ایس ڈی پی آئی کی توسیع کے لیے بہت محنت کی ضرورت: اے سعید

1بنگلور،( پریس ریلیز): ریاست کرناٹک کی راجدھانی بنگلورومیں واقع ہوٹل کنشکا میں۱۱؍جنوری کو ایس ڈی پی آئی کی قومی ورکنگ کمیٹی کااجلاس منعقدکیا گیا جس میں ملک بھر سے مختلف ریاستوں سے آئے پارٹی کی قومی ورکنگ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ ایس ڈی پی آئی قومی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت پارٹی کے قومی صدر اے سعید نے کی۔ اپنی افتتاحی تقریر میں انہوں نے کہا کہ سیاسی سفر میں ایس ڈی پی آئی کے بڑھتے ہوئے قدم ہمارے لیے باعث مسرت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی نے مختلف انتخابات میں حصہ لے کر انتخابی سیاست میں کافی تجربہ حاصل کیا ہے ۔

انہوں نے بہار انتخابات کے نتائج پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمیں اچھا پیغام دیا ہے کیونکہ فسطائی طاقتوں کو سبق آموز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس سے ان کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے جرأت مندی کے ساتھ اپنی جدوجہد اور محنت جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔اس کے ساتھ ہی اخلاقی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہوئے اور اپنی کمزوریوں کو پہچان کرہمیں اپنا سیاسی سفر جاری رکھنا ہے۔ زمینی سطح پر ہماری فعال موجودگی اور کارگردگی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم ملک میں ایک متبادل سیاسی قوت بن سکتے ہیں۔

اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری افسر پاشا نے اگست تا دسمبر۲۰۱۵ کے لیے پارٹی کی سہ ماہی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس میں انہوں نے ایس ڈی پی آئی کی جانب سے منعقد ہ احتجاجی مظاہروں کی تفیصلات بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ان تین مہینوں میں سات احتجاجات کا انعقاد کیا۔ دہلی میں اورنگ زیب روڈ کے نام میں تبدیلی کے خلاف ۳۱؍اگست کو جنتر منتر پر احتجاج کیا گیا۔ محمد اخلاق کے بہیمانہ قتل کے خلاف دواکتوبر کو سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کی دہلی میں واقع رہائش گاہ کے قریب احتجاجی دھرنا دیا۔ دلتوں پر ڈھائے جارہے مظالم کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر دہلی پر دھرنا دیا گیا نیز دیگرکئی ریاستوں کے دارالحکومتوں میں احتجاجی دھرنے دیے گئے۔ ۲۴؍اکتوبر کو قومی صدر اے سعید کی قیادت میں فرید آباد، ہریانہ میں ان بچوں کے زخمی ماں باپ سے ملاقات کی گئی جن کو زندہ جلادیا گیا تھا۔یکم نومبر کو دہلی میں سکھ قتل عام کے خلاف سکھ تنظیموں کے ساتھ مشترکہ طور پر ریلی اور عوامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔۶؍دسمبر کومنڈی ہاؤس تاجنتر منترایک ریلی نکالنے کے ساتھ ہی عوامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں کئی دوسری تنظیموں نے بھی شرکت کی۔اسی طرح ڈی ڈی سی اے بدعنوانی معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ارون جیٹلی کو وزیر خزانہ کے عہدے سے برطرف کرنے کے مطالبہ کے ساتھ نئی دہلی میں احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا۔

افسر پاشا نے انتخابی میدان میں ایس ڈی پی آئی کی کارگردگیوں کے تعلق سے تفصیل پیش کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی نے کرناٹک میں بی بی ایم پی (بروہن بنگلور مہانگر پالیکا) انتخابات میں حصہ لیا ، جس میں سدپورا وارڈ سے پارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ کئی نشستوں پر پارٹی نے بہتر کارکردگی کرتے ہوئے دوسرا اور تیسر ا مقام حاصل کیا۔بہار اسمبلی انتخابات میں چارحلقوں میں ایس ڈی پی آئی نے انتخابی میدان میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے لیکن توقع کے مطابق کارگردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ گواکے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کے امیدواروں نے دوسری پارٹیوں کوسخت ٹکر دی۔

اس کے علاوہ ایس ڈی پی آئی نے قومی سطح پر’’فرقہ وارانہ دہشت گردی مخالف مہم ‘‘کا انعقاد کیا۔ اس مہم کا مقصد فرقہ وارانہ طاقتوں کے مظالم ، اشتعال انگیز بیانات اور تشدد کے خلاف عوام کو متحد اور بیدار کرنا تھا۔ اس مہم میں خاص طور پر ملک میں دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور ترقی پسندوں پر حملوں کے خلاف ، نکڑ میٹنگ، نکڑ ناٹک، مشاعرے، پریس کانفرنس ، عوامی اجلاس اور سمیناروں کے علاوہ ۲۱؍دسمبر کو ترکمان گیٹ سے جنتر منتر تک ’’پارلیمنٹ مارچ‘‘کا انعقاد کیا گیاجس میں کم وبیش پانچ ہزار سے زیادہ افرادکے علاوہ ملک وملت کی کئی معروف شخصیات نے حصہ لیا۔ ریلی کے بعد ایس ڈی پی آئی کے قومی عہدیداروں نے صدر جمہوریۂ ہند کو میمورینڈم پیش کیا جس میں ملک میں بدامنی پھیلانے والے فرقہ وارانہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ملک بھر میں منعقدہ مذکورہ فرقہ وارانہ دہشت گردی مخالف مہم کے دوران ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس کے بعد قومی ورکنگ کمیٹی میں دو اہم قراردادیں منظورکی گئیں۔ پہلی قرارداد میں وی ایچ پی کے ذریعہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے خلاف سخت تشویش کا اظہا ر کیا گیا ۔ قومی ورکنگ کمیٹی نے اپنی اس قرارداد میں کہا کہ اس بات سے سب واقف ہیں کہ بابری مسجد میں وی ایچ پی سمیت کوئی بھی اس اراضی معاملہ میں کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔اسی کے ساتھ مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے اور اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے مدنظر سیاسی فائدے حاصل کرنے والوں کی مجرمانہ سرگرمیوں پر روک لگائے۔
ایس ڈی پی آئی قومی ورکنگ کمیٹی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ عناصرکے جال میں نہ پھنسیں اور بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ کی آڑ میں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے والے عناصر سے ہوشیار رہیں۔

ایس ڈی پی آئی قومی ورکنگ کمیٹی کی دوسری قرارداد میں جوینائل جسٹس ایکٹ میں جلد بازی میں ترمیم کرنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت کی اس بات کے لیے تنقید کی کہ اس نے دائیں بازو کے ذریعہ سڑکوں پر کیے گئے مظاہروں کے دباؤ میں آکر اس ایکٹ میں ترمیم کی ہے۔اس کے ساتھ ہی حکومت نے دونوں ایوانوں میں آئین کے بنیادی اصولوں کو مجروح کرتے ہوئے اس قانون میں ترمیم کرنے میں جلد بازی کی ہے۔ قومی ورکنگ کمیٹی میں قومی صدر اے سعید، نائب صدر نازنین بیگم، سام کٹی جیکب، قومی جنرل سکریٹری افسر پاشا، محمد شفیع، الیاس محمد تمبے، ایم کے فیضی، قومی سکریٹری عبد المجید فیضی، ایم رفیق جبار ملا، عبد الوارث، یاسمین فاروقی ، قومی خازن محمد شہاب الدین اور سابق قومی صدر ای ابوبکر سمیت ملک بھر سے ۴۰؍سے زائد اراکین نے شرکت کی۔ ایس ڈی پی آئی قومی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پرایس ڈی پی آئی نائب صدر ایڈووکیٹ شرف الدین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *