تعلیمی اداروں میں ہنگامہ کی تحقیقات کروائیں صدر جمہوریہ: ایس ڈی پی آئی

حیدر آباد سینٹر ل یونیورسٹی اور جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے واقعات کی مکمل جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے دیا میمورنڈم

نئی دہلی ، ۱۵؍ فروری(پریس ریلیز)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی ) نے حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی (ایچ سی یو) سے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) تک کے واقعات کی مکمل تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر جمہوریۂ ہند جناب پرنب مکھرجی کے نام ایک میمورینڈم روانہ کیا ہے۔ میمورینڈم میں ایس

ڈی پی آئی نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہایچ سی یو اورجے این یو کو ملک مخالف مراکز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور طلبہ کی اختلافی آواز کوملک مخالف قراردے کر ان پر ملک سے غداری کے مقدمات درج کیے جارہے ہیں تاکہ ملک کے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ ایس ڈی پی آئی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیاس آرائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جے این یو کے طلبہ جمہوری طریقے سے انصاف کے لیے لڑائی لڑرہے ہیں۔وز یر داخلہ نے جلدبازی میں ایک غلط بیان دے کر ان کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد یہ لازمی ہے کہ اس معاملے کی تحقیق ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یا سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن کے ذریعہ کرائی جائے تاکہ ملک کو آئینی بحران سے بچایا جاسکے۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر ایڈوکیٹ شرف الدین نے کہا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ، حافظ سعید کا حوالہ دے کر ملک کو یہ سمجھا نے کی کوشش کررہے ہیں کہ جے این یو کے طلبہ نے جمہوری طور پرجو احتجاج کیا تھا وہ ملک مخالف ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل تشویش ہے کہ وزیر داخلہ ملک دشمن عناصر کے مذکورہ ٹوئٹ کا سہارالے کرجے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کا جواز پیش کررہے ہیں جبکہ اس معاملے میں مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکز میں این ڈی اے حکومت کے قیام کے بعد سے ملک جعلی پروپگنڈے اور تنازعات کا شکار ہے۔ آر ایس ایس ، وی ایچ پی اور بی جے پی کے رہنما لوجہاد اور گھر واپسی جیسے جھوٹے پروپگینڈے کرکے ملک کے عوام کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی نے ایک کانفرنس کے ذریعے ملک کے عوام کو یہ جتانے کی کوشش کی کہ روہت ویمولا دلت نہیں ہے اور اس جھوٹ کو سچ کرنے کے لیے پوری انٹلی جنس مشینری کا استعمال کیا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے حافظ سعید کے نام سے جاری کیے گئے ایک ٹوئٹ کے ذریعے جے این یوطلبہ کے احتجاج کو وطن مخالف قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ان کی گرفتاری اور ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اس ٹوئٹ کاسہارا لیا ہے جبکہ و زیر داخلہ کے اس بیان کو میڈیا نے تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کردیا ہے۔ لہذاایچ سی یوسے لے کر جے این یوتک کے معاملات کی مکمل طور پر تحقیق کرنا بے حد ضروری ہے۔ طلبہ پر غداری اور بغاوت کا الزام لگا کر ان کے کردار پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے جبکہ وہ جمہوری طریقے کا استعمال کرتے ہوئے اپنی بات کہتے ہیں اور ایک جمہوری ملک میں اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، یونین لیڈر اور سیاسی کارکنان جو آر ایس ایس کے نظریے کی مخالفت کرتے ہیں ان کو نشانہ بناکر غیر قانونی طور سے ان پر بغاوت اور غداری کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔این ڈی اے حکومت اس طرح کے بناوٹی واقعات کے ذریعے ملک میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کرتی آرہی ہے۔ ملک میں فرقہ وارانہ ذہنیت میں اضافہ ہورہا ہے، ذات پات کی دہشت گردی کے ذریعے دلتوں کے بچوں کو زندہ جلا یا جارہاہے۔ ان حالات میں وزیر داخلہ کی طر ف سے اس طرح کے بیانات کا جاری کیا جانا خطرناک ذہنیت کی علامت ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ملک کا مستقبل خطرہ میں ہے۔ ملک ایسے راہ پر چل پڑا ہے جہاں خود اس کے جمہوری نظام پر سوال اٹھنے لگا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *