تنزیل احمد قتل معاملہ کی ایس آئی ٹی سے جانچ کرائی جائے

ایس ڈی پی آئیکے قومی نائب صدر ایڈووکیٹ شرف الدین احمد کی قیادت میں ایک وفدنے شہید این آئی اے افسر کے اہل خانہ سے ملاقات کی
IMG FOURبجنور (اتر پردیش)، ۷؍ اپریل :
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی نائب صدر ایڈووکیٹ شرف الدین احمد کی قیاد ت میں ایک وفد نے شہید این آئی اے افسر تنزیل احمد کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کے المناک قتل پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اہل خانہ سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنزیل احمد کے قتل کے معاملے میں تحقیقات کو بے معنی رخ دیا گیا ہے۔ تنزیل احمد این آئی اے کے بڑے افسر تھے اور پٹھان کوٹ سمیت بہت سارے معاملات کی تحقیقی ٹیم میں وہ شامل تھے۔ پاکستا ن سے جو ٹیم آئی اس وقت وہ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ دو دن قبل لکھنؤ سے اترپردیش اے ڈی جی( لاء اینڈ آرڈر)دلجیت سنگھ چودھری آئے تھے اور انہوں نے اس معاملے کو دوسرا رخ دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ مقتول تنزیل احمد کا قتل ذاتی وجوہات کی بنیاد پر ہوا ہے۔

ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفد نے گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد ان حقائق کا پتہ چلا یاکہ اے ڈی جی کے آنے کے بعد ایک درجن سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مقتول این آئی اے افسر تنزیل احمد کے گھر والوں کا یہ کہنا ہے گرفتار شدہ سبھی افراد بے قصور ہیں۔ گاؤں اور گھر والوں کا کہنا ہے کہ مقتول تنزیل احمد کی کسی سے ذاتی دشمنی یا رنجش نہیں تھی۔ مقامی لوگوں کے ساتھ بھی ان کا کوئی جھگڑا نہیں اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا مقدمہ تھا۔ وہ ایک سنجیدہ اور ایماندار افسر تھے اور ان کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

اے ڈی جی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتر پردیش اے ٹی ایس بھی اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے جس سے یہ بات صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ اتر پردیش حکومت اور مرکزی حکومت میں ساز باز ہے۔ اس کی وجہ سے تنزیل احمد کے قصبے کے لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں اب تک دو مسلم پولیس افسروں کا قتل ہوا ہے۔ تنزیل احمد سے پہلے ۲۰۱۳ء میں ضیاء الحق کا قتل ہواتھا جو ایک نہایت ایماندار پولیس افسر تھے۔ اس قتل معاملے میں سماج وادی پارٹی کے کابینی وزیر راجا بھیا کا نام آیا تھا۔اترپردیش حکومت نے اس تفتیش کو بھی اسی طرح بے معنی رخ دیا تھا اور بعد میں راجا بھیا کو کلین چٹ دلوائی تھی۔ اترپردیش حکومت نے جہاں مقتول ڈی ایس پی ضیاء الحق کے گھر والوں کو۵۰؍لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری نوکری دی تھی اسی طرح ان کے قاتل کلو یادو کے فیملی کو سرکاری نوکری اور ۵۰؍لاکھ روپے کا معاوضہ دیا تھا۔ یعنی مقتول اور قاتل دونوں کوبرابری کا درجہ دیا جو کہ مضحکہ خیز بات ہے۔

سماج وادی پارٹی کی حکومت اس سے مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ بڑے بڑے مسلم افسران بھی اس کے دور اقتدار میں محفوظ نہیں ہیں۔ اس سے یہ شبہ ہورہا ہے کہ مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کے درمیان ساز با ز ہے۔ ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی پوری ایمانداری کے ساتھ تحقیقات ہونی چاہیے اور اس کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے اور اس قتل کے پیچھے جو اصل قصوروار ہیں ان کو فوری طور پر گرفتارکیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا کے ذریعہ غلط خبر دینے سے باز آئے ۔ ایس ڈی پی آئی اس بات کی سخت مذمت کرتی ہے کہ اے ڈی جی نے تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ، بغیر کسی ثبوت کے صرف قیاس آرائی کی بنیاد پر یہ کہہ دیا کہ تنزیل احمد کا قتل ذاتی وجوہات کی بنیاد پر ہوا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولس موقعۂ واردات سے بالکل ۱۰۰؍میٹر دوری پر تھی۔ تنزیل احمد پر ۲۸؍ گولیا ں چلائی گئیں لیکن پولیس نے اس کا کوئی نوٹس لیا یہ تعجب خیز بات ہے۔ اس کے علاوہ جس سرکاری اسپتال میں انہیں داخل کیا گیا ، وہاں ان کا علاج نہیں ہوسکا اور انہیں مرادآباد اسپتال لے جا یا گیا اور راستے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ ایڈووکیٹ شرف الدین نے سوال اٹھا یا کہ آخرانتظامیہ اتنے بڑے افسر کو فوری طور پر مدد فراہم کیوں نہیں کراسکی؟ اس کے بجائے ایک آدمی جس نے اس حادثہ کے تعلق سے پولیس کو۱۰۰؍نمبر پر اطلاع دی تھی اس کو پریشان کرنے میں لگ گئے اور ایک این آئی اے افسر کو اسپتال لے جاکر علاج کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔

ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے کہا کہ سہسپور قصبہ میں جو بند کا اعلان کیا گیا ہے اس کا ایس ڈی پی آئی بھر پور حمایت کرتی ہے اور اس معاملے میں جب تک اصل قصورواروں کو سزا نہیں مل جاتی ایس ڈی پی آئی آئی اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔ اس وفد میں مظفر نگر کے ایس ڈی پی آئی ضلع صدر محمد کامل، اسمبلی حلقہ صدر راشد ملک، محمد عابد، بجنور کے ضلع صدر محمد ارشد شیخ، اتر پردیش کے کو آرڈینٹر صادق سراف، نفیس احمد، ریاست دہلی کے نائب صدر عرفان احمدا ورفرید احمد شریک تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *