سہارا انڈیاپریوارمیں میڈیا کارکنوں کا احتجاجی دھرنا شروع

نئی دہلی، ۲۸؍ اکتوبر: قومی راجدھانی دہلی کے نزدیک نوئیڈا میں واقع سہارا انڈیا کمپلکس میں آج بڑی تعداد میں کارکنان نے ’سہارامیڈیا ورکرس یونین‘ کے بینر تلے دھرنا دیا۔اس موقع پر یونین کے اہلکاروں نے کارکنوں نے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ انہیں بار بار دھوکہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم وبیش ایک سال سے کارکنوں کو تنخواہ نہیں مل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے گھرخاندان کا تانا بانا بگڑ رہا ہے، لیکن انتظامیہ کے ذمہ داران کان میں تیل ڈال کر سوئے ہوئے ہیں۔

dharna سہارامیڈیا ورکرس یونین کے ایک سرکردہ رکن آصف علی نے بتایا کہ ۱۴ ؍ جولائی ۲۰۱۵کو جب کارکنوں نے بقایا تنخواہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے میڈیا کا کام بند کردیا تھا تو اس وقت انتظامیہ نے جلد ہی تنخواہ کی ادئیگی کے نظام کو درست کرنے کا وعدہ کرکے کارکنوں کو کام پر واپس آنے کی اپیل کی تھی۔ انتظامیہ کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے سبھی کارکنان کام پر واپس آگئے تھے لیکن تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی کارکنوں سے کیے گئے وعدوں کو اب تک پورا نہیں کیا گیاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی اسی سردمہری سے مجبور ہوکر سہارا ورکرس یونین نے احتجاجی دھرنوں کو پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آصف علی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر انتظامیہ نے دو تین دنوں کے اندر کارکنوں کے مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے کوئی ٹھوس اور مثبت قدم نہیں اٹھایا تو ’ہم ایک بار پھر میڈیا کے کام کو ٹھپ کرنے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ابھی کارکنان صبح ۱۰ بجے سے شام کے ساڑھے پانچ بجے تک احتجاجی دھرنا پر بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد کمپنی کے کام میں لگ جاتے ہیں۔

آصف علی نے سہاراانڈیا پریوار کے انتظامیہ ذریعہ میڈیا کے کارکنوں سے سوتیلا برتاؤ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کمپنی اپنے دوسرے شعبوں کے ملازمین کو وقت پر تنخواہ دے رہی ہے۔ صرف میڈیا کارکنوں سے کہا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ اکاؤنٹ سیل کردیے جانے کے سبب پیسے کی دقت ہوگئی ہے ، اس لیے انہیں وقت پر تنخواہ دینے میں مشکل ہورہی ہے۔

sahara-dharna
یادرہے کہ سہارا انڈیا پریوار کے کارکنوں کو تقریباً ایک سال سے وقت پر تنخواہ نہیں مل رہی ہے۔ اس کمپنی کے سربراہ سبرت رائے سہارا ۴ ؍ مارچ ۲۰۱۴ سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں۔ سبرت رائے سپریم کورٹ نے صارفین کے رقم کی ادائیگی کے لیے ۳۶ ہزار کروڑ روپے دینے کا حکم دیاہے۔عدالت کے حکم پر عمل آوری نہیں کرنے کی پاداش میں سبرت رائے سہارا ابھی بھی جیل میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے امسال ۴؍ اگست کو سبرت رائے کی رہائی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’آپ اپنی مرضی سے جیل میں ہیں۔‘‘عدالت نے سبرت رائے وکیل کپل سبل کو کہا تھا :’’ایک چیز جو پریشان کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ شخص (سبرت رائے سہارا) کہتا ہے کہ اس کے پاس ایک لاکھ پچاسی ہزار کروڑ روپے کی ملکیت کا اثاثہ ہے ، اور دوسری جانب وہ اس کے پانچویں حصے کی ادائیگی کے سلسلے میں عدالت سے کہتا ہے کہ وہ اس کے قابل نہیں ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *