نوجوان ذہن کے ادبی سوالات قابل التفات: دانشوران

اردو ریسرچ اسکالر فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا، جے این یو میں ریسرچ اسکالرز سیمینار کا انعقاد، درجنوں اسکالروں کی شرکت، متعدد  موضوعات ومسا ئل پر مباحثہ

jnu-seminar

نئی دہلی (پریس ریلیز):

ریسرچ اسکالرس کے مقالات سے نہ صرف ادبی مسائل و مباحث کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ضمنی طور پر ہمارے تحقیق کی سمت و رفتار اور نت نئے چیلینجز سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ متنوع موضوعات پر دانش گاہوں میں طلبا ریسرچ کررہے ہیں۔ طلبانے یہاں مختلف موضوعات پر اپنے مقالات میں ادبی سمت ورفتار کا جو جائزہ پیش کیا ہے وہ قابل قدر ہے۔ اسی طرح ان کے ذہنوں میں پیداہونے والے سوالات بھی قابل التفات ہیں، یہ سوالا ت ہیں جو ادبی گھتیاں سلجھانے میں معاون ہوسکتے ہیں۔ یہ باتیں آج جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ( سی آئی ایل) کے تحت منعقد ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار میں دانشوروں نے مشترکہ طور پر کہیں۔

طلبہ کے ربط باہمی پر بات کرتے ہوئے پروفیسر خواجہ اکرام نے اردو ریسرچ اسکالر فیڈریشن کی ضرورت پر زور دیا اور بعد میں اتفاق رائے سے اس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر کلیدی خطبہ میں سی آئی ایل کے چیئر پرسن پروفیسر انور پاشا  نے تحقیق و تنقید کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادبی منظرنامہ نہ صرف مستند ادیبوں کی کاوشوں سے سامنے آتا ہے، بلکہ اس کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے ریسر چ اسکالرس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے، کیوں کہ زبان و ادب کا مستقبل ان کی محنتوں اور کاوشوں سے ہی مربوط ہے۔ اس لیے ریسرچ اسکالر اپنے موضوعات سے مکمل طور پر انصاف کرنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں دانش گاہوں کی کارکردگی اور ان کی خدمات پر بھی بھر پور روشنی ڈالی اور انہوں نے کہا کہ ان  دانش گاہوں سے ہی اردو کے عظیم ادبا اور شعرا پیدا ہو رہے ہیں اور علمی پیش رفت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اس لیے ان کی صلاحیت کو مثبت زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، تبھی یہ اردو کے تابناک مستقبل کے ضامن ہوں گے۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ تحقیق کا معیار اردو میںآج بھی بہتر ہے، حالانکہ تساہل پسندی اور مطالعہ کے کم ہوتے رجحان کی وجہ سے دیگر زبانوں میں بھی ہونے والی تحقیق و تنقید کا معیار قابل قدر نہیں۔ معیاری ریسر چ کے لیے جہاں مستقبل مزاجی ضروری ہے، وہیں گہرے مطالعہ کے ساتھ ساتھ غیر جانب داری لازمی عنصر ہے۔ اس لیے تحقیق و تنقید کے معیار کو بلند کرنے کے لیے مذکورہ باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ساتھ ہی مختلف دانشگاہوں میں اردو شعبے کی خدمات کو سراہتے ہوئے یہ کہا کہ ہندوستان کی تمام دانشگاہوں کے ریسرچ اسکالر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اردو ریسرچ اکالر فیڈریشن کا قیام وقت کی  اہم ضرورت ہے۔ مختلف نشستوں پر مشتمل اس سمینار میں دہلی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمد کاظم نے ایک نشست میں کہا کہ ریسرچ اسکالرس اپنے موضوعات سے اسی وقت مکمل طور پر انصاف کرسکتے ہیں، جب ان کے ذہن میں مقالات کے موضوعات ہمیشہ موجود رہیں۔ موضوعاتی سطح پر انصاف کرنے والا مقالہ ہی پرکشش ہوتا ہے۔ جو مقالہ لطیف رشتوں کے ساتھ ابتدا سے اختتام تک پہنچے، وہی قابل ذکر ہوتا ہے۔ اس لیے تجزیاتی صلاحیتوں کو موضوعاتی رویوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر توحیدخان(جے این یو)، ڈاکٹر ابوللیث شمسی (مگدھ یونیورسٹی ) وغیرہ نے بھی اختصار سے اپنی باتیں رکھیں۔ قبل ازیں ملک کی مختلف یونیورسٹیز سے آئے تقریباً 28طلبا نے مختلف

موضوعات پر اپنے مقالات پیش کیے اور ان پر دانشوروں نے مختلف نشستوں میں بات چیت کی۔ جن ریسرچ اسکالرس  نے مقالے پڑھے ان کے نام یوں ہیں: صائمہ منظور، سلیم احمد، محمد حسین، محمد عمران، عروج رخسار، رضوانہ، ابو حذیفہ، ضیا ء اللہ، عبدا لرحیم، رضینہ، صالحہ، صدیقی۔ اس پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر توحید احمد خان نے کہا کہ ہر دو ماہ میں ایسے پروگرام  منعقد کیے جائیں گے تاکہ طلبا کی ذہن سازی اور اچھی تربیت ہوسکے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سمینار میں پیش کیے گیے مقالات بہت جلد ای بک کی شکل میں منظر عام پر آئیں گے۔ سمینار میں  ڈاکٹر شفیع ایوب، ڈاکٹر ہادی –سرمدی، ڈاکٹر حافظ محمد عمران اور  ڈاکٹر سمیع الرحمن نے بھی شرکت کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *