بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی کارروائی اطمینان بخش رہی: نقوی

Mukhtar Abbas Naqvi

نئی دہلی، ۱۶ مارچ: وزیر مملکت برائے پارلیمانی و اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے آج اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھیک ڈھنگ سے چلی۔ انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ راجبیہ سبھا میں بحث کے بعد آدھار بل کو لوک سبھا میں ضرور واپس بھیجا جائے گا۔

نقوی نے کہا کہ ’’سرکاری اسکیموں کے فوائد لوگوں تک پہنچیں، اسے یقینی بنانے کو لے کر شفاف طریقہ اور منصوبہ ہمارے پاس موجود ہے۔ راجیہ سبھا میں اس پر بحث ہوگی اور اس کے بعد ہمیں امید ہے کہ (آدھار) بل کو لوک سبھا واپس بھیجا جائے گا۔ چونکہ یہ منی بل ہے، اس لیے یہ پاس نہیں ہوگا، بلکہ اسے واپس کرنا ہوگا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’بہت سارے بل پاس ہو چکے ہیں اور متعدد ایسے ہیں، جن پر بحث ہونی ہے۔ تاہم، مجموعی طور پر سبھی چیزیں اطمینان بخش طریقے سے چل رہی ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے گزشتہ جمعہ کو آدھار بل ۲۰۱۶ لوک سبھا میں پیش کیا تھا، تاکہ اس پر غور کیا جا سکے۔ لیکن اپوزیشن کی طرف سے اس پر اب بھی سوال کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے اسے منی بل کے طور پر پیش کرنے پر اپنا اعتراض جتایا ہے اور کہا ہے کہ کانگریس اس بل پر تعاون کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ اسے منی بل کے طور پر نہ لایا جائے۔ تاہم، اس کے جواب میں ارون جیٹلی نے کہا کہ اپوزیشن جس کی بات کر رہا ہے، یہ بل اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کا مقصد متعینہ لوگوں تک سرکاری اسکیموں کے تحت براہِ راست سبسڈی کا فائدہ پہنچانا ہے۔

سرکار کی کوشش ہے کہ لوگوں تک سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے آدھار اسکیم نافذ کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد حقدار لوگوں تک سبسڈی پہنچانا ہے۔ تاہم ملک کی مختلف تنظیموں کے ذریعہ آدھار سسٹم میں سیکورٹی کے خدشات کو لے کر آوازیں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *