ایس ڈی پی آئی کے وفد نے فساد متاثرہ بہرائچ کا دورہ کیا

متاثرین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ، حکومت قصورواروں کو این ایس اے کے تحت گرفتار کرےimg-up-one
نئی دہلی ( پریس ریلیز):
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی )کے قومی صدر اے سعید کی قیادت میں ایک وفد نے اتر پردیش کے بہرائچ ضلع کے گمن خان فساد متاثرہ گاؤں کا دورہ کیااور متاثرین کو تسلی دی۔ یاد رہے کہ اس گاؤں میں۱۴؍اکتوبر کو مسلمانوں کے گھروں پر سفاکانہ حملہ کیا گیا تھا۔ مورتی وسرجن کے لیے جارہے ایک جلوس میں شامل لوگوں نے شام کے وقت گاؤں کی ایک مسجد کے روبرو شر انگیز ی کرنے کے لیے ڈیرہ ڈال دیا تھا۔ تقریبا ۸۰۰؍افراد پر مشتمل ہجوم نے نعرے بازی کے ساتھ ہی مسجد پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا تھا۔ دریں اثناء ضلع پریشد اور بی جے پی کے رکن اوم کار چورسیہ نے ہجوم سے کہا کہ وہ گھروں کو جلا دیں۔اس کے بعد بلوائیوں نے تقریبا ۴۱؍گھروں کو جلا کر خاکستر کردیا اور اپنی جھونپڑی کے باہر سورہی ایک چھ سالہ معذور بچی کو زندہ جلا دیا ۔ نورجہاں نامی خاتون کی چھ ماہ کی بچی کو بھی بلوائیوں نے آگ میں پھینکنے کی کوشش کی لیکن بچی کی ماں کی مزاحمت کے سامنے وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ گاؤں والوں کے مطابق اس دن بلوائیوں نے عصمت دری کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ اس فساد کے دوران اوم کار چورسیہ کے علاوہ ایک اور ضلع پریشدممبرپیشکار یادو، وریندر اوستھی اور بی جے پی لیڈر سنجیو گپتا اس ہجوم میں شامل تھے اور ہجوم کو حملہ کرنے پر اکسا رہے تھے۔ ایس ڈی پی آئی کے وفد کو یہ جانکاری دی گئی کہ پولیس نے اس فساد میں ملوث معروف افراد کے ناموں کا اندارج نہیں کیا ہے اور ایک کمزور ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس گاؤں میں رہنے والے بالکل غریب ہیں اور چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کی اپنی کوئی زمین بھی نہیں ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے وفد نے حکومت کی جانب سے مضحکہ خیز انداز میں حساب کرکے فوری امداد کے طور پر ۷۹۰۰؍روپے جاری کیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے حیران کن قرار دیا ہے۔ایس ڈی پی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کے گھروں کو فوری طور پر تعمیرکرکے دیا جائے، نیز موٹر گاڑیاں، جانور، سازوسامان، کپڑے اور کھانے پینے کا جوسامان جلا یا گیا ہے، اس کا بھی مناسب معاوضہ فوری طور پر جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایس ڈی پی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فساد کے دوران جلا کر ماری گئی سونی نامی بچی کے لواحقین کو معاوضہ کے طورپر جوسات لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے، اس کو بڑھا کر ۲۰؍لاکھ روپے دیا جائے جیسا کہ حکومت دوسرے معاملوں میں کرتی رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے قصوراروں کونیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے )کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔ایس ڈی پی آئی کے وفد میں قومی نائب صدر ایڈووکیٹ شرف الدین احمد، قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع اور پارٹی کے دیگر کارکنان شریک تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *