کی فلاحی اسکیمیں بھی سکھائی گئی تھی۔ ہمارے علاقے سرنکوٹ بازار میں ایک عورت بھیک مانگتی تھی، میں نے مذکورہ خاتون کی مقامی سوشل ویلفیئر کے افسرسے رابطہ کرکے پنشن لگوا دی۔ جب یہ بات میں نے اپنے استاد محترم سے بتائی تو انہوں نے میرے اس کام کو بہت سراہا۔ مجھے پتہ ہے ۲۰۰ روپے سے کسی کی زندگی نہیں بدل سکتی لیکن میں نے کسی کی مدد کی یہ بڑی بات تھی۔ جس کے لئے انیس سر نے اتنا حوصلہ دیا کہ حوصلے بڑھتے گئے پھر دیگر لوگوں کو ابھی اپنی محنت سے فیض پہنچاتا رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے علاقہ کا مشہور اردو روزنامہ اُڑان کی جانب سے رپورٹر کے طور پر کام کرنے کا آفر ملا، میں نے بخوشی قبول کیا، کئی مرتبہ ہماری خبر صفحہ اول پر شائع ہوچکی ہے۔ خوشی کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان سب کامیابیوں کا سہرا میرے استاد محمد انیس الرحمن خان صاحب کے سر جاتا ہے، جنہوں نے میری ہر طرح سے رہنمائی فرمائی۔‘‘

سابق ژونل ایجوکیشن آفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف وصحافی جناب نذیر قریشی صاحب ایک عوامی پروگرام میں کہتے ہیں کہ ’’میں شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں انیس صاحب اور ان کی تنظیم کا جنھوں نے ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں سے پتھر اور بندوق چھین کر قلم تھما دیا ،حقیقت تو یہ ہے کہ تقسیم کی مار جتنی ضلع پونچھ کو جھیلنی پڑی ہے اتنی ریاست کے کسی ا ضلاع کو نہیں۔ پونچھ کے سینہ پر سے سرحدی خونی لکیر کھینچی گئی ہے، جس کا درد آج تک اس کے سینے میں ہے۔‘‘

ریاست جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے کون واقف نہیں۔ یہ سرحدی ضلع برسوں سے سرخیوں میں رہا ہے، مگر کزشتہ تین چار برسوں میں وہاں کے تعلیم یافتہ یا زیرتعلیم نوجوانوں کے رابطہ میں رہنے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اند ر صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے بس مختصر سی رہنمائی کی ضرورت تھی جس کو میں نے اور دہلی میں واقع میری تنظیم چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک نے کسی حد تک نبھانے کی کوشش کی ہے، اس میں ہم کتنے کامیاب رہے اس کا جواب درج بالا اقتسابات پڑھ کر قارئین ہی دے سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *