رہتاس ضلع اوقاف کمیٹی کے ناکارہ پن سے عوام ناراض

محمد سہسرامی                                                       سہسرام: رہتاس ضلع اوقاف کمیٹی کےناکارہ پن سے    عوام میں شدید ناراضگی ہے۔ ضلع میں کروڑوں روپے  کی وقف جائیداد ہے لیکن رہتاس ضلع سنی اوقاف کمیٹی اس کی حفاظت کرنے کے بجائے ان جائیدادوں  کو غیر مسلموں کے حوالے کر رہی ہے۔ ان جائیدادوں کی ہلکی سی جھلک قارئین کو دکھانا ضروری ہے۔ نیکا گاؤں  کی وقف کی زمین رہتاس ضلع سنی اوقاف  کمیٹی  کی بہت قیمتی زمین ہے۔ بہار سنی وقف بورڈ سے رجسٹرڈ ہے۔ اسکا وقف نمبر ۲۲۶۹ ہے۔ مقامی سنی اوقاف کمیٹی   اس پر مارکیٹ کمپلیکس تعمیر کرنا چاہتی تھی۔ اس زمین پر مارکیٹ کمپلیکس کی تعمیر تو نہیں ہوئی مگر کمیٹی کے پاس لوگوں کا ہجوم لگنے لگا۔ جب کہیں ہجوم لگتا ہے تو وہاں دبے پاوں کرہشن بھی پہنچ جاتا ہے اور وہی ہوا بھی، جیسا کہ لوگوں کا قیاس ہے۔ اب یہ زمین دلت نے خرید لی ہے اور مقامی سنی اوقاف کمیٹی خاموش ہے۔
وقف جائیداد نمبر ۲۲۶۹
رہتاس ضلع سنی اوقاف کمیٹی کے سکریٹری پر مقامی ایم ایل اے اور ڈہری حلقہ اسمبلی سے ایم ایل اے نے بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں  عہدہ سے ہٹانے کی سفارش بہار سنی وقف بورڈ  کے علاوہ وزیر اعلٰی سے بھی کی تھی۔ اس کے بعد رہتاس ضلع اوقاف کمیٹی کا سکریٹری کون ہے، یہ ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔ رہتاس کے اقلیتی فلاح افسر آنند کشور کا کہنا ہےکہ موجودہ وقت میں رہتاس ضلع اوقاف کمیٹی کا کوئی بھی سکریٹری نہیں ہے۔ عقیلا نہال کی بھی وقف کی جائیداد کا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ یہاں بھی کھٹک برادری کے غیر مسلموں نے زمین پر قبضہ کیاہوا ہے مگر مقامی سنی اوقاف کمیٹی خاموش ہے۔ خانقاہ کبیریہ میں مسلمانوں کے تعمیر کردہ مکانات کو توڑوانے میں یہ کمیٹی کیوں اتنی دلچسپی لے رہی ہے اور غیر مسلموں کے معاملہ میں خاموشی کیوں، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اسی زمین پر تعمیر ایک اسپتال  کے ایک مسلم ڈاکٹر سے سکریٹری پر دو لاکھ روپیہ مانگنے کی خبر بھی شہر میں گشت کر رہی ہے۔ اسی طرح چور تکیہ کی ایک مسجد کی زمین کا بھی ایک لاکھ روپیہ میں سوودا ہونے کی افواہ بھی گرم ہے۔ اس اوقاف کمیٹی کے صدر کو اردو پڑھنا بھی نہیں آتا ہے اور وہ ایک راج مستری ہیں۔ اس سلسلہ میں رہتاس ضلع   تحفظ قبرستان کمیٹی کے صدر محمد قلمدار ننھے نے کہا ہے کہ صرف اپنے مکان کے ارد گرد رہنے والوں اور رشتہ داروں کو کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *