سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کوکالے قانون کیخلاف سڑکوں پر آنے کی ہے ضرورت: نظرعالم

*سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کوکالے قانون کیخلاف سڑکوں پر آنے کی ہے ضرورت: نظرعالم*

*مسلمانوں کی بھیڑ سے لیڈرشپ چمکانے والے لیڈروں سے رہیں ہوشیار: بیداری کارواں*

*مضبوطی کے ساتھ لال باغ دربھنگہ کاستیہ گرہ 28 ویں دن بھی جاری ہے،دربھنگہ ضلع میں 12 جگہوں پر چل رہا غیرمعینہ دھرنا*

دربھنگہ: پریس ریلیز۔سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کے خلاف ملک بھر میں مسلمان بڑی تعداد میں اس لڑائی کو لڑرہے ہیں لیکن کالے قانون کے خلاف جو سیاسی پارٹیاں اور لیڈران اخبار کی سرخیاں بٹور رہے ہیں ان کی پارٹیوں کے کارکنان کہیں بھی نظرنہیں آرہے ہیں اور نہ ہی ان کی برادری کے لوگ سڑکوں پر دکھتے ہیں۔ پورے ملک میں کہیں بھی اکثریتی طبقہ کے لوگوں کا دھرنا نہیں ہورہا ہے۔ جب کہ یہ کالا قانون ملک کے ہرفرد کے خلاف ہے، سب سے زیادہ اکثریتی طبقہ65 فیصد ہندو بھائیوں کے خلاف ہے۔ تو پھر اُن کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ دلت، پسماندہ اور غریب لوگوں کو سڑکوں پر لائیں تاکہ حکومت وقت کو یہ سمجھ میں آجائے کہ اس کالے قانون کے خلاف ملک کا ہرفرد لڑائی لڑرہا ہے۔کچھ لیڈران صرف مسلمانوں کی بھیڑ کا حصہ بن کر اسٹیج سے اپنی پارٹیوں کومضبوط کررہے ہیں اور لیڈرشپ چمکارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2020 کے انتخاب کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ ایسے لوگ مسلم ووٹوں کے بٹوارہ کی سیاست کرنا شروع کردئے ہیں۔ ایسے لیڈروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اسٹیج بھی ہمارا، روپیہ بھی ہمارا، لوگ بھی ہمارے ہی ہوتے ہیں۔ جب کہ ہونا تو یہ چاہئے کہ جس پارٹی کا لیڈر ہمارے اسٹیج پر آتے ہیں اُنہیں یہ کہا جائے کہ آپ اپنی پارٹی کا اجلاس بلائیں، دھرنا بلائیں ہم لوگ وہاں پہنچیں گے۔ آپ اپنے کارکنان کو سڑکوں پر بٹھائیں تب جاکر یہ لڑائی مضبوط ہوگی اور حکومت کو یہ پتہ چلے گا کہ اس کالے قانون کے خلاف ملک کا ہرفرد سڑکوں پرہے۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے پریس بیان میں کہی۔ مسٹرنظرعالم نے کہا کہ ہاں مسلمان اس لڑائی کو آگے بڑھ کر ضرور لڑرہا ہے لیکن اپنے لئے نہیں بلکہ ملک اور ملک کے آئین کو بچانے کی لڑائی لڑرہا ہے۔ اس بات سے قطعی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مسلمان اس لڑائی کو آگے بڑھ کر کیوں لڑرہا ہے، مسلمان اس لئے آگے بڑھ کر لڑرہا ہے کہ آزادی کے وقت بھی مسلمانوں نے ہی آگے بڑھ کر سب سے زیادہ قربانیاں دی تھیں اور آج پھرسے بھاجپا سے آزادی دلانے کی لڑائی میں مسلمان ہی آگے بڑھ کر لڑرہا ہے۔ لیکن کچھ سیاسی پارٹیاں اور لیڈران کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ اکثریتی طبقہ کے 65 فیصد ہندو بھائیوں کو ہے اور وہ کیوں نہیں ہندوسماج کے غریب طبقہ کو اس لڑائی میں آگے لارہے ہیں۔ کیوں کہ جب این آرسی لاگوہوگا تو آسام کے طرز پر سب سے زیادہ نقصان یا اس کالے قانون کی زد میں اکثریت طبقہ کے لوگ ہی آئیں گے۔ تو پھر ان کے لوگ سڑکوں پر احتجاج کیوں نہیں کرتے، مسٹرعالم نے یہ بھی کہا کہ کچھ لیڈران مسلمانوں کے اسٹیج سے آکر بڑی آسانی سے بول جاتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی اس لڑائی میں ساتھ ہیں، تووہ بتائیں کہ کیا یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی ہے جو وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ہرگز یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی نہیں ہے۔ہاں اگر مسلمانوں کاکشمیر کا معاملہ، تین طلاق کا معاملہ یا پھر بابری مسجد کا معاملہ ہوتا اور پھر وہ ایسا بولتے تو تھوڑی دیر کے لئے مان لیا جاتا کہ چلو مسلمانوں سے جڑا معاملہ ہے اس لئے ہماری اس لڑائی میں آپ ساتھ ہیں۔ مسٹرعالم نے کہا کہ مسلمان ڈرنے والی قوم نہیں ہے الحمدللہ دو مہینے سے اس کالے قانون کے خلاف لڑائی لڑرہی ہے اور تاناشاہ حکومت کی جڑیں ہلاچکی ہیں اور یقینا اس لڑائی کو ہم جیتیں گے۔ ہاں سیاسی پارٹیوں اور خود کو سیکولر بتانے والے لیڈران سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کے لوگ کب سڑکوں پر نکلیں گے، کب دھرنا پر بیٹھیں گے۔ سوال کرنا ہمارا حق ہے اور اگر ہم سوال نہیں کرسکتے تو یاد رکھیں آپ کی اس قربانی کا سہرا کچھ مفاد پرست لیڈران اور سیاسی پارٹیاں اٹھالے گی اور آپ پھر سے سیاسی پارٹیوں کی غلامی تک محدود رہ جائیں گے۔ مسٹرعالم نے بتایا کہ دربھنگہ ضلع میں لگ بھگ 12جگہوں پر غیرمعینہ دھرنا مضبوطی کے ساتھ چل رہا ہے اور لال باغ دربھنگہ کے ستیہ گرہ کا آج 28 واں دن ہے۔ الحمدللہ یہ ستیہ گرہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک تاناشاہ حکومت اس کالے قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply