’کیفی اورمیں‘ کے ساتھ جشن ریختہ کا آغاز

rekhta

نئی دہلی، ۱۲؍ فروری (نامہ نگار): اردو ایک زبان ہی نہیں ایک تہذیب بھی ہے، اس کا احساس اندرا گاندھی نیشنل سینٹر آف ماڈرن آرٹس کے کیمپس ان سبھی لوگوں کو ہوا ہوگا جنہیں جشن ریختہ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اردو کی اس جگمگاتی انجمن میں ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کچھ اس انداز میں جگ مگ کررہی تھی کہ سیاست کو بھی اپنا رستہ ڈھونڈتے نہیں بن پا رہا تھا۔ یہ اردو ہی کی کشش تھی کہ جب مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے ، دہلی میں ایک نئی نویلی عام آدمی پارٹی حکمراں ہے اور جگہ جگہ کمیونسٹوں کا مرثیہ پڑھا جاتا ہے، وہیں جشن ریختہ میں شائقین دم سادھے ’میں اور کیفی‘ کے عنوان سے جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کی زبانی ایک کمیونسٹ رہنما اور انقلابی شاعر کیفی اعظمی کی داستان زندگی کو سن رہے تھے۔ اس کا لطف اٹھا رہے تھے۔
جشن ریختہ کا باضابطہ آغاز روایتی انداز میں شمع کی روشنی کے ساتھ ہوا۔ اس کا فریضہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے ادا کیا۔ اس سے پہلے ریختہ کے روح رواں سنجیو صراف نے بہت ہی خوبصورت انداز اور دلکش زبان میں مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے ریختہ کی کارکردگی کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی ویب سائٹ پر ۱۷۰۰؍ سے زائد شعراء کے کلام موجود ہیں۔ گذشتہ ایک سال میں ۴۰؍ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ریختہ کی ویب سائٹ سے استفادہ کیا۔
یہ سب دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ اردو جیسی سخت زبان کو مارنا آسان نہیں ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں، جو ہر جگہ اردو کا مرثیہ پڑھتے رہتے ہیں اور ایک یہ لوگ ہیں، جو ’جشن ریختہ‘ کے ذریعہ یہ احساس دلا رہے ہیں کہ اردو کا جشن اس طرح بھی منایا جا سکتا ہے کہ اسے دیکھ کر دوسری زبانوں کو بھی رشک ہونے لگے۔​

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *