ایس ڈی پی آئی کا تمل ناڈو میں اسمبلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

photo tn

(تہلان باقوی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے)

 

چنئی ،(پریس ریلیز):

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ۱۵؍ فروری کو چنئی میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں ریاستی صدر تہلان باقوی کی قیادت میں منعقد ہوا۔ اس میں تمام اضلاع کی ورکنگ کمیٹی کے اراکین شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری افسر پاشا نے بھی شرکت کی ۔ اس اجلاس میں تمل ناڈو اسمبلی انتخابات ۲۰۱۶ء میں دیگر پارٹیوں سے اتحاد، انتخابات کی تیاریاں، انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے کے لیے حلقوں کی نشاندہی کے تعلق سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس کے بعد ریاستی ورکنگ کمیٹی نے ریاست کے ۲۳۴؍ حلقوں میں اسمبلی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلہ سمیت کل سات قراردادیں منظورکی۔
پارٹی نے تمل ناڈو میں ۱۰؍سال سے زائد جیل میں بند عمر قید کی سزا سنائے گئے قیدیوں کو رحم کی بنیاد پر رہا کرنے کے لیے ریاستی حکومت سے فوری اقدام کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح ہو کہ تمل ناڈو میں ۱۰؍ سال سے زائد جیل کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کو رحم کی بنیاد پر رہا کیا جانے کا معمول تھا ، لیکن اے آئی اے ڈی ایم کے کے اقتدار میں آنے کے بعد قیدیوں کی رہائی کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ۵۰؍سے زائد مسلم قیدی ۱۰؍سے ۱۸؍سال اور۲۵؍سال سے زائد سے قید کی سزا کاٹ رہے سانتن ، مروگن ، پیراریوالن کی رہائی کے مطالبہ پر بھی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ عمر قید کی سزا کاٹ رہے قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے آئین ہند میں دفعہ ۱۶۱کے تحت ریاستی حکومت کو اختیار حاصل ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ۱۰؍سال قید کی سزا کاٹ چکے قیدیوں کو رہا کرنے کے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
تمل حکومت نے اپنے ایک سرکاری حکم نامہ میں کہا ہے کے اعلی سرکاری افسران پر رشوت یا بدعنوانی کا الزام لگا یا جاتا ہے تو ان پر کارروائی کرنے سے پہلے تمل ناڈو حکومت کی اجازت لینی ہوگی۔ تمل ناڈو حکومت نے نچلی سطح کے تمام سرکاری افسران کو بھی اس قانون کے دائرے میں لاتے ہوئے ایک حکم نامہ جاری کیاہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اپنی اس قراردار میں تمل ناڈو حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے حکم نامہ سے سرکاری انتظامیہ میں رشوت اور بدعنوانی میں مزید اضافہ ہوگا، لہذا تمل ناڈو حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حکم نامہ کو واپس لے۔ مرکزی حکومت نے گذشتہ ۲۸؍جنوری کو۷۶؍ دواؤں کو برآمد ٹیکس سے مستثنی قرار دیا ہے جبکہ پہلے ہی سے دواؤں کی قیمت بڑھتی جارہی ہے ، جس سے متوسط اور غریب طبقات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت اس ہدایت کو واپس لے۔
حال ہی میں چنئی میں شدید بارش کے بعد آئے سیلاب سے جو نقصانات ہوئے ہیں اس کی اصل وجہ بغیر منصوبہ کے شہر کی توسیع ہے۔ خاص طور پر پانی کے ذخائر کے قریب اراضی پر قبضہ اور عمارتوں کی تعمیر کرنے کے سبب بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ تمل ناڈو حکومت کو چاہیے کہ وہ دوسری ریاستوں کی طرح پانی کے ذخائر سے ۱۰۰؍میٹر دور تک کوئی بھی عمارت تعمیرکرنے کی اجازت نہیں دے۔
اس کے علاوہ تمل ناڈو کے تروتانگوٹل نامی علاقے میں جھوٹے الزامات عائد کرکے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے پورے مسلم سماج کو دہشت گردثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پولس محکمہ کے کچھ افسران مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایس ڈی پی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ تمل ناڈو حکومت اس معاملہ میں سنجیدگی سے مداخلت کرے اور پولس حکام پر کارروائی کرے۔ ایک اور قرارد اد میں ریاستی ورکنگ کمیٹی نے اسٹیٹ سکریٹریٹ کو انتخابی اتحاد، امیدواروں کے انتخاب وغیرہ کا اختیار دیا۔ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں تمل ناڈو کے ۴۰؍ اضلاع سے پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ ہی ر یاستی صدر اور جنرل سکریٹری نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *