سات نکاتی پروگرام میں تیزی لانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کی جائزہ میٹنگ

سات نکاتی پروگرام میں تیزی لانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کی جائزہ میٹنگ

سہرسہ(جعفرامام قاسمی)آج ضلع کلکٹریٹ میٹینگ ہال میں ضلع کی مقامی سڑکوں کی خراب صورت حال کاجائزہ لینے اورسات نکاتی پروگرام میں تیزی لانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ شیلجاشرماکی صدارت میں ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی۔میٹنگ میں محکمہ تعمیرات اورترقیاتی امور کے افسران کے علاوہ بڑی تعداد میں سول انجینئروں نے شرکت کی۔دوران میٹنگ ڈی ایم شیلجاشرمانے سات نکاتی پروگرام کی سست رفتاری اورضلع کی مقامی سڑکوں کی خراب صورت حال پرفکرمندی کااظہارکرتے ہوئے انہوں نے موقع پرموجود افسران کو اس تعلق سے کئی ہدایات دیے۔انہوں نے سات نکاتی پروگرام کے تحت ”ہرگھرنل کاجل”پروگرام کاجائزہ لیااوراس پروگرام کی سست رفتاری پراظہارافسوس کرتے ہوئے اس میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ وہیں انہوں نے “ہرگھرنل کاجل”پروگرام کوسوفیصدکامیاب بنانے کے لیے ضلع کے سبھی وارڈوں میں اس کام کوشروع کرنے کاحکم دیا۔میٹنگ میں”اسٹوڈینٹ کریڈٹ کارڈ”کی حالیہ رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں بتایاگیاکہ امسال 917کامطلوبہ ہدف پوراکرلیاگیاہے۔جب کہ امسال مطلوبہ تعداد سے دوگنی درخواستیں  موصول ہوئی ہیں۔اس پرخوشی کااظہارکرتے ہوئے ڈی ایم صاحبہ نے کہاکہ اس پروگرام میں مزیدتیزی لانے کے لیے چندافراد کی ٹیم بناکربلاکوں اورہائی اسکولوں میں جایاجائے اورزیادہ سے زیادہ درخواستیں وصول کی جائیں۔

وہیں ڈیم ایم شیلجاشرمانے ضلع کی مقامی سڑکوں کی خراب صورت حال پرناراضگی جتاتے ہوئے موقع پرموجود متعلقہ افسران کو ان کی جلد تعمیرکی ہدایت دی۔اورکہاکہ اس میں سستی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ سڑکوں کی ڈھلائی کامعیارعمدہ ہوناچاہیے۔انہوں نے اس کی نگرانی کے لیے ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ سڑکوں کی ڈھلائی کے وقت متعلقہ جونیئرانجینئروں کی موجودگی لازم ہے۔اگرسڑکوں کی معیارتعمیرمیں کوئی کمی پائی گئی توان پرسخت کارروائی کی جائے گی۔ڈی ایم نے ہدایات دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مقامی کاموں کی نگرانی کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بنایاجائے جس میں سبھی بلاک کے ترقیاتی افسران کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس گروپ میں  اپنے حلقے میں سڑکوں کی ہورہی تعمیرسے متعلق ایسی تصویریں ڈالیں جو متعلقہ سڑک کے  تعمیری نقص اور کمی پردلالت کرتی ہوتاکہ فورااس پرکارروائی کی جاسکے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply