مودی۔ڈووال کے انتخابی پلان کا انکشاف

 وزیر اعظم نریندر مودی اور نیشنل سکوریٹی ایڈوائزر اجیت ڈووال
وزیر اعظم نریندر مودی اور نیشنل سکوریٹی ایڈوائزر اجیت ڈووال

نئی دہلی، ۲۷؍فروری(پریس ریلیز): معروف انگریزی جریدہ ملی گزٹ نے اپنے تازہ شمارہ میں دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ نیشنل سکوریٹی ایڈوائزر اور سابق انٹیلی جنس بیوروچیف اجیت ڈووال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مرضی سے مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کی ہندوستان میں واقع مددگار ٹیم اور ہندوستان کے باہر اس کی املاک پر ضر ب لگانے کا پلان بنایا ہے۔معروف تحقیقاتی صحافی پشپ شرما کی یہ سنسنی خیز خصوصی رپورٹ ملی گزٹ کے ۱۔۵ ۱ مارچ کے شمارے میں شائع ہورہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجیت ڈووال ہی انا ہزارے اور بابا رام دیوکی تحریکات کے پیچھے تھے جن کے ذریعہ کامیاب طور سے یوپی اے کو بدنام کیا گیا۔

رپورٹ نے پولس اور انڈر ورلڈ ذرائع کے حوالے سے یہ بتایا ہے کہ اس پلان کے ذریعے آئندہ آنے والے اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات میں مودی اور ان کی پارٹی کی جیت اسی طرح یقینی بنائی جائے گی جیسے گجرات فسادات اور فرضی انکاؤنٹروں کو مودی کی شخصیت اجاگر کرنے اور ان کی پارٹی کو الیکشن میں کامیاب کرانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی نے گودھرا کے بعد ہونے والے فسادات اور فرضی انکاؤنٹرز کو سیاست میں اپنی عمودی ترقی کے لیے ایسے ماحول میں استعمال کیا جبکہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامے میں جگہ پانا بہت مشکل تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے چھوٹا راجن گروپ کے شارپ شوٹر اور معطل شدہ پولیس جوانوں کا استعمال کیا جائے گا۔ اول الذکر کو بالعموم ملک کے باہر اور آخر الذکر کو ملک کے اندر استعمال کیا جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجہول قاتلوں یعنی معطل شدہ پولیس نوجوانوں کا استعمال ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں بالعموم کرتی رہی ہیں کیونکہ اس طرح وہ میڈیا اور عدالتوں کے سامنے جوابدہی سے بچ جاتی ہیں۔ رپورٹ میں ماضی میں ہونے والے داؤد ابراہیم کے اوپر اس طرح کے دوسرے حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس تعلق کی وجہ سے چھوٹا راجن کے گروپ کو ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

رپورٹ نے مزید بتایا کہ جولائی ۲۰۰۵ میں داؤد ابراہیم کے خلاف اسی طرح کی پلاننگ کرتے ہوئے اجیت ڈووال چھوٹا راجن کے شارپ شوٹر ملہوتراا ورنتاشا کے ساتھ دلی میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے لیکن ان کو چھوڑ دیا گیا جبکہ دونوں مجرموں کو بمبئی پولس اپنے ساتھ لے گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے آنے والے انتخابات کو جیتنے کے لیے وزیر اعظم مودی بہت سے جذباتی مسئلوں کا استعمال کریں گے۔ ان میں رام مندر، لوجہاد، بیف کی شدت سے ممانعت کے ساتھ ساتھ داؤد ابراہیم کے گروپ کو ختم کرنے اور دنیا بھر میں اس کی املاک کو ضرر پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کیسے چھوٹا راجن کو انڈونیشیا سے اکتوبر ۲۰۱۵ میں ممبئی لایا گیا جہاں مہاراشٹر سرکار نے فوراً جیل میں اس کے کمرہ کو ’’ہائی پروفائل قیدی‘‘ کا کمرہ ہونے کا آرڈر جاری کیا اور پھر اچانک چھوٹا راجن کو سی بی آئی کے حوالے کرکے دہلی بھیج دیا گیا حالانکہ اس کے خلاف اکثر مقدمات ممبئی میں درج ہیں۔ دہلی لاکر چھوٹا راجن کو تہاڑ جیل کے ایک خصوصی کمرے میں رکھا گیا ہے جہاں وہ ’’وی آئی پی ‘‘ کی طرح پرتعیش زندگی گذار رہا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت کا یہ اچانک فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے لیے چھوٹا راجن اب بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ اگر داؤد ابراہیم کو ختم کرنے کا موجودہ پلان کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ جدید ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *