مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کوایس ڈی پی آئی کی حمایت

نئی دہلی( پریس ریلیز) :
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے اقدامات کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کے موقف کی پر زور حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کیا ہے کہ وہ لاء کمیشن کے سوالنامے کا جواب نہ دیں اور سوالنامے کا بائیکاٹ کریں۔ پارٹی نے سوالنامے کے تعلق سے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں بالواسطہ طور پر ہندو راشٹرا نظریہ قائم کرنے کی یہ ایک

اے سعید
اے سعید

سازش ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر اے سعید نے ایک اخباری بیان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاء کمیشن کی جانب سے یکساں سول کوڈ پر رائے عامہ حاصل کرنے کے فیصلے سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بری طرح متاثر ہوسکتا ہے اور جب یکساں سول کوڈ کا نفاذ ہوگا تو ملک کی اجتماعیت ختم ہوجائے گی اور سب کو ایک ہی رنگ میں رنگا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ سوالنامے سے لاء کمیشن کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔ سوالنامے میں کچھ ایسے سوالات موجود ہیں جس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس سوالنامے سے کسی ایک خاص مذہب اور ان کے پرسنل لاء کونشانہ بنا یا جارہا ہے۔ اے سعید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلاق ثلاثہ سے منسلک پیچیدگیوں کی مخالفت کے بہانے حکومت بھارتی آئین میں دی گئی مذہبی آزاد ی کی ضمانت کو چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔ بھارت ابھی تک اس طرح کے متنازعہ مسائل حل کرنے کے قابل نہیں ہے جو صرف سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔ بھارتی آئین میں یہ حق حاصل ہے کہ حکومت ان مسائل کواس وقت ہی اٹھائے جب مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس سلسلے میں اتفاق رائے قائم کرنے کے قابل ہوں۔انہوں نے تمام سیکولر پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اقدام کی سخت مخالفت کریں۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق شادی اور طلاق سے منسلک لوگوں سمیت خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرے ۔ بورڈکی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا حل نکالا جائے جس سے کہ یکساں سول کوڈ کے بغیر خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔ اے سعید نے مزید کہا ہے کہ یہ ایک عالمگیر اتفاق رائے ہے کہ صرف ر یاست قانون کا واحد ذریعہ نہیں ہے ۔تکثیری قانونی نظام جدیدجمہور ی ممالک میں غالب ہے۔ انہوں نے کہا ہے سنگھ پریوار میں سے کوئی یہ سوچے کہ قوانین کا ایک خاص مجموعہ یکساں سول کوڈ کی نمائندگی کرتے ہیں صرف اس کے لیے مذہبی اقلیتوں کو ذاتی حقوق سے محروم کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک سنگین غلطی ہوگی اگر ریاستی پالیسی کے ڈائریکٹیو پرنسپل میں یکساں سول کوڈ کی سفارش کی جائے۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اگر کوئی یکساں سول کوڈ کے ایک ڈائریکٹیو پرنسپل نافذ کرنے پر زور دیا جاتا ہے تو کوئی بھی دوسرے ڈائریکٹیو پرنسپل کی عدم نفاذ پر بات نہیں کرتا جو سب سے زیادہ اہم ہیں جس میں کام کرنے کی آزادی،اجرت،چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز سے گریز کرنے اور یادگاروں کے تحفظ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *