روہنگیا مسلمان جن کا کوئی ملک نہیں !

الطاف حسین جنجوعہ
الطاف حسین جنجوعہ

ویسے تو روہنگیا مسلمانوں اور برما کی ریاست رکھائین کے بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان جھگڑا ڈیڑھ صدی پر محیط ہے، جب انگریز کے دور میں بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں محنت مزدوری کرنے والے غریب مسلمان فصلوں میں کام کرنے کے لیے برما کی ریاست رکھائین میں آباد ہونا شروع ہوئے، لیکن پچھلے چار پانچ عشروں سے برما میں قائم فوجی آمریت نے اس جھگڑے کو ایک بہت بڑے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ فوجی حکومت کے ظلم وستم اور فسادات کا شکار روہنگیا مسلمانوں کے ہزاروں کنبے ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے ضلع جموں میں بھی رہائش پذیر ہیں جو یہاں پر محنت مزدوری کر کے اہل وعیال کا پیٹ پال رہے ہیں۔ یہاں پر کھلی پڑی اراضی پر ان لوگوں نے عارضی جھگی جھونپڑیاں بھی بنا رکھی ہیں جس کے عوض وہ اراضی مالکان کو ماہانہ 700 روپے سے لیکر1500 روپے دیتے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی جھگی جونپڑیاں جموں شہر کے ریلوے اسٹیشن، چھنی، بڑی برہمناں، بٹھنڈی، کریانی تالاب، نروال بالا میں بھی قائم ہیں۔ یہاں جتنے بھی کنبے رہائش پذیر ہیں، وہ سب پہلے ہی ظلم وستم کا شکار ہیں، ان میں بیشتر ایسے ہیں جس میں کسی نے والدین کو کھویا، کسی نے بہن بھائی کو کھویا، کوئی بیوہ ہے، کسی کی عصمت لٹی تو کسی کا مال و زر گیا۔ مگر یہاں آکر ان لوگوں نے پھر محنت ومشقت کر کے زندگی سنبھالی۔ روہنگیا مسلم طبقہ کے مرد حضرات زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں، کچھ نے چھوٹی موٹی دکانیں کھول رکھی ہیں۔ چھوٹے بچے کباڑ وغیرہ چننے کا کام کرتے ہیں جبکہ خواتین زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور کچھ اخروٹ توڑنے و دیگر گھریلو کام کر کے اپنی روزی روٹی کا انتظام کرتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار حیات میں تھوڑی بہتری ہوئی ہے اور اب انہوں نے یہیں پر اپنے بچوں کو پڑھانے کا بھی عمل شروع کر رکھا ہے، یتیم فاؤنڈیشن اور دیگر فلاحی تنظیموں کے تعاون اور اپنی مدد آپ کے تحت روہنگیا نے جھگی جھونپڑیوں میں ہی اسکول اور مدرسے قائم کر رکھے ہیں جہاں بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے۔ نروالا بالا پنچایت (جموں) کے کریانی تالاب علاقہ میں رہ رہے روہنگیا مسلمان جب 25 نومبر 2016 کو شام اپنے روزمرہ کے کام سے فارغ ہوکر بستر پر آرام فرمانے گئے، تو انہیں کیا معلوم تھا کہ 26 نومبر 2016 کی صبح انہیں پھر برما کے ظلم وستم کے زخم تازہ کرنے پر مجبور کر دے گی، جب انہیں سب کچھ چھوڑ کر جان و ایمان کی حفاظت کرنے کے لیے بھاگنا پڑا تھا، جہاں انہیں ایک محلہ سے دوسرے محلہ جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں کیامعلوم تھاکہ برما میں جن مظالم کو وہ بھول گئے تھے، وہ پھر تازہ ہوجائیں گے لیکن ایسا ہوا۔ 25 اور26 نومبر کی درمیانی شپ کو نروالا بالا پنچایت کی کریانی تالاب علاقہ میں قائم جھگی جونپڑیوں میں پر اسرار طور لگی آگ سے پوری بستی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔ تنکا تنکا جمع کر کے ان روہنگیا مسلمانوں نے آشیانے قائم کیے تھے، آج وہ پھر بے سروسامان ہوکر رہ گئے ہیں۔ متاثرین میں بڑی تعداد بزرگوں، چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کی ہے جن کی صرف رونے کی آواز ہی سنی جاسکتی ہے بلکہ وہ کیا بول رہی ہیں و ہ توسمجھ نہیں آتی۔ 26 نومبر کو کریانی تالاب علاقہ میں ایک عجیب سی جذباتی کیفیت دیکھنے کو ملی، خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچے برتن، جل چکے کپڑے راکھ کے ڈھیر سے تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر تے نظرآئے۔ اس پراسرار آگ کی انکوائری کے احکامات بھی ضلع انتظامیہ نے جاری کیے ہیں، کچھ امداد بھی کی گئی ہے لیکن وہ ناکافی ہے۔ اس وقت سماجی، سیاسی، دینی اور فلاحی تنظیموں کے ساتھ ساتھ خاص طور سے امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اجتماعی اور انفرادی طور پر جتنا بھی ہوسکے، ان متاثرین کی مدد کریں تاکہ وہ ان سرمائی ایام کے دوران ٹھنڈ سے بچ سکیں۔ ان کے طعام و قیام کا انتظام کرنا، مصیبت کی اس گھڑی میں ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہماری جملہ ذمہ داری ہے۔ آگ کی اس ہولناک واردات میں کم سے کم تین افراد جھلسے جبکہ تین دیگر شدید طور زخمی ہوئے اور80 کے قریب جھونپڑیاں بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں۔
روہنگیا مسلمان دہائیوں سے اپنی ملکی شناخت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اصل میں وہ برما یعنی میانمار ملک کے رہنے والے ہیں لیکن وہ ملک انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا۔ اس طویل جدوجہد میں آج تک لاکھوں روہنگیا مسلم مارے گئے۔ عصمت دری کے ان گنت سانحے پیش آئے، ظلم وستم سہے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ یہ روہنگیا مسلم بار بار اجڑتے اور بستے رہے ہیں جس کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ یوں تو دنیا بھر میں مسلمانوں پر مسلم دشمن طاقتوں کی طرف سے ظلم وستم کا عمل جاری ہے، جس کے لیے طرح طرح کے طریقے اپنائے جارہے ہیں، فلسطین، ایران، عراق، افغانستان، ترکی، یمن، شام، بحرین و دیگر اسلامی ممالک میں مغربی طاقتوں نے یا تو راست مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کررکھا ہے یا بلاواسطہ طور پر امت مسلمہ کو پریشان کرنے کے لیے طرح طرح کے منصوبوں اور پروجیکٹوں پر کام کیا جا رہا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ اگر کسی علاقہ میں مسلمانوں پر بے دریغ ظلم وستم کیا جا رہا ہے، تو وہ میانمار نامی ملک ہے۔ روہنگیا میانمار کے علاقے ’اراکان‘ اور بنگلہ دیش کے علاقے چٹاگانگ میں بسنے والے مسلمانوں کا نام ہے، صوبہ اراکان پر برمی تسلط کے بعد ظلم و تشدد سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان دیگر ممالک جن میں تھائی لینڈ، پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت شامل ہیں، ہجرت کر کے مہاجرین کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ مورخین کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال ایڈمنسٹریشن کو اراکان تک توسیع دی اور اراکان کے درمیان کوئی سرحد موجود نہیں تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریزوں نے اراکان کا اقتدار چھوڑ دیا اور برطانیہ کے انخلا کے بعد روہنگیا مسلمانوں نے حملہ آور جاپانی فوج اور برٹش ہندوستان کے درمیان بفر زون کا کام کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برٹش آرمی تو چلی گئی لیکن جاپانی فوجوں نے مسلح مزاحمت کی، جاپانی فوجیوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ریپ اور قتل کے سیکڑوں واقعات کیے، اس وقت چالیس ہزار روہنگیا مسلمان سرحد عبور کر کے برٹش علاقے میں چلے گئے تھے۔1947ء میں روہنگیا رہنماؤں نے شمالی اراکان میں حریت پسند تحریک شروع کی تا کہ اراکان کو ایک مسلم ریاست بنا سکیں۔ 1962ء تک یہ تحریک کافی متحرک تھی لیکن برما کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جنگی کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی تعداد میں قتل عام کیا۔ 1978ء میں ’’آپریشن کنگ ڈریگن‘‘ کیا، اس دوران کافی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے ہندوستان اور دیگر ممالک بھی آئے۔ 1991۔92ء کے دوران روہنگیا مسلمانوں کو برمی فوج، پولیس کی طرف سے بھی جبری مشقت اور معمولی معمولی بات پر قتل کرنا عام سی بات بن چکی تھی۔ برما کی فوجی حکومت نے 1982ء کے سٹیزن شپ قانون کے تحت روہنگیا نسل کے 8 لاکھ افراد اور برما میں موجود دوسرے دس لاکھ چینی و بنگالی مسلمانوں کو شہری ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، فورسز ہر جگہ ان کو چیک کرتی ہیں۔ روہنگیا اور دوسرے مسلمان برما کے کسی بھی حصے میں ملکیت نہیں رکھ سکتے، دو بچوں سے زیادہ پیدا نہیں کر سکتے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں روہنگیا مسلمان ایسی اقلیتی برادری ہیں جس پر سب سے زیادہ ظلم ہو رہا ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں۔ ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیرقانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انہیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ یہ میانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں۔ ریاست رکھائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔ اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انہیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آخر رکھائن ریاست میں کیا ہورہا ہے؟ میانمار میں موگڈوو سرحد پر نو پولیس افسران کے مارے جانے کے بعد گذشتہ ماہ ریاست رکھائن میں سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا۔ کچھ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں نے کیا تھا۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے موگڈوو ضلع کی سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا اور ایک وسیع آپریشن شروع کر دیا۔ روہنگیا کارکنوں کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ میانمار کے فوجیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین الزام لگ رہے ہیں جن میں تشدد، عصمت دری اور قتل کے الزامات شامل ہیں۔ تاہم حکومت نے اسے سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فوجی روہنگیا مسلمانوں پر حملے میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ کیا میانمار حکومت اس کے لیے مجرم ہے؟
میانمار میں 25 سال بعد گذشتہ سال انتخابات ہوئے تھے۔ اس انتخاب میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی کو بھاری کامیابی ملی تھی، تاہم آئینی قوانین کی وجہ سے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی صدر نہیں بن پائی تھیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ اصل کمان سو چی کے ہاتھوں میں ہی ہے، بین الاقوامی سطح پر سو چی نشانے پر ہیں، الزام ہے کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہونے کے باوجود وہ خاموش ہیں۔حکومت سے سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر رکھائن میں صحافیوں کو کیوں نہیں جانے دیا جا تا۔ میانمار سے فرار ہونے والے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ سیکڑوں روہنگیائی مسلمانوں کو انسانی اسمگلروں نے غیر ٓاباد جزیروں پر بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے، ان کی جائیدایں ضبط کی جا رہی ہیں، ان کی خواتین کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں، لیکن مسلم ممالک کے لبوں پر خاموشی کا تالا لگا ہوا ہے۔ مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز روہنگیائی مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں، اقوام متحدہ مسلمانوں کے قتل و غارت گری کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ مسلم ممالک فرقہ ورانہ بنیادوں پر خطے میں قبضے کی جنگیں لڑ رہے ہیں، روہنگیائی مسلمانوں کو کھانا پینا دستیاب نہیں ہے، مردہ انسانوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں، سمندر کے پانی سے پیاس بجھاتے بجھاتے ان کی اپنی زندگیوں کے چراغ گل ہوتے جا رہے ہیں، کوئی مسلم ملک ان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بھی سفارتی قدم نہیں اٹھا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بدھ مت کے وہ پیروکار کر رہے ہیں جن کے پیروں کے نیچے چیونٹی آ جاتی تھی تو وہ رو پڑتے تھے، لیکن اب یہی بدھ مت کے داعی مخلتیا، رنگون تک پہنچ رہے ہیں۔ رنگون کے علاقے بیگو اسد کی لیپٹ میں آتے جا رہے ہیں، روہنگیائی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، ان کی املاک کو جلایا جا رہا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مہمات کئی کئی روز جاری رہتی ہیں لیکن کسی مسلم ملک اور اقوام متحدہ کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس سلسلے کو روکا جا سکے، غالباََ دنیا میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ برما میں لاکھوں روہنگیائی مسلمان بھی بستے ہیں۔ 2013ء میں دوبارہ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فسادات ہوئے، میانمار کے دو صوبوں میں مسلمانوں پر دو بچے پیدا کرنے کی پابندی عائد کر دی گئی۔ میانمار روہنگیا مسلمانوں کو نسلی تعصب کی بنیاد پر اپنے شہری تصور نہیں کرتا، اس لیے اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دینے میں بہانے تلاش کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *