نگارشات خواجہ احمد عباس کی بازیافت

نوٹ:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے معروف ادیب خواجہ احمد عباس کی کلیات کو آٹھ جلدوں میں مرتب کیا ہے۔ اس پر موجودہ دور کے معروف ترین قلمکاروں میں سے ایک حقانی القاسمی نے طول طویل تبصرہ لکھا ہے۔ یہ تبصرہ کلیات کی آٹھوں جلدوں پر ہے۔ انٹرنیٹ پر اتنی طویل تحریر پڑھنا ایک مشکل کام ہے۔ اس لیے ہم نے اس کو الگ الگ قسطوں میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امید ہے پروفیسر ارتضی کریم، حقانی القاسمی اور قارئین ہمارے اس فیصلے کو قبول کریں گے۔ شکریہ: ادارہ 

[آٹھ جلدوں پر مشتمل کلیات کے حوالے سے]

حقانی القاسمی

اردو زبان و ادب میں خواجہ احمد عباس (پیدائش: 7جون 1914، وفات:1جون 1987) جیسی متنوع شخصیتیں کم ہیں جن کا دائرہ عمل کئی جہتوں اور زاویوں پر پھیلا ہوا ہو اور جو صرف ایک ہی زبان میں محصور نہ ہو- خواجہ احمد عباس کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے نہ ایک زبان اور نہ ایک میدان کو منتخب کیا بلکہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھا اور صرف ادبیات کو ہی اپنا محور و مرکز نہیں بنایا بلکہ سماجیات، سیاسیات، اقتصادیات، فنون لطیفہ اور دیگر عالمی عصری مسائل کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ ایک طرف جہاں انہوں نے فکشن کے ذریعے عصری، سماجی، سیاسی موضوعات کو پیش کیا وہیں اپنے کالم کے ذریعے سماجی اور سیاسی شعور کی بیداری کا بھی کام لیا۔ ان کی گفتگو بنیادی طور پر عوام سے تھی اس لیے انہوں نے اپنی تحریروں میں عوامی مسائل کو ترجیح دی اور اس کے لیے جتنے بھی ذرائع ہوسکتے تھے سب کا استعمال کیا۔ فلم کے ذریعے بھی انہوں نے وہی کام لیا جو وہ اپنے سیاسی کالموں کے ذریعے لیتے رہے۔ بنیادی طور پر وہ عوام کے فنکار اور عام آدمی کے تخلیق کار تھے۔ ان کے لیے عوامی مسائل اور موضوعات زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ ان کا بنیادی مقصد ایک مثالی سماج اور آئیڈیل سوسائٹی کی تشکیل ہے جہاں سب کو آزادی اور سماجی معاشی انصاف اور مساوات ملے۔ سماج سے ان کی بڑی گہری وابستگی تھی۔ ان کی کہانیوں کے موضوعی سروکاروں میں استعماریت کی مزاحمت، سماجی شعور کی بیداری، اربنائزیشن کے منفی اثرات اور امن و دوستی ہیں۔ انہوں نے جاگیردارانہ سماج، استعماریت اور آرتھوڈوکسی کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسمان اور زمین کے درمیان تو فاصلے کم ہوگئے مگر آدمی اور آدمی کے درمیان دوریاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ یہ خیال بھی ان کی خوب صورت سوچ کا مظہر ہے کہ اکیس کمروں میں ایک آدمی رہتا ہے اور کہیں کہیں ایک کمرے میں اکیس آدمی۔ اس طرح کا سماجی اور طبقاتی تفاوت ختم ہونا چاہیے۔ ان کے بیشتر کردار اسی طرح کے ترقی پسندانہ افکار کے حامل ہیں۔ ان کی تحریروں کے مرکز میں Common man یعنی عام آدمی ہے اس لیے بھوک، غربت، معاشی سماجی استحصال پر ان کی کہانیاں زیادہ ہیں۔ انہوں نے عورتوں کے استحصال، آزادی اور حقوق کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے اور مضبوط نسائی کردار بھی عطا کیے ہیں۔
(ان کے thematic concerns کے لیے دیکھیے: The Short Stories of K.A. Abbas, By H.S Chandalia)

خواجہ احمد عباس

خواجہ احمد عباس نے مختلف اصناف میں جو تحریریں چھوڑی ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ان سب کو سمیٹنا بہت مشکل کام تھا۔ انہوں نے افسانے، ناول، ڈرامے، مضامین، مکالمے، سفرنامے، سوانح اور کالم لکھے۔ اس طرح ان کی تحریروں کا دائرہ بہت وسیع ہے اور خوبی کی بات یہ ہے کہ خواجہ احمد عباس نے بیشتر تحریروں میں جمالیاتی اور فنی معیار کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
خواجہ احمد عباس کی تحریروں کو جمع کرنا اور انہیں موضوعی اور صنفی ابواب بندی کے ساتھ مربوط اور منظم شکل میں پیش کرنا یقیناً ایک کار دشوار تھا۔ مقام شکر ہے کہ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا۔ خواجہ احمد عباس کے بیشتر تحریری سرمایے کو آٹھ جلدوں میں سمیٹ دیا اور کوشش یہ کی ہے کہ ان کی بکھری ہوئی تحریریں کلیات میں شامل ہوجائیں تاکہ خواجہ احمد عباس کی مجموعی اور کلی قرأت ممکن ہوسکے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم اپنے اس مقصد میں کامیاب ہیں کہ انہیں خواجہ احمد عباس کی بیشتر تحریریں دستیاب ہوگئیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *