ساہتیہ اکادمی کے زیر اہتمام شعری نشست کا انعقاد

Sahitya Akademiنئی دہلی ۱۲؍ اپریل : ساہتیہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک شعری نشست کا انعقاد رویندر بھون میں واقع اکادمی کے کانفرنس ہال میں کیا گیا جس کی صدارت اردو مشاورتی بورڈ کے کنوینر چندر بھان خیال نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ اردو شاعری کی روایت بہت توانا رہی ہے۔ آج کا شعری منظر نامہ بھی بہت روشن ہے۔ نئی نسل میں بہت سے ایسے شعرا ہیں جن کی شاعری ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔ ان کے علاوہ وقار مانوی، متین امروہوی، حنیف ترین اور منیر ہمدم نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے پروگرام آفیسر مشتاق صدف نے تمام شعرا کا تعارف پیش کیا اور اکادمی کی ادبی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ اس نشست میں محمد خلیل، سہیل انور، ابو بکر عباد، سرفراز دہلوی، روٗف رضا، ابو ظہیر ربانی، سفیان احمد،موسیٰ رضا، خورشید عالم، کفایت دہلوی،محمد مرتضیٰ، لیئق رضوی سمیت دہلی کی متعدد سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ پسندیدہ اشعار پیش خدمت ہے۔
منیر ہمدم
ایک سورج نے یہ کہا مجھ سے
تیری آنکھوں میں کیسے چھالے ہیں
متین امروہوی

سب پیار سے رہتے ہیں پرکھو ں کی حویلی میں
آنگن میں کھڑی کوئی ہم دیوار نہیں کرتے
حنیف ترین

موم کے ہو گئے جو جسم ہواؤں میں حنیف
قہر کی دھوپ سے اب ان کو بچا کر رکھیے
وقار مانوی

پوچھو نہ کیا گذر گئی اعصاب پر میرے
انگڑائی لینے والا تو انگڑائی لے گیا
چندر بھان خیال

وقت اور حالات پر کیا تبصرہ کیجیے کہ جب
ایک الجھن دوسری الجھن کو سلجھانے لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *