ضلع اوقاف کمیٹی کی جائزہ میٹنگ میں سہرسہ شہر میں اقلیتی بچوں کیلئے ماڈل اسکول کی تعمیر کا فیصلہ

وجیہ احمد تصور ✍️
سہرسہ…… وقف کی جائیداد کو سہرسہ میں تجاوزات سے آزاد کرانا ریاستی حکومت کے ترجیحات میں شامل ہے۔ وقف کے جائیداد پر ناجائز قبضہ ہے اسکے ذمہ دار ہم لوگ ہیں ۔ یہ باتیں سابق ایم ایل سی و ضلع اوقاف کمیٹی کے صدر الحاج محمد اسرائیل راعین نے ضلع کے نوڈل افسر اور ضلع اوقاف کمیٹی کے ذمہ داران کے ساتھ اقلیتی محکمہ کے میٹنگ ہال میں جائزہ میٹنگ منعقد ہوئ۔ انہوں نے کہاکہ وقف کی جائیداد نہ فروخت ہوسکتی ہے اور نہ خریدی جاسکتی اور نہ کسی کو تحفہ کے طور پر دیا جاسکتا ہے۔ ایک مرتبہ اگر اللہ کے نام پر جائیداد کو وقف کردیا گیا تو ہمیشہ کیلئے وہ اللہ کی ملکیت ہوگئ خواہ بورڈ ہو یا، متولی صدر و سکریٹری صرف اسکے نگراں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اقلیتی بچوں کے تعلیم کے لئے ماڈل اسکول کی تعمیر کے لیے جائزہ میٹنگ میں ریاستی اقلیتی رہائشی اسکول کے تعمیر کیلئے وقف اسٹیٹ نمبر 1331 کے متولی محمد معین الدین کے 3ایکڑ زمین پر سبھی اوقاف کمیٹی کے ذریعہ منظور کیا گیا۔ مدرسہ سودرڈھی کرن یوجنا پر بھی غور وفکر کیا گیا۔


وقف سے یوجنا کی ترقیاتی سے متعلق غور فکر کیا گیا اور سہرسہ کے سبھی وقف اسٹیٹ کے متولی کے ذریعہ ترقیاتی کیلئے ایجنڈا پاس کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع اقلیتی فلاح افسر روی شنکر، ضلع اوقاف کمیٹی کے سکریٹری پروفیسر محمد طاھر ، ڈاکٹر ابوالکلام،ڈاکٹر معیز الدین، مشرف حسین، محمد محی الدین راعین، معین الدین، چاند خاں، مقصود عالم، اطہر علی ، محمد اسلام ، محمد مصلح الدین موجود تھے۔

 

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *