سہرسہ میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم خواتین نکلی سڑکوں پر… طلاق بل واپس لینے کا کیا مطالبہ

 وجیہ احمد تصور✍️
سہرسہ….  سہرسہ ضلع ہیڈ کوارٹر میں آج   طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم پرسنل لا کے اپیل پر اصلاح معاشرہ و تحفظ شریعت کمیٹی سہرسہ  کے بینر تلے ہزاروں  مسلم خواتین کا خاموش جلوس  پٹیل میدان  سے نکل کر کلکٹریٹ  پہنچا جس میں ہزاروں خواتین بینر ہاتھوں میں لئے ہوئی تھیں. اس سے پہلے خواتین کی بھاری بھیڑ پٹیل میدان میں جمع ہوا جہاں مشہور معالج ڈاکٹر حنا فاروقی کی صدارت اور صبیحہ رحمانی کی نظامت میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس کو  خطاب کرتے ہوئے  مسلم پرسنل لا خواتین ونگ کی  بہار کنوینر ڈاکٹر مہ جبین ناز  نے کافی تفصیل سے پرسنل لا کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کی یہ بیداری اور ان کا یہ کامیاب جلوس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے ، مگر اپنی شریعت میں ذرہ برابر مداخلت برداشت  نہیں کر سکتا ۔اس موقع پر ڈاکٹر کوکب سلطانہ نے کہا کہ  مرکزی حکومت نے طلاق بل کے ذریعہ مسلم معاشرہ کو جس طرح تہ و بالا کرنے اورمسلم خواتین سے ان کا دین چھیننے کی کوشش کی ہے،  طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ   ہمارے آئینی حقوق میں مداخلت کرکے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس کو ہم مسلم خواتین برداشت نہیں کر سکتے ہیں اور ابھی تو سہرسہ میں جمع ہو ئے ہیں ضرورت پڑی تو پٹنہ  سے لیکر دلی تک شریعت کی حمایت میں جمع ہوسکتے ہیں. اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر حنا فاروقی نے کہا کہ شریعت میں مداخلت کو مسلم خواتین کبھی برداشت نہیں کر سکتی ہے. طلاق ثلاثہ تو مسلم خواتین کے لئے رحمت ہے جس کی وجہ سے  مسلم معاشرہ بہت سارے خرابیوں سے پاک ہے. اسلامی شریعت میں ایک حرف کی بھی تبدیلی ممکن نہیں ہے   ۔ آج کے اس احتجاج کے ذریعہ مسلم خواتین حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنا بل واپس لے اور ملک کے تمام باشندوں کو ان کے مذہب پر جینے کی دستوری آزادی فراہم کرے ۔جلسہ عام سے پروفیسر صوفیہ رخسانہ، نوشابہ عبدالودود، عظمی رحمت، مہ جبیں نوری، انوری پروین، مسرت پروین، فرحت جبیں ناز، زینت پروین، ریحانہ خاتون، نوشین عبدالقیوم، صفیہ موتی، زینب سلمی وغیرہ نے بھی طلاق ثلاثہ بل کو فورا واپس لینے کی مانگ کی. اس موقع سے جلوس میں شریک تمام خواتین بیک زبان سرکار کے اس بل کے خلاف ہاتھوں میں  ہزاروں تختیاں اور بینر تھے ، جس پر بل کی واپسی کا مطالبہ ، ملک کی سالمیت اور اتحاد کے نعرے کے ساتھ شریعت ہمارا اعزاز ہے، ہم قانون شریعت کے پابند ہیں،  مسلم پرسنل لا بورڈ زندہ با د جیسے نعرے لکھے   تھے ۔ ساڑھے گیارہ بجے یہ اجلاس جلوس میں تبدیل ہو گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں مسلم خواتین کا قافلہ پٹیل میدان کے مغربی جانب سے کلکٹریٹ کے لئے روانہ  ہوا. بھیڑ کا وہ عالم تھا کہ قریب دو کلو میٹر دوری کا سفر طے کرنے میں  دو گھنٹے میں لگ گئے ۔ جلوس کے اختتام پر ڈاکٹر حنا فاروقی، ڈاکٹر کوکب سلطانہ، مہ جبین ناز، مسرت پروین، زینت پروین، فرحت جبین ناز اور  ریحانہ خاتون پر مشتمل ایک وفد نے  کلکٹریٹ پہنچ کر ضلع مجسٹریٹ  کے معرفت صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم  سونپا ۔میمورنڈم کا مضمون یہ تھا: ’’ہم مسلم خواتین کا یہ شدید احسا س ہے کہ پروٹیکشن آف رائٹس ان میریج ایکٹ2017بڑی عجلت میں پاس کیاگیا اور اس بل کی تیاری میں کسی مسلمان عالم دین اور دانشوروں سے مشورہ نہیں لیاگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے 22-8-2017کے بعد ایسے بل کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بل دراصل دستور ہند کی دفعات اور خواتین وبچوں کے مفادات کے سخت خلاف ہے ۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ اس بل کو فوری واپس لیاجائے اور اس پر نظر ثانی کی جائے ۔ خواتین کے حقوق اور صنف سے عدل وانصاف کیاجائے ۔ ہم صدرجمہوریہ ہند کے حالیہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں خطبہ کے دوران مسلم خواتین کے سلسلے میں جو رکیک اور دل آزار حملے کیے گئے اس کی سختی سے نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صدرجمہوریہ کے ان الفاظ اور ریمارکس کو حذف کرے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم ویمن پروٹیکشن بل کے نام پر مسلم خواتین کی اہانت و دل آزاری نہ کرے اور مسلم خواتین کو دستور ہند میں دئیے گئے حق آزادی واختیارات کو سلب کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ صدرجمہوریہ کے خطاب میں سے مسلم خواتین سے متعلق سطور کو حذف کیاجائے اور حکومت کو مشورہ دیاجائے کہ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے احساسات کو مجروح نہ کرے ۔ ‘‘ احتجاجی جلوس میں شامل خواتین نے سرکار کے سامنے مندرجہ ذیل مطالبات بھی رکھے ۔ ہم سہرسہ  ضلع کی مسلم خواتین طلاق مخالف بل (دی مسلم وومین پروٹیکشن آف رائٹ آن میرج) بل2017 جو کہ لوک سبھا سے 28 دسمبر 2017و پاس ہوا ہے ،اس کی زبردست مخالفت کرتے ہیں اور سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے کیوں کہ:
 ۱۔ یہ بل مسلم پرسنل لا میں کھلی ہوئی مداخلت ہے ، اور ہندوستانی آئین کی دفعہ14اور15 کی صریح خلاف ورزی ہے ۔
 ۲۔ یہ بل خواتین کے خلاف ہے ، بچوں کے حقوق کے خلاف ہے حتی کہ سماج کے خلاف ہے ۔کیوں کہ جب شوہر تین سال کے لیے جیل میں ہو گا تو وہ اس بل کے مطابق بیوی اور بچوں کو گذارا بھتہ کیسے دے گا ؟ اگر وہ روزانہ مزدوری کرتا ہے تو جیل میں رہ کر کس طرح بیوی بچوں کا خرچ اٹھائے گا ،اگر وہ سرکاری نوکری میں ہے تو کیا تین سال جیل میں رہنے کے بعد اس کی نوکری برقرار رہےگی؟نوکری چھوٹ جانے کے بعد وہ کس طرح گذارا بھتہ دے گا؟اس کے علاوہ تین طلاق کو ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری مسلم عورتوں پر ڈالی گئی ہے ، یہ عورتوں پر سراسر ظلم ہے۔
 ۳۔ اس بل کے مندرجات سے پتہ چلتا ہے کہ سرکار نے اس بات پر بالکل غور نہیں کیا کہ جب شوہر تین سالوں کے لیے جیل چلا جائے گا تو اس کے بعد بیوی اور بچوں کو کن خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔طلاق شدہ بیوی اور بچوں کا خرچ کون چلائے گا؟بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟کیا جب وہ تین سال جیل میں رہنے کے بعد واپس آئے گا تو وہ اپنی اس بیوی کے ساتھ خوش رہ سکے گا جس کی وجہ سے وہ تین سال جیل میں رہا ہے؟ کیا ان کے تعلقات دوبارہ صحیح ہو پائیں گے ؟
۴۔ بر سر اقتدار جماعت کی طرف سے یہ غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل صرف تین طلاق کے خلاف ہے ، مگر حقیقت میں یہ بل پورے نظام طلاق کو ہی ختم کرنے کے لیے ہے ، سرکار کے اس وقت کے اٹارنی جنرل نے خود جسٹس یو یو للت کے سامنے ان کے پوچھنے پر سپریم کورٹ میں یہ قبول کیا تھا کہ سرکار طلاق کے پورے نظام کو ہی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل مسلم مردوں کو جیل میں ڈالنے اور اور خواتین کو کورٹ کا چکر لگانے کے لیے مجبور کرنے کے لیے ہے ، ہم مسلم خواتین اس بل کو ایک کالا قانون کے طور پر دیکھتی ہیں اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں ۔
 ۵۔اس کے علاوہ یہ بل سماج مخالف بھی ہے ، کیوں کہ اس میں ایک سماجی معاہدہ کو قابل سزا جرم بنایا جا رہا ہے ۔ اس بل کی دفعہ ۷ میں لکھا ہے کہ یہ عمل عدالتی دائرۂ کار کے اندر او غیر ضمانتی ہے ، اس کا مطلب یہ کہ کوئی تھرڈ پارٹی بھی شوہر کے خلاف شکایت کر دے تو اس شوہر کو جیل میں ڈال دیا جائے گا اور اس میں بیوی کی مرضی کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی ۔اسی طرح نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے ، لیکن یہ بل اس کو کرمنل ایکٹ کے دائرے میں لے آئے گا جو کہ غیر اخلاقی ق غیر ضروری ہے ۔ سال 2006میں سپریم کورٹ کے معزز جسٹس ایچ کے سیما اور آر وی روندرن نے ایک مقدمہ میں فیصلہ سنایا تھا کہ سول کیس کو کرمنل کیس میں نہیں بدلا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔
 ۶۔ ہم سبھی مسلم خواتین شریعت میں اور مسلم پرسنل لا میں مکمل یقین رکھتی ہیں اور اس پر عمل کرتی ہیں اور اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ اسلام میں طلاق کا نظام مسلم عورتوں کے لیے ظلم نہیں بلکہ ان کے لیے ایک نعمت ہے ۔ مندرجہ بالا حقائق کی بنیاد پر اور ان حالات میں ہم مسلم خواتین اس بل کی پرزور مخالفت کرتی ہیں اورسرکار سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اس بل کو واپس لے کیوں کہ یہ ہندوستانی آئین ، خواتین کے حقوق اور جینڈر جسٹس کے خلاف ہے۔
اس موقع پر امارت شرعیہ پٹنہ کے مفتی مولانا سعید الرحمن، امارت شرعیہ کے نائب قاضی مولانا انظر عالم، مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر ڈاکٹر ابوالکلام، پروفیسر محمد طاہر، انجم حسین، ڈاکٹر محمد طارق، محبوب عالم جیبو، محمد آزاد، محبوب عالم، ڈاکٹر محمد معیز الدین، ڈاکٹر محمد افغان، ڈاکٹر محمد خورشید عالم، ڈاکٹر محمد ابوصالح، ڈاکٹر محمد محبوب،محمد شمیم اختر(پرمکھ)،  گل نیاز ٹنکو، عمر حیات گڈو، شعیب سانو، فیروز عالم، محی الدین، سیف رحمان، حافظ ممتاز رحمانی، مفتی فیاض عالم، مولانا فیروز نظامی، محمد ذکی امام، اطہر علی، اسلام مکھیا، شہزاد عالم، حق صاحب، امتیاز حنی، مظفر عالم، گڈو جمال، سبو راعین، چاند عالم، منظور عالم وغیرہ بھی موجود  تھے.
اس موقع پر نوجوانوں نے پورے حوصلے اور ہمت سے نہ صرف دور دراز سے آنے والوں کا استقبال کیا بلکہ ہر وقت سب پروگرام کو کامیاب بنانے میں جٹے رہے اور جلوس کے دوران انسانی زنجیر بنا کر خواتین کے جلوس کو پورے حفاظت کے ساتھ کلکٹریٹ تک پہنچا نے میں اہم کردار ادا کیا.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *