انصاف اسے کہتے ہیں

پس آئینہ

شمس تبریز قاسمی2016-09-24-08-00-19-001
دسمبر ۲۰۱۲ء کی بات ہے، عیش وعشرت اور ناز و نعم میں پلا سعودی شہزادہ ترکی الکبیر اپنے دوست عادل المحیمد کے ساتھ ریاض کے اطراف میں واقع سیاحتی مقام الثمامہ میں تفریح کے لیے جاتا ہے، اس مقام پر پہنچتے ہی ایک خوفناک منظر نظر آتاہے، اسلحہ سے لیس چند نوجوانون آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں، صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے عادل بن سلیمان المحیمد اپنی گاڑی سے اتر کر لڑائی کے مقام کی جانب جاتا ہے، اسی دوران اندھا دھند فائرنگ شروع ہوجاتی ہے، شہزادہ ترکی الکبیر بھی اپنی پستول سے فائرنگ شروع کردیتا ہے، ایک گولی عادل المحمید کو جا لگتی ہے اور پھر اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے، پولس جائے ورادات پر پہنچتی ہے اور شہزادہ سمیت وہاں موجود سبھی افراد کو گرفتار کرلیتی ہے، پولیس تحقیق میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ عادل کی موت شہزادہ کی فائرنگ سے ہوئی ہے، یہ خبر خود شہزاد ہ کے لیے بھی صدمہ کا سبب بنتی ہے، معاملہ عمومی عدالت میں پہنچتا ہے اورصرف تین سال کی مدت میں مکمل تحقیق وتفتیش کے بعد شہزادہ کو عادل المحیمد کے قتل کا مجرم قراردے کر قصاص کی سزا سنائی جاتی ہے۔ اپیل عدالت اور عدالت عظمیٰ میں بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے اور پورا شاہی خاندان بغیر چوں چرا کے نہ صرف عدالت کے اس فیصلے کو تسلیم کرتا ہے بلکہ سزا پر عمل در آمد کے لیے شاہی حکم نامہ بھی جاری کیا جاتاہے، سعوی فرماں رواشاہ سلمان شہریوں کے نام ایک فرمان جاری کرتے ہیں ’’جو کوئی بھی بے گناہ لوگوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا اور ان کا خون بہائے گا تو وہ قانونی سزا سے نہیں بچ سکے گا‘‘۔

دوسری طرف شہزادہ کے اقرباء نے قصاص میں قتل کیے جانے سے بچنے کے لیے مقتول نوجوان عادل المحمید کے اقربا کی دہلیز پر دستک دی، مقتول کے لواحقین کو منہ مانگی دیت دینے کی پیشکش کی، ریاض کے گورنر امیر فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نے بھی مقتول کے لواحقین سے سفارش کی، لیکن مقتول کے والد قصاص پر قائم رہے، بالآخر ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو شام ۴؍ بج کر ۱۳؍ منٹ پر الصفہ مسجد کے مرکزی چوک پر مقتول عادل کے والد کے سامنے شہزادہ ترکی الکبیر کا سر قلم کردیا گیا اور شاہی خاندان کے افراد، ارباب اقتدار نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا۔

شاہی خاندان کا یہ دوسرا فرد ہے جسے قصاص میں قتل گیا گیا ہے۔ قبل ازیں ۱۹۷۰ء کے عشرے میں سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز کو شہید کرنے والے ان کے سگے بھتیجے کو تہ تیغ کیا گیا تھا۔ حالیہ واقعہ کی پہلے سے زیادہ اہمیت ہے کیونکہ یہاں ایک عام شہری کے ناحق قتل میں شاہی خاندان اور شاہ سلمان کے انتہائی قریبی فرد کا قصاص میں سرقلم کیا گیا ہے۔ اس انصاف کے قیام پر سعودی عرب کے تمام شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والوں نے مرکزی اور سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مملکت میں قانون کی حکمرانی کی زندہ مثال ہے۔ ایک شہری کے لیے اس سے بڑھ کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی کہ اس کے ساتھ شاہی خاندان جیسا ہی سلوک کیا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ سعودی عرب میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ ٹوئٹر پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ایک ویڈیو کی بھی گشت کررہی ہے جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’کوئی بھی شخص ان کے خلاف، ولی عہد یا شاہی خاندان کے کسی دوسرے فرد کے خلاف قانونی درخواست دائر کرسکتا ہے‘‘۔

سعودی عرب کا یہ واقعہ پوری دنیا کی عدالت اور حکومت کے لیے نمونہ، مشعل راہ اور عظیم الشان مثال ہے۔ جرائم کے خاتمہ، امن و سلامتی کے قیام، اور شہریوں کو مساوات کا یقین دلانے کے لیے اس بڑی کوئی اورچیز نہیں ہوسکتی ہے۔ یہاں مکمل انصاف بھی ہے اور مظلوم کو انصاف دینے میں تعجیل بھی ہے۔ اسلامی تعلیم کی وہ پوری جھلک نظر آتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شاہ و گدا، امیر وغریب، عربی وعجمی سبھی قانون کی نظر میں یکساں ہیں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آئے اس واقعہ کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے جس میں خاندان قریش کی ایک معزز خاتون پر چوری کا الزام تھا، مقدمہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو آپ نے ہاتھ کاٹنے کی سزا تجویزکی، خاندان کے لوگوں نے حضرت اسامہ بن زیدسے سفارش کرنے کی درخواست کی، نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر غضبناک ہوگئے اور فرمایا کیا تم اللہ کے بیان کردہ حدود میں مجھ سے سفارش کرتے ہو؟ پھر منبر پر کھڑے ہوکر آپ نے فرمایا: تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ ان میں اگر کوئی معزز چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی کمزور چوری میں پکڑا جاتا اس کو سزادی جاتی۔ خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، اور اس خاتون پر حد نافذ کی گئی۔

یہاں بھی وہی معاملہ ہے۔ عدالت شاہی خاندان کے ایک فرد کے خلاف فیصلہ سناتی ہے اور حکومت بسر و چشم اسے قبول کرتی ہے۔شریعت میں دیے گئے حق کا استعمال کرتے ہوئے شہزادہ کو قتل ہونے سے بچانے کے لیے مقتول کے ورثاء کو لاکھوں ریال دیت میں دیے جانے کی پیش کش کی جاتی ہے لیکن مقتول کا باپ سلیمان اسے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ،بادشاہ وقت سے وہ قصاص کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے اور بادشاہ ورثاء پر کوئی دباؤ بنائے بغیر قصاص کو نافذ کرتا ہے جبکہ ہندوستان سمیت دنیا کی عدالتوں میں امیری اور غریبی کی بناپر تفریق کی جاتی ہے۔ شہرت اور عہدہ کے مطابق عدالتوں سے فیصلے سنائے جاتے ہیں، کبھی کسی کو سزا ہوجاتی ہے تو جیل سے رہا کرانے کے لیے دوسرے اسباب اختیار کیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم، صدر اور وزیر سے لے کر ایم پی اور ممبر اسمبلی تک کے معاملوں میں امتیاز برتاجاتاہے،پولیس تھانوں میں ان کے خلاف ایف آئی آر تک قبول نہیں کی جاتی ہے، نہ ہی عام شہریوں کو اتنی جرأت ہوپاتی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف کوئی مقدمہ دائر کرنے کی ہمت کرسکے، اگر کبھی عدالت سے جیل جانے کی سزا سنائی بھی جاتی ہے تو اگلے پل ان کی رہائی کا پروانہ صادر ہوجاتا ہے، جیل جانے کی بھی نوبت نہیں آ پاتی ہے۔ سیاسی رہنما، شوبز اور مالدار کے لیے ڈکشنری میں قانون، جرم اور سزا جیسے الفاظ ہی نہیں ہیں اور نہ ہی جرائم کے ارتکاب کے وقت انہیں کسی قانونی گرفت کا خوف ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرائم کا گراف ان ملکوں میں نہ کہ برابر ہے جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ہے۔ شاہ فیصل جب ہندوستان آئے تھے تو اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈٹ جواہرلال نہرو نے ان سے پوچھا تھا کہ اسلامی قانون کا یہ فلسفہ مجھے میں سمجھ میں نہیں آسکا کہ’’جب ایک شخص کسی کو قتل کر دیتا ہے تو اس کے انتقام میں اسے قتل کیوں کیا جاتا ہے جبکہ قاتل کو قتل کرنے سے مقتول کوکوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے‘‘؟ شاہ فیصل نے پنڈت نہرو سے پوچھا کہ آپ کے یہاں سال میں قتل کے کتنے واقعات پیش آتے ہیں، پنڈت نہرو نے جواب دیا کہ اسے شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ شاہ فیصل نے کہا ہمارے یہاں سالوں سال میں کبھی ایک دو واقعہ اس طرح کا پیش آجاتا ہے، کیونکہ قصاص پورے معاشرہ کو قتل سے روکتا ہے۔

اس پورے فیصلے میں جہاں مکمل مساوات ہے، وہیں تعجیل قابل ستائش ہے۔ گرفتار کیے جانے سے سزا نافذ کیے جانے کا مرحلہ صرف پانچ سالوں پر مشتمل ہے جبکہ دنیا کی عدالتوں میں مظلوم کو انصاف ملنے میں کئی دہائی کا عرصہ گذر جاتا ہے، بطور خاص ہندوستان کا عدالتی نظام اس معاملے میں سب سے زیادہ سست روی کا شکار ہے۔ یہاں انصاف کے لیے سالہا سال درکار ہوتے ہیں، عدالتوں کا چکر لگاتے لگاتے کتنے لوگ خود اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، کبھی داد اکے دائر کیے ہوئے مقدمہ کا تصفیہ پوتا کے بڑھاپے میں ہوتاہے۔ لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، مہنگے ترین وکلاء کی خدمات لینی پڑتی ہے، تب بھی حصول انصاف کی امید دھندلی سی رہتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں حصول انصاف کے لیے عمر نوح، صبر ایوب اور دولت قارون چاہیے۔ اس پورے واقعہ سے مکمل عدل ومساوات، عدلیہ کی خودمختاری، شہریوں کے ساتھ برابری اور مظلومین کو جلد انصاف دیے جانے کا عظیم سبق ملتاہے جس کا نفاذ دنیا کے ہرخطے میں ہونا چاہیے۔ (ملت ٹائمز)
(کالم نگار ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)
stqasmi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *