انقلابی نغموں سے جھوم اٹھا جے این یو

? (ہمنواؤں کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہوئیں شیتل سیٹھے)

نئی دہلی، ۹؍ فروری (حامد رضا) :آج دیر رات جے این یو طلبہ یونین کی جانب سے کے سی گراؤنڈ میں’’ ایک شام احتجاجی نغموں کے نام ‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اس میں مشہور شاعرہ اور گلوکارہ شیتل سیٹھے اور ان کے ہمنواؤں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ سامعین نے ان کے پیش کردہ انقلابی نغموں کی خوب پذیرائی کی۔
اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد ملک بھر میں دلتوں ، کمزوروں اور اقلیتوں پر ہورہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ہی حیدرآباد یونیورسیٹی میں خود کشی کرنے والے طالبعلم روہت ویمولا کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے لوگوں کوبیدار کرنا بھی تھا ۔پروگرام کا آغاز انقلابی اور تاریخی نعروں سے ہوا،جس میں بھگت سنگھ اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکرسے لے کر روہت ویمولا کو خرج عقیدت پیش کیا گیا۔اس کے بعد مراٹھی،ہندی اور اردو میں کئی نغمات پیش کیے گئے،جن میں ایک طرف جہاں دلتوں ،کمزوروں اور اقلیتوں کے موجودہ حالات اور احساسات کی ترجمانی تھی،وہیں دوسری جانب سرمایہ دارانہ نظام ،ذات پات اور مذہب کے نام پر چل رہی سیاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
واضح ہو کہ شیتل کبیر کلا منچ کا حصہ تھیں جس پر حکومت مہاراشٹرنے ۲۰۱۳ء میں وطن مخالف ہونے کاالزام لگاکر پابندی لگادی ہے ۔انہیں تین سال پہلے ان کے شوہرمشہور شاعر سچن مالی کے علاوہ ساگر گورکھے اور رامیش گوچر کو ماؤسٹ ہونے کے الزام میں گرفتار کیاگیاتھا۔شیتل کو زچگی کے سبب ممبئی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ،مگر ان کے دیگر ساتھی اب بھی جیل میں بند ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت اتنا طویل عرصہ گذر جانے کے بعد بھی شروع نہیں ہوئی ہے۔
? (سامعین کا ایک منظر، تصاویر: حامد رضا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *