سرجیکل اسٹرائک کے بعد کا منظرنامہ

rr-tiwariراجیو رنجن تیواری

پاکستان کے خلاف بھارتی فوج کے سرجیکل اسٹرائک کی گونج تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے. نہایت ہی خفیہ طریقے سے ہونے والے اس آپریشن پر اٹھ رہے سوال خود کٹہرے میں ہیں. اقوام متحدہ سمیت پاکستان اور بعض دیگر ملکوں نے بھی اس آپریشن کو مشکوک قرار دیا ہے. کوئی بات نہیں، اگر بھارت کے اس سرجیکل اسٹرائک پر پاکستان کو شک ہے تو وہ نظر انداز کرنے کے قابل ہے. لیکن، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے تبصرے کو ضرور سنگین ماننا چاہئے. اس سب کے باوجود بھارت کے لوگ سرجیکل اسٹرائک پر سوال کرنے سے پہلے کئی بار اس وجہ سے سوچ رہے ہیں کہ کہیں فوج کی حوصلہ شکنی نہ پو، جبکہ پوری دنیا میں شور مچ گیا ہے کہ یہ سرجیکل اسٹرائک نہیں ہے، جو ہندوستانی سیاست کے گلیاروں میں گونج رہا ہے. الفاظ کا خیال کریں، یہ گونج فوجی خیمے میں نہیں، سیاسی گلیاروں میں ہے. اس طرح بھارت میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ افراد کی یہ چاہت ہے کہ پورا ملک ان کے سر میں سر ملائے، جو شاید ممکن نہیں. وجہ واضح ہے، بھارت کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک اسی لئے کہا گیا کہ یہاں غلط کو غلط کہنے اور مخالفت کرنے کی بھی رعایت ہے، لیکن حکمراں پارٹی کے نظریات سے اتفاق رکھنے والے غیراعلانیہ طور پر مخالفین کو غدار قرار دے رہے ہیں. وہ فوج کی کامیابی کو سیاسی حصولیابی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں. جبکہ آج تک یہ نہیں ہوا. اس نئی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش میں مصروف مرکزی حکومت خود ہی الجھتی چلی جا رہی ہے جو سرجیکل اسٹرائک پر سوال کرنے کے لئے لوگوں کو مجبور کر رہی ہے.

اڑی حملے کے بعد پاکستان مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کرکے کئی دہشت گردوں کو مارنے کے لئے کافی تعریف بٹور چکی مودی حکومت اب تنقید میں گھرتی جا رہی ہے. مودی حکومت پر سرجیکل اسٹرائک کا “اعلان” کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے کا الزام لگ رہا ہے. سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کانگریسی لیڈر سندیپ دکشت نے کہا ہے کہ بھارت پہلے بھی ایسے سرجیکل اسٹرائک کرتا رہا ہے لیکن سفارتی خدشات کی وجہ سے اس کا “اعلان” نہیں کیا جاتا تھا. پی چدمبرم نے کہا کہ بھارت نے 2013 میں ایک بہت بڑا سرجیکل اسٹرائک کیا تھا. تب یو پی اے حکومت نے اسٹریٹجک ناکامیوں کے پیش نظر اس کی خبر کو عام نہیں کرنے کا فیصلہ کیا تھا. چدمبرم نے سرجیکل اسٹرائک کے سلسلے میں کسی بھی قسم کا نادانی بھرا فیصلہ لینے سے بچنے کا بھی مشورہ دیا. کانگریسی لیڈر سندیپ دکشت نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے سابق وزراء کو لکھے ایک کھلے خط میں بھی ایسے ہی سوال اٹھائے ہیں. دکشت نے اپنے خط میں اشارہ دیا کہ کانگریس حکومت کے 10 سالہ دور میں بھارت نے کئی سرجیکل اسٹرائک کیے لیکن انہوں نے اس کی تبلیغ نہیں کی. فوج کے کچھ سابق حکام اور کچھ سیکورٹی ماہرین نے بھی اس “اعلان” پر سوال اٹھایا ہے. بھارتی فوج کے کئی سابق افسران نے کہا ہے کہ فوج کی طرف سے کنٹرول لائن اس پار سرجیکل اسٹرائک نئی بات نہیں ہے. بھارتی ایئر فورس کے سابق ایئر وائس مارشل منموہن بہادر نے ایک مضمون میں جولائی 1981ء میں بھارتی فوج کی طرف سے کیے گئے سرجیکل اسٹرائک کی پوری تفصیلات دی ہے.

‘سرجیکل اسٹرائک’ کے بارے میں حکومت سے ثبوت مانگنے پر بی جے پی نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر حملہ بولا ہے. مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا کہ اروند کیجریوال کو سیاسی جنگ میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے کہ فوج کے حوصلے پست ہوں. کیجریوال کو سیاست اور ملک کے مفاد کو آپس میں ملانا نہیں چاہیے. کیجریوال نے ایک ویڈیو میں بھارتی فوج کی کارروائی کی تعریف کی تھی. اس میں انہوں نے کچھ غیرملکی میڈیا اور اقوام متحدہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کا منہ بند کرنے کے لیے سرجیکل اسٹرائک کے بابت ثبوت دے دیں. اس میں کہیں بھی ظاہر نہیں ہو رہا ہے کہ کیجریوال نے کچھ غلط کیا ہے. لیکن وہی بات ہے کہ ‘اندھ بھكت’ چاہ رہے ہیں کہ پورا ملک انہی کی آواز میں بولے. کیا یہ ممکن ہے؟ اگر سرجیکل اسٹرائک کی حقیقت کو غیر ملکی نظروں سے دیکھیں تو اس کا خراب چہرہ ہی نظر آتا ہے، جسے لے کر مودی حکومت اپنی پیٹھ خود ہی تھپتھپا رہی ہے. بی بی سی کے مطابق، جموں و کشمیر کے علاقے میں کنٹرول لائن جن ہرے بھرے پہاڑوں سے ہو کر گذرتی ہے، انہیں دیکھ کر کسی کو بھی بھرم ہو سکتا ہے. دراصل، کنٹرول لائن کو ہی دونوں ملکوں بھارت اور پاکستان کے درمیان عملی طور پر سرحدی لائن مانا گیا ہے. یہ دنیا کا سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ ہے. پاکستانی فوج کچھ صحافیوں کو ان دو مقامات (باگسر اور تتتا پانی) پر لے گئی، جس کے بارے میں بھارت نے دعوی کیا ہے کہ اس نے وہاں ‘سرجیکل اسٹرائک’ کیے ہیں.

بھارت کے سرجیکل اسٹرائک کے دعوے کے اعلان کے فورا بعد ہی پاکستانی فوج نے اسے خارج کر دیا تھا. پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی میڈیا کو الجھن میں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے. پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ميڈيا والے خود    دیکھ لیں کہ کہاں کیا ہوا ہے. پاکستانی فوج بھارت کی جانب سے حملے کی بات سے انکار نہیں کر رہی ہے. لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ روٹین تھا، جو اس علاقے میں ہوتا رہتا ہے، بھارت کا سرجیکل اسٹرائک کا دعوی جھوٹ ہے. اگر واقعی کوئی ‘سرجیکل اسٹرائک’ ہوئی ہوتی تو اموات کی تعداد زیادہ ہوتی اور کافی نقصان ہوا ہوتا. انہوں نے صحافیوں کو کنٹرول لائن پر وہ جگہ بھی دکھائی جہاں سرحد پار سے گولہ باری ہوئی تھی. بتاتے ہیں کہ جب کنٹرول لائن بن گئی اور جنگ بندی ہو گئی، اسی وقت سے سرحد کے دونوں جانب سے فائرنگ ہوتی رہتی ہے. وہ اس بات پر قائم تھے کہ کسی ہندوستانی فوجی نے سرحد پار کرکے پاکستانی ٹھکانوں پر حملہ نہیں کیا. اگر بین الاقوامی میڈیا پر ذرہ برابر بھی بھروسہ کریں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ سرجیکل اسٹرائک فرضی تھی. لیکن، ہم اپنی فوج پر انحصار کرتے ہیں. فوج جو کہہ رہی ہے، اس کو مان لیتے ہیں. لیکن، سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے ااتنا ہنگامہ مچانا تو ٹھیک نہیں ہے. اگر مان لیتے ہیں کہ وہاں سرجیکل اسٹرائک ہوئی تو پھر اس کا مقصد کیا تھا؟ اگر اس کا مقصد شدت پسندوں کے حملوں کو روکنا تھا تو 2 اکتوبر کو ایک بار پھر ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ایک اور شدت پسند حملہ ہوا جس میں ایک نوجوان شہید اور چار زخمی ہوگئے.

اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ سرجیکل اسٹرائک کا اثر نہیں ہوا؟ سلامتی امور کے ماہر کہتے ہیں کہ اس وقت ہندوستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے. بھارتی فوج کے لیے سرجیکل اسٹرائک کو جاری رکھنا مشکل ہے. بھارت کے لیے اس مسئلے پر ایک تعطل سا ہے. کیا کرے کیا نہ کرے. پاکستان کے اندر لشکر طیبہ جیسے غیرریاستی کردار وہاں کی فوج کے قابو میں نہیں ہیں. وہ کسی کی نہیں سنتے. بھارتی فوج نے انہی کو نشانہ بنایا ہے لیکن یہ بار بار نہیں کیا جا سکتا. بتاتے ہیں کہ ہندوستانی سرجیکل اسٹرائک بہت زیادہ سخت نہیں تھی. اس کو فوجی کارروائی سے زیادہ سیاسی ایکشن سمجھیں. مودی کے حامی اب لوگوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا 56 انچ کا سینہ ہونے کا دعوی غلط نہیں ہے. لیکن بھارتی میڈیا میں مچ رہے جشن کا شور جب مدھم پڑ جائے گا تو بہت سے سوالات اٹھ سکتے ہیں. کیا یہ حملے اڑی میں دہشت گردانہ حملوں کا ایک انتقام ہیں؟ کیا یہ بھارت کے پاکستان کے خلاف سالوں کے تحمل برتنے کی پالیسی میں تبدیلی کے آثار ہیں؟ ماہرین مانتے ہیں کہ اس حملے کا مقصد پاکستان کی طرف سے بھارت میں ہو رہے دہشت گردانہ حملوں کو روکنا نہیں تھا. اس سے صرف ایک پیغام دینا تھا کہ ‘ہم اندر گھس کر تمہارا بھی نقصان کر سکتے ہیں.’ کشمیر میں گذشتہ 30 سالوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں شدت پسند حملے کم ہو سکتے ہیں لیکن ختم نہیں. ان حالات میں نریندر مودی اور نواز شریف کے پاس کشمیر کے سلسلے میں بات چیت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے.جنگ کے ذریعہ امن ممکن نہیں ہے. گذشتہ ۷۰ سالوں میں تین جنگ اور سیکڑوں سرحدی جھڑپوں کے بعد مجبوری ہی میں سہی طرفین مذاکرات شروع کرسکتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ مودی نواز کیمسٹری کے دوبارہ ابھرنے کے امکانات فی الحال نظر نہیں آتے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *