اسلام دشمنوں کے دوست ایران اور عرب کے حکمراں

عمر فراہی

نئےسال کے دوسرے ہی دن سعودی مملکت نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ۴۷ سیاسی مجرموں کا سر قلم کروا کر اپنے عوام کو یہ پیغام دینےکی کوشس کی ہے کہ سعودی عرب تیونس، مصر اور لیبیا نہیں ہے۔ حکومت کسی بھی طرح کی بغاوت اور سیاسی جدوجہد کو سختی کے ساتھ کچلنے کا عزم رکھتی ہے- سعودی مملکت کے ذریعے سزا دیے جانے والے ان ۴۷ مجرموں میں ایک شیعہ عالم دین باقر النمر کی موت پر ایران نے احتجاج اور مظاہرے کا جو رخ اختیار کیا ہے، اس سے عالم اسلام میں ایران کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے کہ وہ اب صرف خالص شیعی مفاد کا علمبردار ہے۔ حالانکہ ایران اور ایران نواز دانشوروں کی دلیل یہ ہے کہ وہ اس تنازعے سے شیعہ سنی تفریق نہیں پیدا کرنا چاہتے بلکہ ان کا احتجاج سعودی مملکت کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہے جبکہ اگر وہ کسی بھی ظلم اور حکومتی جبر کے خلاف عالم اسلام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے تو ان کے اس احتجاج کی شدت بنگلہ دیش اور مصر کی اسلام دشمن حکومتوں کے خلاف ظاہر ہونی چاہیے تھی جہاں اسلام پسندوں کو پابند سلاسل اور تختہ دار پر چڑھایا جارہا ہے۔

سچ تو یہ کہ ایران اگر عالم اسلام کے ساتھ ہمدردی اور مساوات کا قائل اور متمنی ہوتا تو اسلام پسندوں کے خلاف شام کے ظالم وجابر حکمراں بشارالاسد کی مدد نہ کرتا۔ یہاں پر بھی ایران نوازوں کا کہنا ہے کہ شام کا حکمراں بشار الاسد چونکہ امریکہ اور اسرائیل کا مخالف رہا ہے اس لیے اسلام پسندوں کے مقابلے میں بشار کی حمایت کرنا جائز ہے جبکہ خود بشار الاسد کے والد حافظ الاسد نے شامی عوام اور اسلام پسندوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علویوں اور صہیونیوں دونوں کا اپنا مقصد اور نصب العین اس کے سوا اور کچھ نہیں رہا ہے کہ پورے خطہ عرب سے اسلام پسندوں کا صفایا کردیا جائے۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسد چونکہ بعثی کمیونسٹ عرب قومیت کا علمبردار اور استعماریت کا دشمن ہے اس لیے فلسطین کا حمایتی اور اسرائیل کا دشمن ہے سراسر جھوٹ اور حق و باطل کی تلبیس کے مترادف ہے جبکہ مشرکوں، سرمایہ داروں اور کمیونسٹوں کا مذہب صرف اقتدار ہوتا ہے اور یہ شیطان کے حکم کے مطابق کبھی بھی کسی کے ساتھ اپنی وفاداری بدل سکتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ایران جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا نظام تمدن و سیاست صرف اور صرف قرآن و سنت پر استوار ہے طاغوتی نظریے کو بھی اصولی کہہ رہا ہے۔

جہاں تک فلسطین کا معاملہ ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ صدام حسین سے لے کر کرنل قذافی اور بشارلاسد تک نے صرف اپنے اقتدار کے لیے فلسطینیوں کی مظلومیت اور ان کے خون کو اشتہار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ بھولی بھالی مسلمان قوم جو قبلہ اول کے تعلق سے بہت ہی حساس اور جذباتی ہے اور فلسطینی عوام سے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی ہے، ان کی اخلاقی حمایت حاصل رہے۔ مگر ان حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے نظریاتی میلان کا ثبوت دیتے ہوئے کسی ایسے اتحاد کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کی جو اسرائیل سے فلسطینیوں کی آزادی کے لیے میل کا پتھر ثابت ہوتا۔ مگر اب جبکہ عرب بہار کے بعد عوامی بغاوت کی چنگاری شعلہ بن چکی ہے عرب حکمرانوں نے چونتیس مسلم ممالک کی فوج تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ خود ایران جو ایک زمانے سے اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے اس نے اس معاملے میں اس طرح سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جیسے کہ شامی حکمراں کو بچانے کے لیے اس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے جبکہ امریکہ اور روس کے حواریوں نے بھی اپنے احمق عرب دوستوں کو بیوقوف بنانے کے لیے مختلف معاہدات اور امن کی پیشکش کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو زندہ تو رکھا مگر کوئی ٹھوس حل نہیں نکال سکے۔ اب ایک نوزائدہ تحریک اورعرب نوجوانوں کی بیداری کو کچلنے کے لیے یہ تمام عالمی طاقتیں بھی میدان میں کود چکی ہیں۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ عرب بہار نے عرب کے ہی نہیں پوری دنیا کے مساوات کو بدل دیا ہے۔ اگر انہوں نے عقل سے کام نہیں لیا تو وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہونگے اور جو نہیں مٹ سکتے اقبال نے ان کے بارے میں بہت پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ
یونان و مصر روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

مستقبل کی صورتحال جو بھی ہو مگر ایران اور حز ب اللہ نے ایک ظالم، جابر اور مکار حکمراں کی حمایت کرکے نہ صرف شام کے موجودہ بحران کو پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اس نے مرحوم آیت اللہ خمینی کی اس روایت کو بھی نقصان پہنچایا ہے جو انہوں نے ۱۹۷۹ میں ایک پر امن انقلاب کے بعد قائم کی تھی۔ بدقسمتی سے اس روایت کے اصل قاتل ایران کے سابق صدر احمدی نژاد ہیں جنہیں عالم اسلام میں نہ صرف عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا بلکہ آیت اللہ خمینی کی اسلامی روایت کا علمبردار بھی سمجھا گیا تھا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے ایران کے اس اسلام پسند رہنما احمدی نثراد نے ہی شامی حکمراں کے ساتھ شامی عوام کے قتل عام میں خود کو ایک فریق کے طورپر شامل کرکے تنگ نظری کا ثبوت دیا اور اب یہ مسئلہ پوری ایرانی قوم کی انا کا سوال بن چکا ہے اور پورا ایران اس شک و شبہ میں مبتلاء ہے کہ کہیں یہ تحریک لبنان اور عراق تک طول پکڑ کر اس علاقے میں موجود شیعہ آبادی اوران کی حکومت کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ یہ خدشہ بھی درست ہو سکتا ہے مگر اس کا حل بھی خالص قرآن و سنت کے احکامات پر یقین و عمل سے ہی نکالا جاسکتا ہے نہ کہ کسی ظالم کی مدد و حمایت سے جبکہ اس کا اپنا مستقبل بھی تاریک ہو۔

ایران اور حزب اللہ کے اس ناقص فیصلے سے عالم اسلام دو خانوں میں تقسیم ہوچکا ہے اور جو فائدہ عرب بہار سے عالم اسلام کو ہونا چاہیے تھا وہ ایک سیاسی کشمکش کا شکار ہو چکا ہے، جس کا بہر حال فائدہ اسرائیل کو ہی ہو رہا ہے۔ یعنی ایران اور عراق کے درمیان خلیج کی پہلی جنگ میں جو غلطی سعودی عرب اور کویت نے امریکہ کی امداد لے کر کی تھی ایران کی موجودہ قیادت اور اس کے حمایتی شام کے اندرروس کی مداخلت کے ساتھ وہی غلطی دوبارہ دوہرا چکے ہیں مگر ایران یہ بھول رہا ہے کہ خلیج کی یہ جنگ ایک خالص علاقائی اور سیاسی کشمکش تھی اور ایران کے اس انقلاب سے عراقی حکمراں اور سعودی حکومت دونوں کو خطرہ لاحق ہو چکا تھا جبکہ عالم اسلام کی جہاندیدہ شخصیات، عمائدین کی جماعت منجملہ امت مسلمہ کو اس فساد سے دلی رنج پہنچا تھا۔ خود بعد میں سعودی حکومت نے صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کے لیے شیعہ اور سنی کا مسئلہ کھڑا نہیں کیا اور مرحوم آیت اللہ خمینی نے بھی عراق ایران کی اس جنگ کو شیعہ اور سنی کے رنگ میں نہیں رنگنے دیا۔ بعد کے حالات میں جب احمدی نژاد صدارت کے منصب پر فائز ہوئے تو انہیں بھی عالم اسلام میں شہرت اور عزت ملی اور امت مسلمہ نے اپنا قائد تسلیم کیا کیونکہ وہ ایران کے دیگر صدور کے برعکس مرحوم آیت اللہ خمینی کے زیادہ قریب رہے ہیں اور نظریاتی طور پر ان کی شخصیت شیعہ سنی اتحاد کی علامت کے طور پر مشتہر رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق خود سعودی عوام کی اکثریت نے احمدی نژاد کو عالم اسلام کی قیادت کا اہل قرار دیا تھا۔ خلیج کی اس پہلی جنگ کے دوران ہمارے سامنے سے ایک اچھی خبر یہ بھی گذرچکی ہے کہ سعودی عرب کے اس وقت کے حکمراں اور پاکستان کے فوجی صدر ضیاء الحق کے درمیان یہ خفیہ معاہدہ ہوا تھا کہ پاکستانی حکومت کسی بھی ناگہانی جنگی صورتحال میں سعودی حکومت کی مدد کرے گی جس کے عوض سعودی عرب کی حکومت پاکستان کو ایٹمی اسلحہ کی تیاری میں مالی امداد فراہم کرے گی۔ اس معاہدہ کے تحت خلیج کی اس جنگ کے دوران سعودی حکومت نے ضیاء الحق سے کہا تھا کہ وہ ایران سے قریب سعودی سرحد پر کچھ پاکستانی فوجوں کو تعینات کرے تاکہ عراقی فوجوں کی مدد کی جاسکے۔ ضیاء الحق نے یہ کہتے ہوئے فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا کہ ہمارا معاہدہ کسی غیر مسلم ملک کی طرف سے ممکنہ حملے کی صورت میں طے پایا ہے جبکہ ایران ایک مسلم ملک ہے اور یہ عربوں کا آپسی معاملہ ہے نہ کہ عالم اسلام کا۔ یہ واقعہ کہاں تک سچ ہے یا کہاں تک جھوٹ، مگر ایران ایک شیعہ ملک ہے سعودی عرب سنی ملک ہے اس کے باوجود اہل دانش اور تحریکی علماء کی یہ سوچ بالکل نہیں رہی ہے کہ دونوں میں کوئی تفریق کی جائے اور ہمارے درمیان مشرکین و ملحدین کو مداخلت کا موقع مل جائے جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے اور ہم آج پھر وہی حالات پیدا کررہے ہیں۔

اسی طرح کچھ سال پہلے جب ایران کے جوہری پلانٹ کو لےکر امریکہ اور اسرائیل نے بحران پیدا کیا تو عالم اسلام پوری طرح ایران کے ساتھ رہا۔ اس درمیان یہ بحث بھی چھڑی کہ اگر اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جنگی جہازوں کو ایران تک سفر کرنے میں ایک ہزار میل کا سفر طے کرنا ہوگا اور پھر اس درمیان اگر ایران نے خود اسرائیل کو نشانہ بنا دیا تو صورتحال بہت سنگین ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا سعودی عرب اس دوری کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ اس خبر کے بعد نہ صرف سعودی حکومت نے اس کی تردید کی بلکہ ترکی اور پاکستان نے بھی جو کہ امریکہ کے دوست رہے ہیں، ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی جنگی جہازوں کو پڑاؤ دینے سے انکار کیا۔ اس کے برعکس ایران اور حز ب اللہ نے جو رخ اختیار کیا ہے یہ ایک ایسی سیاسی غلطی ہے جس کا خمیازہ پورے عالم اسلام کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اس طرح ایران نادانستہ طور پر اسرائیلی منصوبے کو بھی تقویت پہنچارہا ہے اور یہ فیصلہ خود اس کے اپنے حق میں بھی نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جو غلطی سعودی حکمراں نے مصر میں کی ہے وہی غلطی ایران نے بھی دہرائی ہے۔ گویا ایران اور سعودی عرب دونوں مل کر اسرائیل کو تحفظ فراہم کرا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *