لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ایسے ملی بڑی جیت

نئی دہلی: سترہویں لوک سبھا کی تشکیل کے لیے الیکشن کمیشن نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو کامیاب امیدواروں کی فہرست سونپ دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئی لوک سبھا کی تشکیل کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ اس بار کے عام انتخابات میں بی جے پی نے ۳۰۳ سیٹوں پر کامیابی کے ساتھ تاریخی جیت حاصل کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے یہ جیت اس لیے بھی تاریخی ہے کیونکہ وہ اندرا گاندھی کے بعد پہلے ایسے وزیر اعظم ہیں جو اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی کر رہے ہیں۔

لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی جیت کے ویسے تو بہت سے اسباب ہیں تاہم ان میں کئی ایسے ہیں جنہیں دوسری پارٹیاں بھی اپنا سکتی ہیں۔ کچھ باتوں کو اپنانا شاید دوسری

پارٹیوں کے لیے مشکل ہو۔ غور سے دیکھیں تو بی جے پی کے صرف لیڈران یعنی نریندر مودی اور امت شاہ ہی نہیں جیتے ہیں بلکہ ان کی پارٹی کا ایک ایک کارکن جیتا ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے پہلے تو پارٹی کے لیے کارکنان تیار کیے اور پھر ان سے لگاتار رابطے میں رہے۔ خود وزیر اعظم مودی اور امت شاہ زمینی سطح کے کارکنوں سے براہ راست رابطہ بنائے رکھنے میں کامیاب رہے۔ بی جے پی کی کامیابی کی ایک دوسری بڑی وجہ عام لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرنا بھی ہے کہ پارٹی کا بڑے سے بڑا لیڈر زمینی سطح پر کام کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اسمرتی ایرانی ہیں جنہوں نے راہل گاندھی کو امیٹھی میں شکست دی۔ اسمرتی ایرانی نے ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے بعد امیٹھی سے اپنا رشتہ نہیں توڑ لیا تھا، بلکہ اس دوران وہ ۳۷ بار وہاں گئیں اور گاوں گاوں گھومیں۔

بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کا بڑا احترام کیا۔ حکومت میں حصہ داری سے لے کر سیٹوں کی تقسیم تک میں اس نے آپسی احترام کے جذبے کو برقرار رکھا، البتہ انہیں سرے سے مسترد کر دیا جو اس کی قیادت پر سوال اٹھا رہے تھے۔ بی جے پی نے اودھو ٹھاکرے کی شیو سینا، رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی اور نتیش کمار کی جے ڈی یو کا تو پورا پورا احترام کیا لیکن آرایل ایس پی کے اوپیندر کشواہا اور خود اپنی ہی پارٹی کے کیرتی جھا آزاد اور شتروگھن سنہا کو گھاس نہیں ڈالی۔ اس سب کے درمیان بھوپال سے دہشت گردانہ واقعات کی ملزمہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر سے الیکشن ہارنے والے کانگریس کے لیڈر دگ وجے سنگھ کا یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ بی جے پی جتنا سیٹ ٹارگیٹ کرتی ہے، اتنا جیت کیسے جاتی ہے؟

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply