لوام میں 12، اسراہا میں 13 اور بھرواڑہ میں 16جنوری کو”سنویدھان بچاؤ ریلی“

لوام میں 12، اسراہا میں 13 اور بھرواڑہ میں 16جنوری کو”سنویدھان بچاؤ ریلی“
کثیرتعداد میں علاقے کی امن پسند عوام اور آئین سے محبت کرنیوالوں سے شرکت کی اپیل
دربھنگہ: (پریس ریلیز۔) سی اے اے، این آرسی، این پی آر کے خلاف صدر اسمبلی حلقہ کے لوام گاؤں کے گنگا بھگت کھیل میدان میں مورخہ 12 جنوری، کیوٹی کے اسراہا گاؤں کے دارالعلوم کنیزیہ میں 13جنوری اور بھرواڑہ کے گھوردول بازار میں 16 جنوری کو ”سنویدھان بچاؤ سنگھرش مورچہ“کے بینرتلے ایک تاریخی ”سنویدھان بچاؤ ریلی“ کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔ مذکورہ پروگرام کی اطلاع دیتے ہوئے پروگرام کے کنوینر و لوام پنچایت کے سرپنچ ہمایوں شیخ، ایڈوکیٹ سیف الاسلام (کنوینر، کیوٹی) و سبحان خان  (کنوینر، بھرواڑہ)نے بتایا کہ پروگرام کی تیاری شباب پر چل رہی ہے۔ گاؤں اور علاقے کے ذمہ داروں کے ساتھ لگاتارمیٹنگ چل رہی ہے۔
تینوں حضرات نے مشترکہ طور پرکہا کہ اس کالے قانون کے خلاف ملک کے سبھی لوگوں کو آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں لوگ بڑے پیمانے پر اس کالے قانون کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ مرکز کی تاناشاہ حکومت لگاتار یونیورسٹی کے طلباء اور عام عوام پر پولیسیا لاٹھی  برسا رہی ہے ساتھ ہی بھاجپا کے غنڈہ بھی نقاب پوش بن کر کالے قانون کے خلاف پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں اور مرکز کی تاناشاہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہرگاؤں، ہر محلہ، ہر شہر کے لوگوں کو اس کالے قانون اور تاناشاہ حکومت کے خلاف پرزور احتجاج درج کرانا ہوگا تبھی یہ تاناشاہ، ملک مخالف، آئین مخالف، غریب مخالف حکومت کو کرسی سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اگر وقت رہتے عوام نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تو یہ حکومت ملک کو بانٹنے میں کامیاب ہوجائے گی اور خاص کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بناکر رہے گی۔ اس لئے تمام علاقائی ذمہ داروں، ائمہ مساجد، علماء کرام، مدارس کے ذمہ داران، ملی، فلاحی و رفاحی تنظیموں کے سربراہان، مکھیا، ضلع پریشد رکن، سرپنچ، ممبر، پنچایت سمیتی رکن اور گاؤں کے ذمہ داروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ 12جنوری کو لوام کے گنگا بھگت کھیل میدان، کیوٹی کے اسراہا واقع دارالعلوم کنیزیہ اور بھرواڑہ کے گھوردول بازار میں ہونے جارہے ”سنویدھان بچاؤ ریلی“ کو کثیرتعداد میں شریک ہوکرحکومت وقت کو یہ بتادیں کہ ”ہم بھارت کے لوگ“مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے کسی بھی قانون کو نہیں مانتے۔  انہوں مزید کہا کہ یہ ملک جمہوری ملک ہے، یہ ملک آئین پر چلتا ہے، یہاں سبھی مذاہب کے لوگوں کو برابری کا حق حاصل ہے۔ یہ ملک ہرحال میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکرلکھئے ہوئے قانون سے چلے گا نہ کہ تڑی پار امیت شاہ اور مودی کے بنائے کالے قانون سے چلے گا۔ ملک میں کسی بھی حال میں ”چڈی گینگ“(آرایس ایس) کے مینوفیسٹو کو لاگو نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ”سنویدھان بچاؤریلی“ جو 12,13 اور 16جنوری کو دن کے 10:30 بجے سے ہونے جارہا ہے اس میں بلاتفریق کثیرتعداد میں خود بھی شریک ہوں  اور امن پسند برادرانِ وطن کو بھی اس میں شریک ہونے کی دعوت دیں بلکہ ساتھ لائیں تاکہ اُنہیں یہ پتہ چلے کہ یہ جو کالا قانون مرکز کی حکومت نے بنایا ہے وہ مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ملک کی عوام کے خلاف ہے، غریب، کسان، مزدور، دلت کے خلاف ہے۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply