ایس ڈی پی آئی کے۳۳؍ امیدوارتمل ناڈو و پڈوچیری کے انتخابی میدان میں

SDPI Puduchery

چنئی، (پریس ریلیز): سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی) کی تمل ناڈو شاخ کے صدر دہلان باقوی نے اپنے پریس بیان میں کہا ہے کہ پارٹی نے ۱۶؍مئی ۲۰۱۶ء کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تمل ناڈو کی ۲۳۴؍اسمبلی نشستوں میں ۳۰؍امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔اس کے علاوہ پڈوچیری کے ۳۰؍اسمبلی حلقوں میں سے پارٹی کے تین امیدوار انتخابی میدان میں ہونگے۔ان میں کارائیکال جنوب اسمبلی حلقہ سے محمد بلال، نراوی تروپٹنم اسمبلی حلقہ سے سلطان غوث، ولیانور اسمبلی حلقہ سے رفیق منصور ایس ڈی پی آئی کے امیدوار ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست تمل ناڈواور پڈوچیر ی میں ایس ڈی پی آئی کو الیکشن کمیشن نے ’’گیس سلینڈر” نشان مختص کیا ہے۔ تمل ناڈو اور پڈوچیری کے جملہ۳۳؍ پارٹی امیدواروں نے اپنے پرچۂ نامزدگی داخل کردیا ہے۔

ریاستی صدر دہلان باقوی نے زور دے کر کہا کہ ایس ڈی پی آئی نے تمل ناڈو اور پڈوچیری کے جملہ ۳۳؍امیدواروں میں خود غرض سیاست کو شکست دینے اور عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے اپنے نعرے اور اصول پر عمل درآمد کرتے ہوئے تین علماء ،ایک خاتون اورتین ایس سی امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ایس ڈی پی آئی کا بنیادی اصول ہی یہی ہے کہ امیدواروں کے انتخابی اخرا جات پارٹی کی ذمہ داری ہے ۔ انتخابات میں امیدواروں کو اپنی طرف سے خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ ایس ڈی پی آئی کا ماننا ہے کہ امیدوار جب اپنی جیب سے خرچ کرے گا تو وہ لازمی طور پر رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ بن کر اپنے خرچ کیے ہوئے روپے کئی گنا زیادہ واپس اٹھانے کی کوشش کرے گا ۔ آج اکثر سیاسی پارٹیاں اور سیاست دان یہی کررہے ہیں ۔ملک کے وسائل کو اندھا دھند لوٹا جارہا ہے اور ملک کے عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔بس اسی سیاسی لوٹ مار اور بدعنوانیوں کے خاتمہ اور سیاست میں بدلاؤ لانے اور عوام کی بے لوث خدمت کرنے کے لیے ایس ڈی پی آئی کے نام سے سیاسی تحریک شروع کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *