سورج کنڈ میلہ میں نظر آتا ہے گاؤں کا ہندوستان

محمد انیس الرحمٰن خان
Anis new 1 Parveen Akhtar at her shop in Surajkund Mela 2016

(سورج کنڈ میلہ میں اپنی دکان پر محترمہ پروین اختر)

ہر سال یکم تا ۱۵؍ فروری شہرمیں گاؤں اور گاؤں میں میلے کی جھلک آپ کو سورج کنڈ کی ۴۰؍ایکڑ زمین پر تقریباً۷۳۵؍ جھونپڑی نما دکانوں میں دیکھنے کو آسانی سے مل جاتی ہے۔ ہمارے عظیم ملک کی ریاست ہریانہ کے فریدآباد میں واقع سورج کنڈ کا مشہور میلہ ہر سال مذکورہ تاریخوں ہی میں لگتا ہے۔ لب دہلی لگنے والے اس میلے کی ابتدا ۱۹۸۷ء میں ہوئی ۔ اس بارمنعقدہ ۳۰؍ویں میلہ کا موضوع ہندوستان کی نئی نویلی ریاست ’’تلنگانہ‘‘ تھا۔پروفیسر مسعود حسین خان کی جدید تحقیق کے مطابق ہریا نہ میں بولی جانے والی کھڑی بولی کا تعلق بھی اردو زبان کی پیدائش میں اہم کردار اداکرتا ہے۔۲۰۱۱

ء کی مردشماری کے مطابق اس کا علاقہ۴۴؍ ہزار ۲۱۲؍ مربع کلومیٹر ہے۔ہندو،مسلم، سکھ عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل ہریانہ کی کل آبادی دو کروڑ ۵۳؍ لاکھ ۵۳۰۸۱؍ ہے۔جب اس ریاست کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہریانہ ٹورزم کی ویب سائٹ کا مشاہدہ کرینگے تو معلوم ہوگا کہ ہریانہ دولفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ایک ’’ہری‘‘ جس کو ہندی میں خدا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،جبکہ دوسرا ’’انہ‘‘یعنی زمین ۔دونوں لفظوں کو ملاکر بنے لفظ ہریانہ کا مطلب ہوا ’خداکی زمین ہے‘۔ یہاں آنے والے تمام مہمانوں کا دل کھول کر استقبال کیا جاتا ہے اور سنسکرت کے جملے ’اتیتھی دیو وبھوہ‘یعنی مہمان بھگوان کی طرح ہیں ، ان کی عزت ویسے ہی ہونی چاہیے جیسے لوگ عقیدت کے ساتھ اپنے معبود کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔مہمانوں کی عزت تقریباً تمام مہذب قوم و ملک میں ہوتی ہے مگر ہریانہ کو اس میں خصوصیت حاصل ہے۔ہریانہ کی مہمان نوازی کا لطف اٹھانے اور اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ہزاروں افراد ہر سال سورج کنڈ میلے کا رخ کرتے ہیں۔

ان میں سے ریاست جموں وکشمیر کے ضلع بڈگام کے رہنے والے غلام احمد ہمراز پریے بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے :’’میں یہاں برسوں سے کشمیری شالوں اور کپڑوں کی دکانیں لگاتا ہوں، مجھے کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، ہماری ایک غیر سرکاری تنظیم نیا کشمیر ہمراز سوشل سروس کلب ہے اس کے بینر تلے ہم خواتین کے خود کار گروپ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، ریاست کے دور دراز کے علاقوں میں بسنے والی خواتین کو ہنرمندی سکھا کرانہیں خرید وفروخت کرنا بھی سکھاتا ہوں، اس لیے ہرسال تقریباً چھ دکانیں ہمیں سورج کنڈمیلے کے جموں وکشمیر گیٹ کے برابر میں مل جاتی ہیں، مگر اس بار ہمارا مال کم ہی فروخت ہوپایا ہے۔‘‘ جھونپٹرا نمبر ۶۶۶؍میں ہینڈلوم کی دکان پر ملازمت کرنے والے ضلع اننت ناگ کے نوجوان شاہ رخ کہتے ہیں :’’میں گذشتہ چار برسوں سے یہاں آرہا ہوں، ہمیں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے ،اس بار میں ضلع کٹھوعہ کی باشندہ مریم بی کی دکان پر کام کررہاہوں جہاں سے پندر دنوں کے لیے ہمیں تین ہزارروپے مل جائیں گے ،مگر اس بار گیارہ دن گذرجانے کے بعد بھی پچاس فیصد ہی کام ہوپایا ہے۔‘‘ وہ اپنی رہائشی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’میلے میں ہمارے رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، اس لیے پاس کے علاقہ پل پرہلاد پور میں ایک ہوٹل میں رہتا ہوں جس کے لیے تین سوروپے اداکرنے پڑتے ہیں ،جو ہم لوگوں کے لیے مشکل ہے۔‘‘

Parveen Akhtar at her shop at Suraj Kund mela

(غلام احمد ہمراز سے بات کرتے ہوئے انیس الرحمن اور نکہت پروین، تصاویر: چرخہ فیچرس)

ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد سے پہلی مرتبہ سورج کنڈ میلہ میں اقلیتی کمیشن کے مالی تعاون سے آنے والے معراج الشیخ اور نرگس کو جھونپڑا نمبر ۶۲۴؍دیاگیا ہے جس پر انہوں نے کھادی کے کپڑوں کی دکان سجائی ۔انہوں نے کہا: ’’ہمارے آنے جانے رہنے سہنے کا سارا خرچ اقلیتی کمیشن کی طرف سے ادا کیا جائے گا،دکانداری بھی ٹھیک ہی چل رہی ہے۔‘‘دوسری طرف مغربی بنگال سے ہی آنے والے نور نے کہا کہ وہ سورج کنڈ میلہ میں پہلی بارآئے تھے۔ میلے میں لوگ توآرہے ہیں مگر فروخت اچھی نہیں ہورہی ہے ۔‘‘

جھونپڑی نمبر۶۶۶؍پر جوٹ کے فینسی بیگ اورخشک میواجات کی دکان ریاست جموں وکشمیر کے جموں خطہ کے پہاڑی ضلع ریاسی کی تحصیل مہورکے گاؤں شجرو سے تعلق رکھنے والی پروین اختر کی ہے۔ان کا کہنا ہے :’’ویمن ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف جے اینڈ کے کی جانب سے ہم خواتین کی ترقی کے لیے آسان قسطوں پر قرض مہیا کرایا جاتا ہے،جس سے ہم لوگ خود مددگار گروپ بناکر اپنے ہنر اور فن کو نہ صرف نکھارتے ہیں بلکہ اپنی معاشی حالت کو بھی بہتر بناتے ہیں ، میرے شوہر عاشق احمد محکمۂ تعلیم میں ہیں، انہوں نے ہمیں ہر طرح کی مدد دے کر حوصلہ افزائی کی ہے، میں خودبارہویں پاس ہوں مگر میری دونوں بیٹیاں اعلیٰ تعلیم کے زیورسے آراستہ ہورہی ہیں۔ میں ۲۰۱۱ء سے ابھی تک منتخبہ وارڈ ممبر ہوں اور انشاء اللہ آئندہ سرپنچ کا انتخاب لڑنے کا ارادہ اس لیے بھی رکھتی ہوں کہ ابھی تک ہمارے علاقے میں بجلی اور پینے کا صاف پانی نہیں مل پاتا ہے۔ وارڈ ممبر رہتے ہوئے میں نے ایک تار کے

کھمبے کا انتظام کروایا ہے مگر وہ نا کافی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں:’’محبوبہ مفتی کو میں ریاست کی وزیر اعلیٰ کے طورپر اس لیے بھی دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ ایک خاتون ہیں اور ایک خاتون ہی خواتین کا درد بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہے۔‘‘سورج کنڈمیلے کے تعلق سے ان کا کہنا ہے:’’ ہمیں اپنی جھونپڑی نمادکان کے لیے پانچ ہزار روپے پندرہ دنوں کے لیے ادا کرنے ہوتے ہیں۔‘‘انہوں نے سماجی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں آپ کے ذریعہ سارے ہندوستان کی خواتین کو ایک پیغام دینا چاہتی ہوں کہ آپ لوگ اپنے لباس کو بہتر بنائیں ، ہم خواتین کی عزت بڑی ہے تو لباس چھوٹا کیوں ہو؟ حکومت کو بھی اس طرف نظر کرنی چاہیے ،چھوٹے لباس اور اوچھی حرکتیں ہمارے مہذب معاشرے کی علامت نہیں بن سکتے ۔ اپنی بہنوں کے لیے میں خود اپنی مثال پیش کرتی ہوں کہ ہندوستان کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے بڑے رہنما غلام نبی آزاد ہمیں ’’چھوٹا ایم پی‘‘ کہتے ہیں حالانکہ میں پوری طرح زنانہ اور اسلامی لباس میں ہوتی ہوں۔‘‘ وہ ایک شعر کے ذریعہ اخوت کا پیغام دیتے ہوئے کہتی ہیں :
نہ ہندوبرانہ مسلمان بر ا
برائی پہ آئے توہر انسان برا
(چرخہ فیچرس)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Website Protected by Spam Master