پونچھ میں بڑھتی معذوری

ریاستی وزیر اعلیٰ سے خصوصی مداخلت کی اپیل

سید بشارت حسین شاہ بخاری
سید بشارت حسین شاہ بخاری

سید بشارت حسین شاہ بخاری

ریاست جموں و کشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ تینوں اطراف سے خونی لکیر یعنی لائن آف کنٹرول سے گھرا ہوا ہے، نتیجتاً ضلع میں بیواؤں، یتیموں اور معذوروں کی ایک لمبی قطار دیکھنے کو ملتی ہے۔ بالاکوٹ سے لیکر کھڑی، چکاں دا باغ، شاہ پور اور ساوجیاں کا مشہور علاقہ ہمیشہ آر پار گولہ باری کا نشانہ بنتا رہتا ہے اس علاقہ میں معذور افراد گولہ باری، مائن بلاسٹ کا ہی شکار نہیں بنتے ہیں بلکہ قدرتی بیماریوں کا بھی شکار ہو کر معذوری سے دوچار ہورہے ہیں۔ دیہی ہندوستان میں کام کرنے والی دہلی میں واقع غیر سرکاری وغیر سیاسی تنظیم چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نٹ ورک کی طرف سے ضلع کی تین تحصیلوں میں کرائے گئے، سروے کے مطابق میں زیادہ تعداد تیس سال سے کم عمر کے معذوروں کی ہے، پچاس فیصد معذوروں کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے سے بھی کم ہے،۳۲ فیصد لوگوں کے پاس معذوری کی سندبھی نہیں ہے، معذوروں میں۵۱ فیصد لوگ پیدائشی معذور ہیں،۹۱ فیصد لوگوں کو معذوری سے راحت کی کوئی بھی مدد ابھی تک نہیں مل پائی ہے ، ۴۰ فیصد معذور وں کو علاج و معالجہ نہیں ملا،ان میں۴۰ فیصد لوگ نا خواندہ ہیں، ۹۵ فیصد کو بس کرائے میں کوئی بھی رعایت نہیں ملتی ہے۔

اکرم
اکرم

درج بالا حقائق سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ضلع پونچھ میں معذور افراد کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کی کیا امداد کی جا رہی ہے؟۔ضلع کی تحصیل منڈی کا گاؤں اڑائی جو تین پنچایتوں پر مشتمل ایک ماڈل گاؤں ہے ۔اسی گاؤں کے تعلیم یافتہ باشندے ریحان احمد کے مطابق ’’ اڑائی میں ۷۰ سے زائد افراد معذور ہیں جو کسی ایسی بیماری کا شکار ہیں جس کا کوئی مستقل حل اب تک نہیں نکل سکا ہے ‘‘ جموں یونیورسٹی میں ایم اے اردو کرنے والے ریحان مزیدبتاتے ہیں کہ’’ جب یہاں کے لوگ ڈھوکوں (مویشی پالن کے لئے جنگلوں میں عارضی گھر) میں جاتے ہیں تب معذور افراد کو کندھوں پر اٹھا کر ڈھوک تک لے جایا جاتا ہے اگر ڈھوک میں کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو اس کیلئے کسی آبادی یا بستی سے دوا منگوائی جاتی ہے ۔ اور اگر ان کو ڈھوک نہ لے جاسکے تو گاؤں والے گھر میں ہی رکھا جاتا ہے اور یہاں ان کے پاس کسی چھوٹے بچے کو چھوڑ دیا جاتا ہے جو انکی دیکھ بھال کرتا ہے اور اسکول بھی جاتا ہے۔بچہ اپنی مرضی سے معذور کو کھانادیتا ہے یا اپنے کھیلوں میں مصروف رہاتو کھانہ بھی گیا۔ایسے میں اگر کوئی معذور بیمار ہو جائے تو؟‘‘۔اسی تحصیل منڈی کے ساوجیاں کاپرال کوٹ جسکو بہروں کی بستی کہا جاتا ہے ۔ مقامی اخبار کے نامہ نگارریاض ملک کے مطابق ’’یہاں پچیس سے زائد افراد قوت سماعت سے محروم ہیں ا ور ہماری جمہوری حکومت اپنی بینائی سے محروم ہے‘‘ تحصیل سرنکوٹ کے گاؤں ہاڑی کے سفیداں کے ایک ہی واڑد میں بیشتر معذور پائے جاتے ہیں ۔جن میں زیادہ تر بچے ہیں جن کے جسمانی اعضاء وقت کے ساتھ ناقابل استعمال ہوتے جا رہے ہیں ۔ علاقہ کے سماجی کارکن شاہ نواز بانڈے کے مطابق’’ ہمارا گاؤں ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے اور اس میں معذوروں کی بھی بڑی تعداد ہے۔دور دراز کا علاقہ ہونے کے ناطے سرکار کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام اور اسکیموں کا فائدہ یہاں صفر ہے، ترقی کے اس دور میں یہاں کے معذوروں کا جینا دشوار ہے ان کے لئے کوئی بھی سرکاری ہسپتال نہیں ہے۔جس کی وجہ سے دیگر عوام کے ساتھ ان معذوروں کو بھی سرنکوٹ یا پونچھ ہسپتال میں اپنے معالجہ کیلئے جانا پڑتا ہے۔اس دور دراز پہاڑی علاقہ سے شہر تک پہنچنا عام آدمی کیلئے دشوار گزار ہے تو معذوروں کا کیا حال ہوگا؟۔ یہ علاقہ سڑک کی پہنچ سے کافی دور ہے۔ بس اڈہ عیدگاہ سے ہاڑی تک پہنچنے میں دو گھنٹوں سے زائد کا سفر پیدل ہی کرنا پڑتا ہے‘‘۔
تحصیل مہنڈر کے علاقہ بالاکوٹ ،بھروتی،درھاٹی ،ناڑ بلنوئی میں بھی معذور وں کی ایک لمبی بارات ملتی ہے۔ ڈگری کالج مہنڈر کے خواتین ونگ کی صدر آسیہ فردوس ماہیؔ کہتی ہیں کہ ’’ معذور بھی ہمارے جیسے انسان ہی ہیں۔وہ بھی ہمارے جیسے جذبات رکھتے ہیں لیکن پھر بھی ان کو الگ نظر سے کیوں دیکھا جا رہا ہے۔ہم اگر اپنے ضلع پونچھ کے معذوروں کی حالت کوانسانیت کے معیار پر رکھ کر دیکھیں تو انسانیت شرم سار ہو جاتی ہے ۔کہیں سیاست کے شکار اور کہیں ناگہانی آفات کی زد میں آ کر ان کی زندگی وہیں رُک گئی ہے ۔دوسروں پر دارو مدار رکھتے ہوئے سفر زندگی طے کرتے ہیں ۔اگر ہم کسی معذور کو صحت تندرستی یا اس کا کھویا ہوا اعضاء نہیں دے سکتے تو کم از کم ایسے طریقے تو بنائے ہی جا سکتے ہیں جن سے ان کی زندگی میں کچھ راحت ملے ۔ میں اپنے حکمرانوں سے اتنا ہی کہنا چاہتی ہوں کہ ایک نظر معذوروں پر بھی۔ کیونکہ یہ بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں ‘‘۔ رخسار کوثرمسکانؔ کے مطابق’’گاؤں چھترال میں کفیل احمد نامی ایک معذور جسکی عمر تقریباً ۲۵ سال ہے۔ وہ دو سال کے تھے کہ انکی ایک ٹانگ سے جان نکل کر، ناکارہ ہو گئی اسی حالت میں کفیل نے بارھویں جماعت پاس کی ڈگری کالج دور ہونے کی وجہ سے آگے پڑھائی جاری نہ رکھ سکے تو سلائی کا کام سیکھا ۔اب کفیل اپنی اس چھوٹی سی دوکان پر بیٹھے اپنی زندگی کے ایام ایک ٹانگ کے سہارے کپڑے سل کر گزار رہے ہیں ‘‘ تحصیل سرنکوٹ کے گاؤں ہاڑی کی زینب نور کے خاوند کا انتقال ہوچکا ہے۔انکی ایک ٹانگ درد کی وجہ سے نو سال پہلے ڈاکٹروں نے کاٹ دی تھی ۔ایک طویل وقت تک زینب کو ایک ٹانگ پر گزارا کرنا پڑا اور اب فالج جیسی بیماری میں مبتلا ہیں ۔سلیمہ بی کا تعلق تحصیل حویلی کے ماڈل گاؤں کھنیتر سے ہے۔سلیمہ بچپن سے لیکر آج تک بچے کے مانند اپنے آپ کو گھسیٹ کر چلتی ہیں ۔عمر اسماعیل عمر ۶ سال تحصیل منڈی کی ساوجیاں پنچایت بی۔ کے وارڈ نمبر چار میں دیگر چھ فیصد بہروں کے ساتھ قوت سماعت کے بغیر ہی زندگی گزارا کر رہے ہیں ۔فرائت حسین شاہ گاؤں شیندرہ ، بچپن میں ٹھیک تھا لیکن آٹھ برس کی عمر میں فرائت کو کچھ ایسا ہوا کہ اب چلنے پھرنے سے قاصر ہے وہ ہمہ وقت لیٹا رہتا ہے اسکو بٹھانے کیلئے بھی دوسر وں کی ضرورت ہوتی ہے۔غلام مجتبیٰ گاؤں ہاڑی کے سفیداں کے رہنے والے ہیں،ان کا ایک ہاتھ جنم سے ہی نہیں ہے صرف ایک ہی ہاتھ سے غلام مجتبیٰ کو اپنے اسکولی کاموں کے ساتھ دیگر کام بھی انجام دینے پڑتے ہیں ۔اکرام احمد کاتعلق ماڈل گاؤں کھنیتر سے ہے اکرام کو اسکول آ مد ورفت میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ ضلع پونچھ کے معذوروں کیلئے ایک معذور خانہ تعمیر کیا جائے جہاں قیام و طعام کا مستقل انتظام ہو۔ ہیلپ لائن کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں ۲۴ گھنٹے ان کی شکایات سن کر ان کا ازالہ کیا جائے، مختلف مقامات پر دستکاری سینٹر کھولے جائیں جہاں معذور افراد کو مختلف اقسام کے ہنرسکھائے جائیں۔جو معذور طلبہ اسکول چھوڑ چکے ہیں ان کو اسکول میں لایا جائے ، ان کو با ہنر بنایاجائے،ضلعی سطح کی معذوروں کی تنظیم تشکیل دی جائے جو معذوروں کے مسائل کو حل کرسکے، محکمہ صحت کی جانب سے معذوروں کو میڈیکل سرٹیفکیٹ باآسانی فراہم کی جائیں ،بس کرائے میں سہولیات دی جائیں ۔محکمہ فلاح و بہبود معذوروں کو پینشن دینے میں کسی قسم کی دیر نہ کرے ۔(چرخہ فیچرس)

کھنیتر پونچھ
ایم ۔اے سماجیات۔یونیورسٹی آف جموں
رابطہ نمبر۔9906239253, 9858137358

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *