سائنس اور صنعت میں مسلمانوں کا عروج وزوال

Indian Muslimsپروفیسر محسن عثمانی ندوی

سائنس کائنات کے اس علم کا نام ہے جو ہمیں مظاہر قدرت کے مشاہدے اور مطالعے سے حاصل ہوتا ہے۔ مظاہر قدرت کی تین بڑی قسمیں ہیں: ایک تو وہ مادی مظاہر قدرت ہیں جو ہر وقت مشاہدے میں آتے ہیں، جیسے زمین، آسمان، چاند، سورج اور اجرام فلکی، پہاڑ اور نباتات وغیرہ وغیرہ۔اور دوسرے وہ مظاہر قدرت ہیں جن کا تعلق نفس انسانی اور جسم انسانی اور حیات سے ہے، اور تیسری قسم میں انسان کے ذہن و شعور میں پید ا ہونے والے افعال و اعمال ہیں، سائنس مظاہر قدرت کے اندر ایک نظم کی تلاش کا نام ہے، یہ نظم ہمیشہ یکساں رہتا ہے، اور جو کبھی منقطع نہیں ہوتا سائنس اسی نظم کے دریافت کا نام ہے، یہ نظم ایک جوہر میں، ایک سالمہ میں، ایک کرسٹل میں، اور برف کے ڈالے میں اور اجرام فلکی میں موجود ہے، اسی نظم کے جاننے کا نام سائنس ہے، اور یہ نظم اتنا جچا تلا ہوتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسی نظم کو دریافت کرنے کے بعد ریاضیاتی فارمولے تیار کیے جاتے ہیں، سائنس کی تمام حیران کن ترقیاں اسی نظم کو دریافت کرنے کی وجہ سے رونما ہوئی ہیں، انسان ان مظاہر قدرت پر جتنا غور کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اور وہ پھر اس کی علت دریافت کرنا چاہتا ہے، اور اگر عقل یہاں پر ٹھوکر نہ کھائے تو ایک سائنسداں خدا کے وجود کا اقرار کر لیتا ہے، اسی لیے اس عہد کے ایک بڑے شاعر نے اپنے انداز میں یہ بات کہی ہے:
کئی بار اس کی خاطر ذرہ ذرہ کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں اس کی حیرانی نہیں جاتی
اسی نظم کو سمجھنے کا نام سائنس ہے اور اس کے عملی اطلاق کا نام ٹکنالوجی ہے، جدید عہد میں ٹکنالوجی اور انجینئرنگ کے تمام کمالات اسی سائنس کے مرہون منت ہیں، یہ نظم جس طرح مادہ کے تمام مظاہر میں اور اوصاف قدر ت میں پایا جاتا ہے، وہی ایک زندہ جسم انسانی اور حیوانی میں بھی کارفرما ہے، جسم انسانی اور حیوانی کے تمام اعضاء اور جوارح اس کے تمام خلیات اور اس کے تمام اعضاء رئیسہ اسی نظم کے قانون کے تحت کام کرتے ہیں، ہضم کے اعضاء، خون اور گوشت اور ہڈیوں کے ساخت کے ا ندر بھی، زخموں کا اندمال اور توالد و تناسل سب چیز کے اندر یہی قانون نظم کارفرما ہوتا ہے، جیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظم اور قانون کسی بلند وبرتر ذہن کی حکیمانہ تخلیق کی کارفرمائی ہے، اور اس کی حکمت تخلیق ذرہ ذرہ میں جلوہ فرما ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سائنسداں اپنی عقل کو استعمال کرکے خدا کے وجود اور مذہب تک پہنچتا ہے، قرآن میں خدا کے وجود کی یہی نشانیاں ہر جگہ بیان کی گئی ہیں، ایک جگہ قرآن میں ہے’’پیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن اور رات کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے خدا کی نشانیاں ہیں۔‘‘ دوسری جگہ قرآن میں ہے’’آسمان اور زمین میں مظاہر قدرت کا مشاہدہ کرو۔‘‘ قرآن اللہ تعالی کا قول ہے اور یہ پوری کائنات اللہ تعالی کا عمل، جس طرح سے قرآن میں اللہ تعالی کی نشانیاں (آیات) ہیں اسی طرح سے یہ پوری کائنات اللہ تعالی کی نشانیوں کا مجموعہ ہے، قرآن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، اور کائنا ت کی آیتوں کو آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے، اشیاء کی حقیقت اور ماہیت کا علم سائنس ہے، قرآن میں ہے وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا (سورۃ بقرہ :۳۱)‘‘ یعنی آدم کو تمام چیزوں کے اسماء بتائے گئے، اور مفسرین نے اور خاص طور پر امام رازی نے لکھا ہے کہ یہاں اسماء سے مراد ہر شے کی حقیقت اور ماہیت کا علم ہے، اور اسی کا نام سائنس ہے۔
سائنس سے متعلق کوئی بھی گفتگو ہوگی اس میں بنیادی چیز خو د سائنس کو سمجھنا ہے، سائنس کسی شئی کے پیدا کرنے یا ایجاد کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ قدرت کے پوشیدہ رازوں کو جاننے کا نام ہے، مثال کے طور پر جب سے اس کائنات کی ابتداء ہوئی ہے پانی ہر انسان کی ضرورت ہے اور وہ اس کو ہمیشہ استعمال کرتا آیا ہے، لیکن یہ کہ پانی دو حصہ ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن سے مل کر بنتا ہے، یہ ایک سائنسی دریافت ہے، سائنس کی دریافت کے ذریعہ ہمیں اللہ تعالی کی ربوبیت کا تفصیلی علم معلوم ہوتا ہے، سورج کا زمین سے کیا فاصلہ ہے، زمین کی گردش کی رفتار کیا ہے ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے، سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں، بارش کیسے بنتی ہے، بادل کہاں سے آتے ہیں، اور کیسے ہوا کے دوش پر سوار ہوکر دور دراز کے علاقوں میں برستے ہیں، نباتات کیسے پیدا ہوتے ہیں، انسان کا نظام ہضم کیا ہے، انسان کا علم ان تمام تفصیلات کے بارے میں جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی وہ اللہ تعالی کی ربوبیت کے نظام پر حیرت کرنے لگے گا، اور اس کا رواں رواں شکر گذاری کے جذبہ سے لبریز ہوجائے گا۔ اور پھر یہ خو ش رنگ اور خوش ذائقہ پھول اور پھل اور غلے اور درختوں کی پتیاں ان ساری چیزوں کے بارے میں جتنا علم انسان کو حاصل ہوگا، اتناہی اسے اپنے خالق اور مالک سے محبت زیادہ ہوگی اور خشیت بھی زیادہ ہوگی۔ اسی لیے قرآن میں آیا ہے: اِنّما یٍٍَخشَی اللّہَ مِن عِبَادِہ العلمائُ‘ یعنی اللہ کے بندوں میں اہل علم اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں، اور قرآن میں ہے، ’’ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاًً‘‘ یعنی اللہ نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزیں پیدا کیں، جب تک انسان مظاہر فطرت کی پرستش کرتا تھا، اس وقت تک وہ اس کائنات کی سب سے اہم مخلوق نہیں بن سکا تھا، کائنات کے بارے میں اس کی تحقیق اور دریافت کا جذبہ تھا جس نے انسان کے اندر فکری اور علمی انقلاب برپا کردیا۔سولہویں صدی عیسوی سے پہلے مسلمان علم کے ہر میدان میں سب سے آگے اور استادی کے مقام پر تھے، ایجاد و تحقیق اور ارتقاء کا سلسلہ جاری تھا، مسلمانوں کے دور میں سائنس مشاہدات اور تجربات کی کسوٹی کے اہم مرحلہ سے گذری، کتابیں لکھی گئیں، آج بھی دنیا میں مختلف علوم و فنون میں اسلامی مخطوطات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہے یہ سب عربی زبان میں ہیں۔ اس سے کئی گنا زیادہ وہ کتابیں تھیں جو مرور ایام سے ضائع ہوگئیں۔ پہلے عربی زبان صرف مذہبی تعلیم کی زبان نہیں تھی بلکہ اپنے اپنے زمانے کے عصری علوم کی زبان بھی تھی۔ دنیا میں علوم و فنون کی ترقی میں عربی زبان نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔ جارج سارٹن نے تاریخ سائنس کے نام سے جو کتاب لکھی ہے اس میں ایک ہزار مسلم سائنسدانوں کا تذکرہ ہے، اس نے مسلمانوں کے سائنسی کارناموں کا اعتراف کیا ہے، فواد سیزگین نے اپنی کتاب میں بے شمار مسلم سائنسدانوں کا تذکرہ کیا ہے، کیمیاء، طب اور فلکیات اور ریاضی ہر میدان میں مسلم سائنسدانوں اور ان کے کارناموں کا تذکرہ ہے، یہ مسلمان جس موضوع پر کام کرتے تھے اس کا پورا حق ادا کرتے تھے۔ ان کا اندازسطحی نہیں ہوتا تھا، یورپ کے لوگوں نے مسلمانوں کے علم کو لیا، اور اس میں انہوں نے اتنی زیادہ ترقی کی کہ مسلمانوں کو شاگردی کے مقام سے بھی نیچے تک پہنچا دیا، ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان دوبارہ سائنسی علوم کو یورپ والوں سے لیتے ان کا مقابلہ کرتے لیکن ہوا یہ کہ یہ سائنس مسلمانوں کے سامنے ملک گیری اور استعمار کے جلو میں آئی، اس لیے مسلمانوں کو استعماری طاقتوں سے نفرت ہوئی، اور یہ نفرت ہونی بھی چاہیے تھی، لیکن مسلمانوں کے منفی رویے کی وجہ سے یورپ کی زبانیں جن میں یہ سائنسی علوم تھے، مسلمانوں کے لیے اجنبی رہیں، اور بعد میں اگر مسلمانوں نے یہ زبانیں سیکھیں بھی تو انہوں نے غلطی یہ کی کہ ادب اور تہذیب حاصل کرنے کے لیے سیکھیں، شیکسپیئر اور برنارڈ شا کو پڑھنے کے لیے سیکھیں، چنانچہ سائنس اور ٹیکنا لوجی میں مسلمان ملک مغربی طاقتوں سے اتنے زیادہ پیچھے ہوگئے کہ ان دونوں میں کو ئی مقابلہ نہ تھا، پوری دنیا میں مسلمانوں کی شکست اور زوال کا یہی بنیادی سبب ہے، دوبارہ سائنس کی طرف قدم بڑھانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ مسلمان خود اپنی تاریخ سے واقف ہوں اور یہ دیکھیں کہ ان کے اسلاف نے سائنس کے مختلف شعبوں میں کیسے محیرالعقول کارنامے انجام دیے، اسی مقصد کے لیے اس کتاب میں ان مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن سے خود یورپ نے استفادہ کیا تھا۔ اور سائنس کے مختلف شعبوں میں مسلمانوں کی عظیم الشان خدمات کا تذکرہ بھی اس کتاب میں موجود ہے۔ ( مقدمہ کتاب جو انسٹی ٹیوٹ آف ابجکٹیو اسٹڈیز دہلی کی طرف سے زیر طبع ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *